Daily Mashriq


ووٹ کی زینت

ووٹ کی زینت

میں نئے انتخابات کی فضا نمودا ر ہونے لگی ہے تمام ہی سیاستدانوں کے بیانات سے سیاسی کم مگر انتخابی بیانات کی بو زیادہ آنے لگی ہے۔ نواز شریف جو مدتوں سے پشاور کو بھلائے بیٹھے تھے انہوں نے گزشتہ ہفتے کے دن پشاور میں ایک بڑا اورکامیاب جلسہ کر دکھایا اور یہ ثابت کرنے کی سعی کی کہ صوبہ کے پی کے اب بھی مسلم لیگ کا گڑھ ہے، اس سے پہلے اے این پی نے رہبر تحریک مرحوم باچا خان کی برسی کے موقع پر اسی طرح کا بڑا جلسہ منعقد کیا اور ایسے تمام ادعا باطل کر دئیے جس میں کہا جا رہا تھا کہ اے این پی کی اب اس صوبے میں کوئی ساکھ نہیں ہے تاہم دونوں جلسوںکومدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ صوبے میں نظریاتی ووٹ ہنوز موجود ہے کیونکہ مسلم لیگ اور اے این پی کو اب بھی نظریاتی جماعتیں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے کہ صوبے میں ایک بڑا ووٹ بینک دینی جماعتوں کا بھی موجود ہے چنانچہ تحریک انصاف جو خود کو ایک روشن خیال جماعت کہتی ہے اور اپنی روشن خیالی میں مغربی تہذیب کی ہم خیال جما عت بھی سمجھی جاتی ہے وہ بھی دینی جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے میں سیاسی طور پر مجبور ہے۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا کوئی آپس میں سیاسی اور دینی جوڑ نہیں ہے لیکن اب تک وہ حکومتی امور میں جماعت اسلامی کو ساتھ لئے ہوئے ہے جس پر کئی حلقے حیران ہیں اور اکثر وبیشتر جماعت اسلامی کے اکابرین سے اس غیر نظریاتی اتحاد کے بارے میں پوچھ گچھ بھی کرتے ہیں تو ا س کا جواب یہ آتا ہے کہ جماعت اسلامی کا پی ٹی آئی سے سیکرٹریٹ کے گیٹ کے اندر تک اتحاد ہے۔ اب چونکہ اتحاد کی فضا گیٹ سے باہر بھی پیدا ہو رہی ہے کیونکہ انتخابات کا زمانہ شروع ہونے لگا ہے جس کی ڈونڈی تو بج گئی ہے دیکھنا ہے کہ پروانہ ادھر آتا ہے یا ادھر جاتا ہے، بہرحال ایم ایم اے کی بحالی نے پی ٹی آئی کو انتخابی مشکل سے دوچار کر دیا ہے گوکہ پر ویز خٹک نے وقت سے پہلے ہی انتظامات ایسی مشکلات سے نمٹنے کیلئے کر دئیے تھے مگر اونٹ صحیح کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آرہا ہے، انہوں نے ایم ایم اے کی سن گن لے کر پہلے قدم کے طور پر مولانا سمیع الحق کو ان کے مدرسے کیلئے تین سو ملین کی امدادی رقم دی، حیرت کی بات ہے کہ عمران خان جو یہ ادعا رکھتے ہیں کہ ان کے سب کام میرٹ پر ہوںگے انہوں نے اتنی بھاری رقم ایک ایسے دینی مدرسے کو دیدی جس کا سیاسی پس منظر بھی ہے۔ 1977ء کے انتخابات میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے قریبی عزیز نصر اللہ خٹک جو اس وقت خود بھی صوبے کے وزیراعلیٰ تھے مولانا سمیع الحق کے والد محترم اُستاد مولانا عبدالحقؒ کے مقابلے میں قومی اسمبلی کی نشست پر شکست کھا گئے تھے جب نصراللہ خٹک سے استفسار کیا گیا کہ وہ اتنے دبنگ وزیراعلیٰ ہو کر اپنے آبائی حلقے سے کیوں کر ہار گئے تو ان کا جواب تھا کہ وہ کیا کرسکتے تھے ان کا مقابلہ تو پیغمبر سے تھا پھر وہ کیسے جیت سکتے تھے، گویا اتنا عظیم احترام مولانا عبدالحق ؒمرحوم کا تھا۔جو مالی مدد مولانا سمیع الحق کے مدرسے کو ہوئی ہے اس کا یہ فائدہ ہوا کہ مولانا سمیع الحق کے ایم ایم اے کی جانب بڑھتے ہو ئے قدم پلٹ گئے اور ان کا تحریک انصا ف سے اتحاد ہو گیا گویا پرویز خٹک نے صوبے میں ایک اہم دینی قوت کو حاصل کر لیا مگر اب کچھ رخنہ نظر آرہا ہے وہ یہ کہ ورقی اور برقی میڈیا میں خبر گردش کرتی رہی کہ مولانا سمیع الحق تحریک انصاف کی طرف سے سینٹ کی نشست کے اُمیدوار ہوںگے، پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد بات واضح ہوگئی کہ پی ٹی آئی نے ان پر توجہ نہیں دی، جس سے مولانا سمیع الحق ناراض بھی لگ رہے ہیں اور مایوس بھی ہیں۔

مولانا عبدالحق مرحومؒ کے رحلت کرجانے کے بعد سے جو اس حلقے کے نتائج سامنے آئے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ احترام اپنی جگہ اب ان کا ووٹ بینک ویسا نہیں رہا تاہم اس حلقے سے دینی حوالے سے ووٹ کو نظر انداز نہیںکیا جا سکتا چنانچہ پرویز خٹک نے مولانا سمیع الحق کے مدرسے کی جو مالی مدد کی اس کے ثمر سے انتخابی قوت حاصل ہونے میںمدد مل سکے گی اور اس بات کا امکا ن بھی ہے کہ اسی حلقے سے قومی اسمبلی کی نشست پر عمران خان کو کھڑا کیا جائے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ عمران خان نے جو مقبولیت پشاور میں پائی تھی صوبہ کے پی کے دیگر حصوں میں بھی ویسی ہی ہے مگر پی ٹی آئی کو ایک دھچکا ایم ایم اے کی بحالی سے پہنچا ہے۔ عمران خان جس سلیقے سے اپنا بینک آف ووٹ کا اکاؤنٹ بڑھا رہے تھے یعنی دینی حلقوں میں جس انداز میں کام کر رہے تھے مثلاً مساجد کے امام کیلئے دس ہزار روپیہ ماہانہ وظیفہ کا اعلان، اب اقلیتوں کیمذہبی رہنماؤں کیلئے بھی وہی وظیفہ دینے کا اعلان جو مسلموں کیلئے مقرر کیا ہے اس اقدام سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب انتظامات آئندہ انتخابات کیلئے ہیں اور دینی حلقوں کو یقین دلانا ہے کہ عمران خان یا پی ٹی آئی مغرب زدہ روشن خیال نہیں ہے جیسا کہ اس کے دھرنو ں اور جلسوں جلوسوں میں نظر آتا ہے بہرحال ایم ایم اے کی بحالی سے صوبہ کے پی کے میں دینی حلقو ں کے ووٹ کی فراوانی میں روک سی لگ گئی ہے۔ دینی ووٹوں کا کھیل پی ٹی آئی کی گرفت میں نہیں آیا عمران خان کا فاسٹ باؤنسر ایم ایم اے نے سلپ میں کھیل لیا جس سے پرویز خٹک میں جھنجھناہٹ پیدا ہوئی اور وہ اب اس باؤنسر کے سلپ ہو جا نے کا اُٹھتے بیٹھتے ذکر کرتے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں