Daily Mashriq

صحرا خرید لائے ہیں برسات بیچ کر

صحرا خرید لائے ہیں برسات بیچ کر

’’بسیں تو آگئیں چلیں گی کیسے؟‘‘ کی معنویت بلکہ معنی آفرینی پر غور کیا جائے تو روزنامہ مشرق کے ادارتی تجزیہ کار نے سمندر کو کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔ ادارتی نوٹ کے اس سرنامے میں بی آر ٹی کی گزشتہ لگ بھگ دوسال کی اہل پشاور کی خجل خواری کی واضح تصویر اُبھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ صورتحال تو یہ ہے کہ یہاں تو بندے کو ٹھکانہ نہیں مل رہا‘ بسوں کو کہاں رکھا جائے گا اور جس ٹریک کی تعمیر کیلئے تاریخ پہ تاریخ مقرر کی جاتی رہی پھر بھی یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ منصوبے پر اخراجات میں اضافے کے حوالے سے کچھ کہنے کا ارادہ نہیں ہے کہ اس ضمن میں اپوزیشن جماعتیں ہی بہت ہیں آخر انہیں بھی تو کچھ نہ کچھ کہنا ہوتا ہے نا‘ سو یہ ذمہ داری انہیں مبارک‘ ہم عوام تو اس منصوبے سے جن سماجی‘ جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں ان پر ہی رائے زنی کرنے تک خود کو محدود رکھ سکتے ہیں کیونکہ عوام کا لانعام ہونے کے ناتے ہم اپنی حیثیت یعنی چہ پدی چہ پدی کا شوربہ کے مصداق اچھی طرح جانتے ہیں اس لئے اب جو یہ حکومتی حلقوں کی جانب سے نامکمل منصوبے کے سافٹ افتتاح کی باتیں کی جا رہی ہیں اس پر ہی گزارہ کرلیتے ہیں یعنی جو تجزیہ سامنے آیا ہے اس کے مطابق سوفٹ افتتاح کا مطلب صرف منصوبے کے جزوی حصے تک بسیں چلانے کا فیتہ کاٹ دیا جائے اور اب یہ جزوی سے کیا مراد ہے؟ صرف فردوس (جناح پارک) تک کے علاقے یا پھر سوئیکارنو چوک تک بسیں چلائی جائیں گی‘ کچھ بھی واضح نہیں ہے۔ گویا منصوبے کے نام پر عوام کیساتھ مذاق اگر نہیں تو مزاحیہ سلوک ضرور کیا جا رہا ہے۔ ارے بھائی کیا جلدی ہے، اگر 23مارچ کی (ایک بار پھر) مجوزہ تاریخ تک منصوبہ مکمل نہیں ہو رہا تو کوئی بات نہیں کہ پشتو ضرب المثل کے مطابق د لوندو بہ سہ لاندوشی یعنی بھیگے ہوؤں کا کیا بھیگ جائے گا‘ عوام تو پہلے ہی خجل ہو رہے ہیں سو دوچار چھ ماہ یا پھر ایک سال اور سہی‘ کم ازکم منصوبے کو تکمیل تک ہی پہنچا کر افتتاح کریں کیونکہ اگر منصوبے کے جزوی یعنی سوفٹ افتتاح کے بعد بھی کام جاری رہنا ہے اور گرد وغبار نے اسی طرح اُڑنا ہے‘ منصوبے کی راہ میں سبزہ وگل کا بیڑا غرق ہونا ہے‘ سانس کی بیماریاں پھیلنی ہیں تو خواہ مخواہ نئی بسوں کو بھی گردآلود کرکے چھوڑنا ہے؟ بقول فراز

آکے دیکھو تو سہی شہر مرا کیسا ہے

سبزہ وگل کی جگہ ہے در ودیوار پہ خاک

احمد فراز کے شعر سے یاد آیا کہ جناح پارک کے پاس جہاں بی آر ٹی کا سٹیشن بنایا جا رہا ہے یہاں ایک احمد فراز چوک ہوا کرتا تھا اور اسی منصوبے کی تعمیر سے پہلے ہی اسے ٹریفک یوٹرن کیلئے بند کرنے سے اس کی حیثیت چوک سے تو تبدیل ہوگئی تھی البتہ وہ بورڈ جس پر پہلے احمد فراز کے نام کو غلط لکھا گیا تھا یعنی (زے) کی جگہ رے) لکھ کر احمد فرار بنا دیا گیا تھا اور میرے ہی باربار لکھنے سے اس کی درستی کی گئی تھی‘ پھر مذکورہ بورڈ بھی اس منصوبے کی زد میں آگیا تھا تو میں نے دوبارہ گزارش کی تھی (بار بار) کہ جناح پارک کے قریب زیرتعمیر بی آر ٹی سٹیشن کو احمد فراز ہی کے نام سے منسوب کیا جائے تاکہ انہیں خراج تحسین پیش کرنے میں ہم سے کوتاہی نہ ہو۔ البتہ اسی مقام پر ملک سعد فلائی اوور کو توڑ کر سورے پل کی سمت سے جو فلائی اوور تعمیر کرکے (عارضی طور پر) فی الحال الٹی سمت سے ٹریفک رواں دواں کی گئی ہے اس پر بھی گزارش کر چکا ہوں اور اب گزشتہ روز کے ادارتی تجزئیے میں بھی یہی سوال اُٹھایا گیا ہے کہ اس کو جوں کا توں رکھا جائے گا یعنی موجودہ صورتحال کہ سورے پل کی جانب سے ٹریفک رواں دواں رکھی گئی ہے یا پھر اسے بی آر ٹی کا حصہ بناکر مخصوص بسیں ہی اس پر چل سکیں گی تو پھر صدر اور خیبر روڈ سے آنے والی ٹریفک کی کیا صورتحال ہوگی؟ کیونکہ سائیڈ والی ٹریک تو اس قدر تنگ ہے کہ جس بات کا اہل پشاور رونا روتے رہے ہیں اور سورے پل پر ٹریفک جام کے ہاتھوں زچ ہو رہے ہیں وہ صورتحال تو تبدیل پھر بھی نہیں ہوگی؟ ایں چہ بو العجبی است؟؟

ہم بھی ہیں کیا عجیب کڑی دھوپ کے تلے

صحرا خرید لائے ہیں برسات بیچ کر

درآمد ہونے اور پشاور پہنچنے والی ابتدائی 20بسوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہیں کھڑا کرنے کیلئے چونکہ کوئی ٹرمینل موجود نہیں ہے اس لئے فی الحال انہیں حیات آباد میں زرغونی مسجد سے ملحقہ پلاٹ میں کھڑا کیا جائے گا حالانکہ منصوبہ سازوں کو اس حوالے سے پہلے ہی سوچ بچار کرکے بندوبست کر لینا چاہئے تھا۔ دو چار منزلہ یا پھر چند کنال پر مشتمل کوئی عمارت بنانے سے پہلے وہاں کسی کونے میں چوکیدار کیلئے ایک چھوٹا سا عارضی کمرہ بنا دیا جاتا ہے تاکہ وہ تعمیراتی سامان کی د یکھ بھال کرسکے مگر اتنا بڑا منصوبہ بنانے والوں نے ان بسوں کو سپردم بہ تو مایہ خویش را کے مصداق ان بسوں کو کھلے آسمان تلے رکھنے کی پالیسی کیونکر اختیار کر لی ہے‘ جہاں موسم شدائد ان کروڑوں کی بسوں کا ناس کر دیں گی اور ان کا حلیہ بگڑ کر رہ جائے گا۔

دوسرا اور سب سے اہم نکتہ ان بسوں کیلئے ٹرمینل کیساتھ ساتھ ان کی سروس کر کے ابتداء میں معمولی خرابیوں اور بعد میں بڑی سطح کی مرمت وغیرہ کیلئے ورکشاپ قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں