Daily Mashriq


دنیا کے امیر ترین شخص کو کون بلیک میل کررہا ہے؟

دنیا کے امیر ترین شخص کو کون بلیک میل کررہا ہے؟

ایمازون کے بانی جیف بیزوز دنیا کے امیر ترین شخص ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت 137 ارب ڈالرز سے زائد ہے جبکہ اثررسوخ کے حوالے سے بھی کسی سے کم نہیں، مگر پھر بھی انہیں بلیک میل کیا جارہا ہے۔

یہ انکشاف خود جیف بیزوز نے ایک بلاگ پوسٹ میں کیا۔جمعرات کو ایمازون کے چیف ایگزیکٹو نے بتایا کہ امریکی جریدے نیشنل انکوائرر کے پبلشر نے ان کی چند نجی تصاویر (برہنہ تصاویر) اس صورت میں شائع کرنے کی دھمکی دی ہے، اگر وہ ایک سابق ٹی وی اینکر سے تعلقات کی تفصیلات لیک کرنے کے حوالے سے تحقیقات جاری رکھتے ہیں۔

اس جریدے نے جیف بیزوز کے بہت زیادہ نجی تحریری پیغامات تک رسائی حاصل کرکے گزشتہ ماہ رپورٹ کیا تھا کہ ایمازون کے بانی کے سابق اینکر اور رپورٹر لورین سانچز سے ناجائز تعلقات ہیں، اور یہ لیک ان کی طلاق کی وجہ بھی بن گئی۔

اپنے بلاگ میں جیف بیزوز نے کہا کہ انکوائرر کے پبلشر امریکن میڈیا انکارپوریشن (اے ایم آئی)، جس کی سربراہی ڈیوڈ پیکارڈ کے پاس ہے، نے ان سے رابطہ کرکے ان کی ذاتی معلومات لیک کرنے کے مقاصد پر تحقیقات کو نہ روکنے پر نجی تصاویر شائع کرنے کی دھمکی دی۔

انہوں نے مزید کہا بتایا کہ اس جریدے نے مطالبہ کیا کہ وہ اور ان کے سیکیورٹی مشیر گیون ڈی بیکر عوامی سطح پر بیان دیں کہ ان کے پاس ایسی کوئی معلومات یا ثبوت نہیں، جس سے معلوم ہو کہ اے ایم آئی کی کورین کے پیچھے سیاسی مقاصد یا سیاسی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔

گیون ڈی بیکر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس لیک کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں اور ممکنہ طور پر لورین سانچر کے بھائی مائیکل، جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرزور حامی ہیں، ممکنہ طور پر اس کے پیچھے ہیں۔

اپنے بلاگ میں جیف بیزوز نے یہ نکتہ اٹھایا کہ اے ایم آئی اور ڈیوڈ پیکارڈ کے ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ سے تعلق تھا اور امریکی صدر کی جانب سے مختلف خبروں کی اشاعت روکنے کے لیے ادائیگیاں بھی کی گئیں۔

خیال رہے کہ جیف بیزوز اور ان کی ملکیت میں موجود اخبار واشنگٹن پوسٹ سمیت ایمازون اکثر امریکی صدر کی ٹوئیٹس کا ہدف ہوتے ہیں۔

جیف بیزوز نے لکھا ' بلیک میلنگ کے آگے سر جھکانے کی بجائے میں نے فیصلہ کیا کہ وہ سب کچھ شائع کردوں جو مجھے کہا گیا، چاہے اس کے لیے مجھے بھاری قیمت اور شرمندگی کا ہی سامنا کیوں نہ ہو'۔

انہوں نئے بلاگ کے ساتھ اے ایم آئی کی ای میلز کی نقول میں منسلک کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یقیناً میں اپنی ذاتی تصاویر کی اشاعت نہیں چاہتا مگر وہ ان کی بلیک میلنگ کا شکار بھی نہیں ہونا ' میں اس کے خلاف کھڑے ہونے کو ترجیح دیتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ آگے کیا ہوتا ہے'۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے شروع میں جیف بیزوز نے ٹوئٹر پر اعلان کیا تھا کہ وہ اور ان کی اہلیہ میکنزی بیزوز شادی کے 25 سال بعد الگ ہورہے ہیں۔

1993 میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے جوڑے کے 4 بچے بھی ہیں، جیف بیزوز کو اس طلاق کی صورت میں کافی اثاثوں سے ضرور محروم ہونا پڑے گا۔

بزنس انسائیڈر کی ایک رپورٹ میں قانونی ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا کہ ارب پتی افراد کے اثاثے اکثر بہت پیچیدہ ہوتے ہیں اور عموماً ایسے ہوتے ہیں جن کی فوری فروخت ممکن نہیں ہوتی، جیسے جیف بیزوز کے بیشتر اثاثے ایمازون اسٹاک سے جڑے ہیں۔

بیزوز خاندان ریاست واشنگٹن میں مقیم ہے اور یہ بھی جیف بیزوز کے لیے معاملات مزید پیچیدہ بنائے گا کیونکہ یہ کمیونٹی پراپرٹی اسٹیٹ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جوڑے نے شادی کے بعد جو اثاثے بنائے وہ علیحدگی کی صورت میں ان میں برابر برابر تقسیم ہوگئے۔

اور یہ جان لیں کہ جیف بیزوز شادی سے پہلے ایک عام ملازمت کرتے تھے اور میکنزی جب ان کی زندگی میں آئی تو اس کے بعد ہی انہوں نے ایمازون کی بنیاد رکھی تھی۔

اگر اس ریاست کے اصولوں پر یہ طلاق ہوتی ہے تو جیف بیزوز کو 137 ارب ڈالرز میں سے 50 فیصد یعنی 68.5 ارب ڈالرز میکنزی بیزوز کو دینا پڑیں گے اور دنیا کی امیر ترین خاتون بن جائیں گی۔

ایمازون کے بانی اس سے اسی وقت بچ سکتے ہیں جب انہوں نے شادی سے قبل یا بعد میں اپنی اہلیہ سے کوئی معاہدہ کررکھا ہو۔

قانونی ماہرین کے مطابق اکثر بہت زیادہ امیر افراد شادی سے قبل معاہدہ کرلیتے ہیں کہ علیحدگی کی صورت میں ان کے اثاثے کس حد تک بیوی یا شوہر کو ملیں گے۔

یہ واضح نہیں کہ بیزوز خاندان نے ایسا کوئی معاہدہ کررکھا ہے یا نہیں، اگر نہیں تو میکنزی کو ایمازون کی ویلیو کے مطابق کم از کم 66 ارب ڈالرز تو واشنگٹن کے کمیونٹی پراپرٹی لا کے مطابق ملیں گے۔

تاہم ٹی ایم زی کی ایک رپورٹ کے مطابق جیف بیزوز نے اپنی بیوی سے ایسا کوئی معاہدہ نہیں کررکھا ہے اور علیحدگی کی صورت میں انہیں اپنے 50 فیصد اثاثوں سے محروم ہونا پڑے گا۔

اگر طلاق کا معاملہ اس رقم پر طے ہوا تو جیف بیزوز کو ایمازون میں اپنے حصص فروخت یا سابقہ اہلیہ کو منتقل کرنا ہوں گے جس سے وہ کمپنی کی ملکیت اور کنٹرول سے بھی محروم ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ جیف بیزوز کے پاس اس وقت ایمازون کے 16 فیصد کے قریب حصص ہیں۔

اثاثوں کی تقسیم اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ ایمازون کے اثاثوں سے ہٹ کر اس جوڑے کی ملکیت میں 4 لاکھ ایکڑ جائیداد بھی ہے، جبکہ جیف بیزوز اسپیس کمپنی بلیور اوریجن اور معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ کے بھی مالک ہیں۔

برطانوی روزنامے دی گارڈین کے مطابق جوڑے کی علیحدگی کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب ایک جریدے نیشنل انکوائرر کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جیف بیزوز انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے ایک ایجنٹ کی اہلیہ میں رومانوی دلچسپی لے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں