Daily Mashriq


اٹھارہویں ترمیم اور نئی بحث

اٹھارہویں ترمیم اور نئی بحث

اٹھارہویں ترمیم پر اُٹھنے والی نئی بحث ایک مستحکم وفاقی نظام اور مضبوط مرکز کے حامیوں کے درمیان وجہ اختلاف بنی ہوئی ہے۔ گوکہ یہ ترمیم اتنی آسانی سے ختم نہیں کی جاسکتی البتہ ملکی اسٹیبلشمنٹ اور چند سیاسی گروہ اس بات پر قائل ہیں کہ اس ترمیم نے ریاست کو کمزور کیا ہے اور یہ ملک کو لاحق معاشی مسائل کی بڑی وجہ ہے۔پچھلے ایک سال کے دوران اور خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے بعد اس معاملے پر اُٹھنے والے شور میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اس سارے معاملے کے پیچھے وفاق کو کمزور کرنے اور ایک وحدانی نظام حکومت کو دوبارہ رائج کرنے کی سازش کی بو آرہی ہے۔ ان کے خیال میں صدارتی نظام حکومت لانے کی کوششیں بھی بعیدازخیال نہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کردہ اٹھارہویں ترمیم کو تمام سیاسی جماعتوںکی حمایت حاصل رہی تھی اور اب اسے کسی قانونی ذرائع سے منسوخ کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ اس ترمیم سے صرف ماورائے عدالت اقدام سے ہی چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے البتہ ایسا کرنا پاکستان میں جمہوریت کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔ فی الوقت ایسے کسی ٹھوس اقدام کی شنید بھی نہیں ملتی جو پاکستان میں صدارتی نظام لانے کا پیش خیمہ سمجھا جا سکے۔

بلاشبہ اٹھارہویں ترمیم تاریخی طور پر پاکستان کو 1973ء کے آئین کی روح سے ایک وفاقی ریاست میں تبدیل کرنے اور ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلئے کیا جانے والا سب سے مؤثر اقدام ہے۔ سال2010ء میں منظور کی جانے والی اٹھارہویں ترمیم اس پارلیمانی کمیٹی کی دو سالہ مسلسل کاوشوں کا نتیجہ تھی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔ اٹھارہویں ترمیم میں کل ایک سودو آرٹیکل موجود ہیں اور اس نے جنرل مشرف کے دور میں لائے جانے والی سترویں ترمیم کو منسوخ کر دیا جسے پارلیمان کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے استعمال کیا گیا تھا۔ اٹھارہویں ترمیم نے پارلیمان کے تمام اختیارات بحال کرتے ہوئے آرٹیکل اٹھاون ٹو بی کو بھی آئین سے خارج کر دیا جو صدر کو ایک منتخب وزیراعظم کو اپنے عہدے سے برطرف کرنے کا اختیار دیتا تھا۔ مزید برآں اٹھارہویں ترمیم نے صوبوں کو اپنے مالی اور قانونی معاملات کے حوالے سے بھی خودمختار بنایا۔ گوکہ اس اختیار کے بعد صوبوں کی اہلیت اور وفاق سے روابط کے حوالے سے کچھ کمزوریاں سامنے آئیں البتہ اس نے وسائل کی تقسیم کو لیکر وفاق اور صوبوں میں اُٹھنے والے اختلافات کو یکسر ختم کر ڈالا۔ یہ نظام بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ کو مزید اختیارات اور طاقت تفویض کر کے مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے مگر صوبائی خودمختاری کے دعویدار اکثر سیاسی رہنما اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بارے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ اٹھارہویں ترمیم کے ناقدین کا یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے کہ صوبوں کو اس قدر بااختیار بنا دینا مرکز کمزور کر دیتا ہے۔ گوکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان سیکورٹی اور معاشی وسائل کو لیکر کچھ مسائل رہتے ہیں مگر درحقیقت صوبوں کا بااختیار بنانا ایک مستحکم اور مضبوط وفاق کا ضامن ہے۔ پاکستان جیسے ملک کو، جہاں کئی قومیتیں آباد ہیں، ایک وحدانی نظام کے تحت متحد اور خوشحال نہیں رکھا جا سکتا۔ آمریتوں کے دور میں بھی ایک مطلق العنان مرکز کے ہونے سے پاکستان کو سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسی کے باعث ملک میں عسکریت پسند قوتوں کو بھی سر اُٹھانے کا موقع ملا۔ ملک میں انتخابات کے ذریعے حکومتوں کا تبدیل ہونا جمہوری نظام کی جڑیں مضبوط کر رہا ہے اور اس میں بھی اٹھارہویں ترمیم کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان جیسے ملک کو جن سیاسی اور معاشی مسائل کا سامنا ہے، انہیں ایک وحدانی یا صدارتی نظام مکمل طور پر حل کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ یہ وہ سبق ہے جو ہمیں جابجا آمریتوں کے دور میں سیکھ لینا چاہئے تھا کہ جہاں طاقت اور اختیارات کا مرکز ایک فرد واحد ہوا کرتا تھا۔ ایسے ادوار نے پاکستان کو سیاسی اور معاشی طور پر نقصان ہی پہنچایا ہے اور اسی نظام میں پاکستان دولخت بھی ہوا۔ بااختیار صوبائی حکومتیں حقیقی طور پر عوامی امنگوں اور جذبات سے قریب تر ہونے کے باعث ان کی احسن انداز میں خدمت کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کی ایک اور بڑی کامیابی نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے نظام میں بہتری ہے جس کے بعد صوبوں کو منتقل کئے جانے والے معاشی وسائل میں ستاون فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں آرٹیکل160 تھری اے کے اضافے نے اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ ہر صوبے کو دیا جانے والا مختص ایوارڈ اس کے پچھلے ایوارڈ سے کسی صورت کم نہ ہو۔ ساتھ ہی ساتھ اس ترمیم نے صوبوں کو اپنی زمین سے نکلنے والے معدنیات اور دیگر وسائل کے حوالے سے بھی خودمختار بنا کر چھوٹے صوبوں کا یہ گلہ بھی ختم کر دیا ہے کہ وفاق ان کے وسائل کا ناجائز استعمال کر کے وہاں کے لوگوں کا استحصال کرتا ہے۔ ناقدین اس بات کا بھی واویلا کرتے ہیں کہ اس ترمیم کے بعد صوبوں کو این۔ایف۔سی ایوارڈ کے ذریعے وسائل کا ایک بڑا حصہ دینے کے بعد وفاق کے پاس ملکی دفاعی اخراجات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے وسائل محدود رہ جاتے ہیں جبکہ معاشی امور کے ماہرین اس خدشے کو مسترد کرتے نظر آتے ہیں۔(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں