Daily Mashriq

نیب بارے خیالات سے رجوع کی منطق؟

نیب بارے خیالات سے رجوع کی منطق؟

وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ ایک اخلاقی مطالبہ ضرور ہے لیکن حکومت اس میں سنجیدہ نہیں اگر ایسا ہی تھا تو حکومت شہباز شریف کو چیئرمین بنانے پر متفق کیوں ہوئی اور اگر پشیمانی ہے تو تحریک انصاف کے ممبران کی کمیٹی میں اکثریت کا فائدہ اٹھا کر چیئرمین کیخلاف عدم اعتماد باآسانی لائی جاسکتی ہے جس کیلئے حکومت تیار نظر نہیں آتی۔ وزیراطلاعات کا یہ استدلال کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کی گرفتاری سے متعلق احتساب کا عمل موثر ہونا چاہئے اور یہ نہیں لگنا چاہئے کہ آپ توازن قائم کر رہے ہیں، آپ ہر معاملے پر یہ کر رہے ہیں کہ ادھر کا ایک پکڑنا ہے تو ادھر کا بھی ایک پکڑنا ہے، احتساب کے عمل میں بیلنسنگ ایکٹ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس سے اداروں پر اعتماد نہیں رہتا درست نہیں۔ اگر د یکھا جائے تو خواہ وہ مسلم لیگی رہنماؤں کی گرفتاری ہو یا پنجاب کے سابق سینئر وزیر کی گرفتاری نیب ٹھوس شواہد کے بعد گرفتاری اور عدالت میں ان پر الزامات ثابت کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی۔جہاں تک بلاامتیاز احتساب کا سوال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ نیب کی اب تک کی کارروائیاں یکطرفہ ہی گردانی جاتی رہی ہیں اور وقت کافی گزرنے کے باعث اب نیب کو غیرجانبدارانہ اور بلاامتیاز کارروائی کا تاثر راسخ کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ تگ ودو کرنی ہوگی۔ تحریک انصاف کے پہلے ہی رہنما کی گرفتاری پر حکمران جماعت کا نیب پر اٹھتی انگلیاں اب زیادہ قابل توجہ اس لئے نہیں کہ یہی عناصر نیب کی قبل ازیں کی ہر کارروائی کی ضرورت سے بڑھ کر حمایت اور دفاع کرتے رہے ہیں۔ اب اچانک موقف میں اس قسم کی تبدیلی قابل قبول رویہ نہیں جس سے احتراز ہی احتساب پر یقین کا تقاضا ہے۔

اشرف غنی کی دخل درمعقولات

پشتون تحفظ موومنٹ کی پشت پناہی میں افغان صدر اشرف غنی کا کھل کر سامنے آنا ایک پڑوسی ملک کے صدر کا دوسرے ملک کے سطحی قسم کے معاملے میں جانبدارانہ رائے کا اظہار حیران کن ہے۔ بہرحال خیبر پختونخوا میں امن پسند سول سوسائٹی کے ممبران کی پکڑ دھکڑ پر افغانستان کو تحفظات ہیں کا جواب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان قیادت کو اپنے کام سے کام رکھنے اور افغانستان کے عوام کے دیرینہ اور سنگین مسائل اور شکایات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کا مشورہ دے کر کیا۔ پاکستان کے کسی بھی عہدیدار سے کبھی کوئی ایسا بیان منسوب نہیں کیا جا سکا جسے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا جاسکے جبکہ افغان صدر دوسری مرتبہ پی ٹی ایم کے غم میں دبلے ہوئے ہیں۔ خود افغان صدر کے مربی امریکہ اور بھارت بھی اندرونی کشمکشوں سے محفوظ نہیں خود افغانستان خانہ جنگی کے ایسے بدترین مظاہر سے گزر چکا ہے جس میں روس کیساتھ جنگ سے زیادہ انسانوں کا خون خود افغان وارلارڈز نے ایک دوسرے کے گروہوں کا بہایا بہرحال افغانستان کے ہر دور کے حکمرانوں کو پاکستان میں بھٹکے ہوئے عناصر کی حمایت کا شوق چرایا ہی رہا ہے۔ افغانستان سے سرخ ڈولی میں بیٹھ کر آنے کے خواہشمندوں کی افغان سرزمین پر بڑی آؤ بھگت کوئی راز کی بات نہیں۔ ایک ایسے افغانستان جس کا مستقبل غیر ملکی فوجوں کی موجودگی اور طاقتور داخلی قوتوں کے باعث داؤ پر لگا ہوا ہے افغان صدر امریکی چھتری تلے بمشکل تخت کابل پر حکمرانی کے آخری ایام پورے کر رہے ہیں۔ اس موقع پر بھی ان کی جانب سے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اور دخل درمعقولات سے باز نہ آنے کا رویہ ہی وہ بنیادی وجہ اور کمزوری ہے جس کے باعث افغانستان میں امن کے دن نزدیک آکر دور چلے جاتے ہیں۔ اشرف غنی اقتدار سنبھالتے وقت پاکستان کے بارے میں جو خیالات رکھتے تھے اور جن خیالات کا انہوں نے اس وقت اظہار کیا تھا ان خیالات کی طرف واپس رجوع کریں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ پاکستان دہشتگردی کیخلاف جنگ سے کامیابی سے نمٹنے کے بعد اس کے اثرات سے بھی نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستان اپنے مسائل کو حل کرنے کا خود اہل ہے۔

اسی کروڑ کی تزئین ومرمت کے اخراجات

پشاور میں قائم سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین وآرائش اور مرمت پر گزشتہ 5سال کے دوران صوبائی خزانہ سے 80کروڑ روپے سے زائد کی رقم کے اخراجات کا اگرچہ پوری طرح حساب کتاب ممکن نہیں لیکن سرکاری رہائش گاہوں کی حالت زار دیکھی جائے تو کسی طور نظر نہیں آتا کہ ان پر صوبائی خزانے سے کچھ خرچ ہوا ہو۔ بدعنوانی کا آسان طریقہ کار تزئین ومرمت سمجھا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اتنی رقم اسی فارمولے کے تحت ہی استعمال کی گئی ہوگی۔ بہرحال یہ ایک بہت بڑی رقم ہے جس کا ممکنہ حساب کتاب لیا جانا چاہئے اور آئندہ اس قسم کے اخراجات کو شفاف بنانے کے حامل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں