Daily Mashriq

المناک واقعات کی روک تھام/ چند تجاویز

المناک واقعات کی روک تھام/ چند تجاویز

اگرچہ پاکستان میں دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت خودکشی کی شرح بہت کم ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے اور یہ اسلامی تعلیمات کی برکت ہے لیکن پھر بھی پاکستان بھر میں بعض اوقات خودکشی کے ایسے المناک واقعات جنم لے لیتے ہیں کہ اردگرد ماحول پر اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں خودکشی کے متعدد معاشرتی وسماجی اسباب ووجوہات ہوتی ہیں۔ مردوں اور خواتین میں بھی اس کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔ خواتین زیادہ غربت‘ شوہر کی زیادتیوں اور کبھی نرینہ اولاد نہ ہونے اور خاوند اور ساس وغیرہ کے طعنوں کے سبب کبھی اپنی بیٹیوں سمیت خود کو دریا کی بپھری لہروں کی نذر کر دیتی ہیں اور کبھی اپنی بے بس وبے کس معصوم بچیوں کو چھوڑ کر اپنی جھونپڑی کے کسی کچے کمرے میں پنکھے کیساتھ جھول جاتی ہیں۔ اس قسم کی خودکشیاں بے بسی‘ بے چارگی اور اسلامی تعلیمات سے بے خبری اور بے علمی کے سبب وقوع پذیر ہوتی ہیں۔

مردوں میں سے عموماً نوجوان لوگوں میں یہ رجحان پایا جاتا ہے اور اس کے عام طور پر تین چار اہم اسباب سامنے آتے ہیں۔ پہلی وجہ گھر کا ماحول ہوتا ہے والدین اس نظر سے کہ اولاد کہیں بے رخ وبے سمت نہ ہوجائے‘ ان پر بعض اوقات حد سے زیادہ دباؤ اور پابندیاں لگا دیتے ہیں جس کے سبب جوانی کی حدود میں داخل ہوئے بچے تنگ آکر زندگی کی پابندیوں سے اپنی دانست میں آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ بعض بچے والدین سے ’’کھیلنے کی عمر‘‘ کی آزادی کی آڑ میں ایسی آزادی حاصل کرلیتے ہیں کہ جان سے گزر جاتے ہیں۔ اس قسم کے نوجوان عام طور پر منشیات وغیرہ کے شکار نہ صرف خود زندہ درگوروں میں شمار ہوجاتے ہیں بلکہ اپنے ساتھ اپنے والدین اور بہن بھائیوں اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں بیوی بچوں کو بھی خودکشی پر مجبور کرلیتے ہیں۔

ہمارے نوجوانوں میں گزشتہ ایک عشرے ڈیڑھ سے خودکشی کا ایک اہم سبب ان کا تعلیمی ماحول‘ امتحانات کے نتائج اور بالخصوص ڈاکٹر اور انجینئر بننے کیلئے ایٹا میں کم سکور بھی ہے۔ آج کل ہمارے ہاں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں ٹاپ ٹین اور ٹاپ ٹونٹی کے جو مقابلے ہوتے ہیں اور والدین کی طرف سے بچوں پر اس حوالے سے جو پریشر ہوتا ہے اس میں جب ناکامی کا خوف لاحق ہو جاتا ہے تو بعض اوقات بعض بچے ایسی ناکامی کی صورت میں والدین اور رشتہ داروں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں کر پاتے یوں اس قسم کی شرمندگی سے بچنے کیلئے زندگی کا خاتمہ کرنا آسان نسخہ سمجھ لیتے ہیں۔ بعض نوجوان طلبہ میں ذہنی اور دماغی امراض پیدا ہوجاتے ہیں لیکن والدین کو اس کا احساس وقت گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔ نوجوان طلبہ اور بھی کئی اسباب کے ہاتھوں ذہنی دباؤ کا شکار بنتے ہیں۔ آج کل میڈیا‘ یوٹیوب‘ نیٹ اور موبائل اور بعض فلمیں بھی نوجوان لوگوں میں خودکشی کو ایک گلیمرائز شکل میں پیش کر لیتے ہیں۔ سنا ہے کہ آج نوجوان طلبہ میں خودکشی کے حوالے جو فلم ’’13 Reasons why?‘‘ بنی ہے اس میں ہیروئن خودکشی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے آخر میں خودکشی کرلیتی ہے۔ بعض تعلیمی اداروں میں بعض اساتذہ کے سلوک اور رویہ کے سبب بھی طلبہ انتہا پسندی اور خودکشی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ بعض اوقات بعض اساتذہ ہائی پروفیشنل امتحانات میں جس پر طلبہ کا مستقبل منحصر ہوتا ہے‘ دھمکی آمیز انداز میں تنبیہہ کرتے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ کیسے پاس ہوتے ہیں‘ بالخصوص میڈیکل کالجوں کے زبانی امتحانات میں فیل ہونے کی وجہ سے بھی طلبہ ذہنی کوفت اور دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ والدین‘ حکومت‘ اساتذہ اور سماجیات کے ماہرین کا فرض ہے کہ تعلیمی اداروں میں نوجوان طلبہ کی تعلیم کیساتھ تربیت کا بہت خیال رکھیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کے سربراہوں سے درخواست ہے کہ ہر مہینے کی آخری یا پہلے جمعۃ المبارک کو دینی موضوعات پر لیکچرز اور سیمینارز کا انعقاد کرکے طلبہ کی دینی معلومات میں اضافہ سے ان کی دینی تربیت کا اہتمام کریں۔ یوں ان کو معلوم ہوگا کہ ’’اللہ کی رحمت سے کسی صورت میں بھی مایوس ہونا جائز نہیں‘ اللہ کی رحمت ہر چیز سے زیادہ وسیع ہے‘‘۔اسی تسلسل وتناظر میں حکومت وقت کی توجہ ان المناک حادثات کی طرف بھی مبذول کرانا چاہوں گا جو فلائنگ کوچوں میں گیس سلنڈروں کے حادثے کی صورت میں پھٹ جانے اور آگ کے شعلوں کے سبب واقع ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں پشاور سے ڈیرہ جانے والی کوچ میں آگ لگ جانے کے سبب جو لوگ جل بھن کر کوئلہ بن گئے اس کی اہم وجہ غیرمعیاری گیس سلنڈر ہیں۔ اس قسم کے واقعات آئے روز ہوتے ہیں اور پھر ستم ظریفی اور حکومتی لاپرواہی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس اہم ہائی وے پر اس قسم کے حادثات کی صورت میں ریسکیو یا امداد رسی اور ریلیف کیلئے ایمبولینس‘ فائر فائٹر یا پولیس وغیرہ جب پہنچتی ہے تواس وقت تک چڑیاں کھیت چگ چکی ہوتی ہیں۔ لہٰذا قیمتی جانوں کے تحفظ کیلئے سی این جی سے چلنے والی مسافر گاڑیوں کی دیکھ بھال اور چیکنگ کو سائنٹیفک اصولوں اور بنیادوں پر باقاعدگی کیساتھ لازمی قرار دیا جائے یا بڑی مسافر گاڑیوں کے ڈیزل پر رکھنے کو لازمی قرار دیکر سی این جی ممنوع قرار دے۔ ہائی ویز پر بھی موٹرویز کی طرح زخمیوں کو ہسپتالوں میں بروقت پہنچانے کیلئے موبائل ایمبولینسز کا ہونا بھی بہت ضروری ہوگیا ہے۔

متعلقہ خبریں