Daily Mashriq

احتساب قانون میں ترمیم

احتساب قانون میں ترمیم

ملک کے طول و عرض میں احتساب قانون پر شدید اعتراضات اور خصوصاً پلی بارگین کے ذ ریعے اربوں ڈکار کر چند کروڑ میں معافی تلافی کروانے والوں کی دوبارہ اپنے عہدوں پر بحالی اور دوبارہ کرپشن کا بازار گرم کرکے قومی خزانے کو مزید لوٹنے کے مواقع مہیا کئے جانے کی شق کے خلاف احتجاج کے بعد بالآخر حکومت نے احتساب قانون میں ترمیم کرتے ہوئے آرڈیننس جاری کردیا ہے جس کے تحت نہ صرف یہ کہ پلی بارگین کے اختیارات چیئر مین نیب سے واپس لے کر عدالت کو تفویض کردئیے گئے ہیں بلکہ پلی بارگین کرنے والوں پر تا حیات سرکاری شعبے میں ملازمت اور عوامی نمائندے ہونے کی صورت میں آئندہ کسی بھی الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ترمیمی آرڈیننس کا نفاذ فوری طور پر نافذ العمل ہونے کے ساتھ آج بروز پیر آرڈیننس سینٹ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزیر اعظم کی قائم کردہ قوانین جائزہ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے نیب آرڈیننس میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے اور اس سلسلے میں نیب آرڈیننس کی شق A-25 کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ سرکاری خزانے سے لوٹی گئی رقم کی رضا کارانہ واپسی یا پلی بارگین پر ایک ہی سزا کا طریق کار اپنایا جائے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ا حتساب آرڈیننس کے نفاذ اور احتساب عدالتوں کے قیام کے بعد لا تعداد لوگوں نے اس آرڈیننس سے فائدہ اٹھایا جس پر اگرچہ ابتدا ہی سے عوامی حلقے خاصے معترض تھے کیونکہ احتساب کے قوانین سے ملک میں کرپشن کے خاتمے کے علی الرغم کرپشن میں اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا تھا اور لوگ اربوں لوٹ کر کروڑوں اور کروڑوں ہڑپ کرکے لاکھوں واپس کرکے آسانی سے احتساب کی زنجیریں توڑنے اور بقیہ زندگی لوٹی ہوئی دولت کے سہارے عیش و آرام سے بسر کرنے میں کامیاب ہوتے رہے۔ اس ضمن میں بعض افواہیں یہ بھی گردش میں رہی ہیں کہ پلی بارگیننگ کے حوالے سے انڈر دی ٹیبل ڈیل بھی سزا میں کمی کا باعث تھی۔ اب ان افواہوں میں کہاں تک صداقت ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تاہم اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس قانون سے کرپشن کے خاتمے میں کوئی مدد نہیں مل رہی تھی بلکہ کرپشن کی حوصلہ افزائی کے امکانات زیادہ روشن تھے کیونکہ جو لوگ ملکی خزانے کو نقصان پہنچاتے و ہ یہی سوچ کر ایسا کرتے تھے کہ چلو اگر پکڑے بھی گئے تو کچھ دو اور زیادہ ہتھیالو کے قانون سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بچ جانے والی دولت کو شیر مادر سمجھ کر آسانی سے ہڑپ کرلیں گے اور یہی وہ صورتحال تھی جس نے عوام کو اس قانون کے خلاف سوچنے پر مجبور کردیا تھا اور جب حال ہی میں بلوچستان کے ایک اہم سرکاری عہدیدار کے خلاف حقائق سامنے آئے تو پورے ملک میں اس قانون پر انتہائی شدید اعتراضات ہونے لگے۔ اربوں کی رقم موصوف کے گھر سے برآمد ہوئی جس کو گننے میں نوٹ گننے والی کئی مشینیں بھی گرم ہو کر نا کارہ ہوئیں۔ کراچی اور دیگر مقامات پر متعدد بنگلے' سونے کی اینٹیں اور زر و جواہر برآمد ہونے سے عوام کی آنکھیں فرط حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں اور وہ انگشت بدنداں ہو کر رہ گئے۔ ادھر حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنمائوں نے اس قانون پر مسلسل اعتراضات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون بڑی مچھلیوں کو آسانی سے جال سے نکل جانے جبکہ چھوٹے ملزموں کو قانون کی گرفت میں لانے کا ذریعہ ہے جنہیں جیل میں سڑنے کے لئے ڈال دیا جاتا ہے اور اربوں کی لوٹ مار کرنے والوں کو پلی بارگین کے ذریعے آسانی سے سرکاری رقم کا تھوڑا سا حصہ واپس کرکے بقیہ رقم ساتھ لے جانے دیا جاتا ہے۔ ان اعتراضات پر کسی بھی حلقے کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں مل سکتا۔ یہ اعتراضات بالکل درست ہیں اور ان کا توڑ کرکے اگرچہ ترمیم شدہ آرڈیننس میں نیب چیئر مین سے پلی بارگین کے اختیارات لے کر احتساب عدالت کو ضرور دئیے گئے ہیں مگر اس سے انکار کیوں کرممکن ہے کہ عدالت کے سامنے کیس فائنل کرکے منظوری کے لئے نیب کا ادارہ ہی پیش کرے گا جس میں بہت سی گنجائش نکل سکتی ہے اور پھر اس بات کا کیا جواز ہے کہ ملکی خزانہ لوٹنے والوں کو بہر صورت پلی بارگین کی چھتری فراہم کرکے سودا بازی کی اجازت دی جائے۔ وزیر خزانہ ترمیم شدہ آرڈیننس کو اگرچہ دنیا بھر میں اپنی مثال آپ قرار دے رہے ہیں مگر اس بات پر فخر کرنے کی بجائے اگر قومی دولت لوٹنے والوں سے خزانے کی ایک ایک پائی وصول کرکے سخت سے سخت سزا دینے کا قانون لایا جاتا تو ملک سے کرپشن کے جڑ سے اکھڑنے کی امید روشن ہو جاتی مگر پلی بارگین کی ''سہولت'' دینے کے بعد یہ توقع عبث ہی ہوگی کہ کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ بہر حال چونکہ ترمیم شدہ آرڈیننس آج بروز پیر سینٹ میں پیش کیا جا رہاہے تو اب یہ سینٹ اور اس کے بعد قومی اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ پلی بارگین کی اس شرمناک صورتحال کو جڑ سے اکھاڑ کر کرپشن کے مکمل خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ آئندہ کسی کو قومی خزانے کو لوٹنے کی جرأت ہی نہ ہوسکے۔

متعلقہ خبریں