Daily Mashriq

چترال کے مسائل اور لواری ٹنل

چترال کے مسائل اور لواری ٹنل

یہ بات اظہر من اشمس ہے کہ سردی کے موسم میں لواری ٹاپ پربرفباری کے بعد چترال کے ساتھ رابطے کا واحد ذریعہ لواری روڈ ڈھائی تین ماہ تک بند ہو جا نے کی وجہ سے عوام کو ملک کے دیگر حصوں تک رسائی میں شدید مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ، لے دے کے یا تو ہوائی سفر یا پھر لواری ٹنل کے ذریعے ہی اس مشکل سے چھٹکارہ مل سکتا ہے مگر موسم کی خرابی کی وجہ سے پی آئی اے کی پرواز یں کئی کئی روز بلکہ ہفتوں تک معطل رہتی ہیں جبکہ لواری ٹنل کی تعمیر ابھی تک مکمل نہ ہونے کی بناء پر متعلقہ انتظامیہ کی مرضی ہے کہ وہ کب یہ راستہ کھولتی ہے اور کب بند کردیتی ہے ، یوں وادی میں رہنے والوں کو نہ صرف رابطے میں دشواریاں ہوتی ہیں بلکہ ضروریات زندگی کی فراہمی بھی ناممکنات میں سے ہوتی ہے ۔ اگر چہ لواری ٹاپ بندش سے پہلے وہاں اشیائے ضروریہ بڑی مقدار میں پہنچا دی جاتی ہیں تا ہم پھر بھی بعض اوقات قلت کی صورتحال انتہائی شدید ہو جاتی ہے ۔مستزاد طلباء کو پشاور ، اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں اپنے تعلیمی اداروں تک آنے میں دشواریوں کا سامنا رہتا ہے اور خاص طور پر بیماروں کو فوری طور پر بڑے ہسپتال میں منتقلی میں جن مصائب سے دو چار ہونا پڑتا ہے وہ ناقابل بیان ہے ۔ جبکہ چترال میں ان مریضوں کا علاج ممکن نہ ہونے کی وجہ سے ان کی جان کو خطرات لاحق رہتے ہیں ۔ اس ضمن میں آل پارٹیز چترال نے متعلقہ حکام کو چار دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ منگل تک لواری ٹنل کو ہفتے میں دو دن کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا تو جمعرات کے روز ضلع بھر میںشٹر ڈائون ہڑتال اور زبردست احتجاج کیا جائے گا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ چترال کے عوام گزشتہ ایک ماہ سے لواری ٹنل کو ہفتے میں دودن یا صبح شام دو دو گھنٹے کے لئے کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیںلیکن حکومت اور متعلقہ ادارے کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں ، جس کی وجہ سے چترال کے عوام تقریباً محصور ہو کر رہے گئے ہیں ، اور ضلع سے باہر جانے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ لواری ٹنل کا منصوبہ جو اتنی مدت سے تکمیل کی راہ دیکھ رہا ہے کیوں اب تک مکمل نہیں کیا جا سکا ، اس سلسلے میں ضروری فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنا کر جلد از جلد اس منصوبے کو انجام تک پہنچا دیا جائے تا کہ چترال تک رسائی ہر موسم اور حالات میں ممکن ہو سکے ۔

صوبے کے بجلی منصوبے

پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنا ئزیشن کے سو لہویں بورڈ آف ڈائریکٹر اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں پائے جانے والے توانائی کے قدرتی وسائل کو بر وئے کار لا کر توانائی انقلاب برپا کرنے کے لئے کوشاں ہے جس سے نہ صرف عوام کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات ملے گی بلکہ سستی بجلی کی پیداوار سے صوبے کی معیشت مزید مستحکم ہوگی ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ ایسے وسائل سے ما لا مال کر رکھا ہے جن سے اگر صحیح طور پر استفادہ کیا جائے تو نہ صرف صوبہ بلکہ پورے ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو سکتا ہے ، مگر بد قسمتی سے ملک میںمنصوبہ بند ی کے ادارے ان وسائل سے فائدہ اٹھانے میں بوجوہ کا نام رہے ہیں خاص طور پر صوبے کے بالائی علاقوں میں ایسے کئی مقامات کی نشاندہی ہو چکی ہے جہاں بغیر کوئی بڑا ڈیم بنائے صرف پانی کے بہائو اور چھوٹے آبشاروں کو مناسب انداز میں جنریٹ کر کے سستی ترین بجلی کی مقدار حاصل کی جا سکتی ہے ۔ تاہم صرف اور صرف کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر بضد ایک خاص لابی نے ان چھوٹے منصوبوں کی راہ میں پہلے تو آئین کے ذریعے قد غن یوں لگائی کہ صوبوں پر 50میگا واٹ سے زیادہ طاقت کے بجلی منصوبوں پر پابندی لگائی اور دیگر بڑے منصوبوں جن میں بھاشا ڈیم کا منصوبہ خاص اہمیت کا حامل ہے کی تعمیر سے اغماض برتنے کیلئے طرح طرح کے سوال اٹھائے جانے لگے حالانکہ یہ سب منصوبے ملک و قوم کے مفاد میں تھے ہیں اور رہیں گے ۔ جبکہ دوسری جانب کوئلے ، فرنس آئل اور گیس سے چلنے والے منصوبوں کو ترجیح دی جاتی رہی اور اب بھی وہی صورتحال ہے حالانکہ ان منصوبوں سے نہ صرف انتہائی مہنگی بجلی حاصل ہوتی ہے بلکہ ان سے ماحولیات پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خدا خدا کر کے اٹھا رہویں ترمیم کے ذریعے 50میگا واٹ کی شرط تو ختم کی گئی مگر پھر بھی زیادہ قوت کے بجلی منصوبوں کی اجازت وفاق سے لینے کی شرط عاید کی گئی ، اور خیبر پختونخوا کے پن بجلی منصوبوں کے لئے وفاق سرمایہ کاری میںنہ تو خود دلچسپی لیتا ہے اور فنڈز فراہم کر کے ملکی مفاد کے ان منصوبوں کو تعمیر کرنے میں صوبے کی مدد کرتا ہے ، نہ ہی صوبے کے پن بجلی بقایا جات اور کیپ شدہ رقم میں اضافہ کرنے کو تیا ر ہے ، جس کی وجہ سے یہ منصوبے تکمیل پذیر نہیں ہونے پاتے ۔ بہر حال اب جبکہ صوبے نے نجی شعبے کے تعاون سے ان منصوبوں کی تکمیل کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو امید ہے کہ 668میگا واٹ کے 7 منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں بجلی بحران پر قابو پانے میں بڑی حد تک کامیابی مل جائے گی ۔

متعلقہ خبریں