Daily Mashriq

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کیلئے پاکستان کا ڈوزئیر

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کیلئے پاکستان کا ڈوزئیر

اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے نئے سیکرٹری جنرل انٹونیوگوٹیریز کو بھارت کی طرف سے مداخلت کے بارے میں پاکستان کا ڈوزئیر پیش کر دیا ہے۔اس ڈوزئیر کے ساتھ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا خط بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ بھارت کو پاکستان میں مداخلت سے روکے۔ خط میں اور شواہد کے علاوہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کا بھی ذکر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ معاشی ترقی اور خوشحالی کے لئے خطے کے ممالک کا تعاون نا گزیر ہے۔ اس سے پہلے منگل کے روز وزیر اعظم ہائوس میں ایک اعلیٰ سطحی اہم اجلاس ہوا تھا جس میں خارجہ امور کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ' وزیر داخلہ' مشیر خارجہ' آرمی چیف اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی نے شرکت کی تھی۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے جنوبی ایشیاء کے ممالک میں پر امن بقائے باہمی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا ''پر امن بقائے باہمی ' باہمی احترام اور معاشی اعتبار سے مربوط خطہ ہمارا مشترکہ مقصد ہونا چاہئے اور ہمیں اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔'' اس سلسلے میں پاک چین راہداری منصوبے کی افادیت پر بھی زور دیا تھا۔ اس اجلاس کا مقصد نہ صرف خطے کے ممالک خاص طور پر بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا بلکہ تعلقات کی تجدید کے لئے نئی حکمت عملی کی تشکیل پر غور کرنا بھی تھا۔ جیسا کہ وزیر اعظم نواز شریف کے واضح پیغام سے ظاہر ہے کہ پر امن بقائے باہمی' باہمی احترام' معاشی اعتبار سے مربوط ہمارا مشترکہ مقصد ہونا چاہئے۔ پاکستان میں پاک چین راہداری کا منصوبہ تکمیل پا رہا ہے۔ اس سے خطے کے ممالک کے درمیان معاشی اور تجارتی روابط کے دروازے کھلیں گے اور خطے کے سبھی ممالک اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ لیکن اگلے ہی روز بھارت کی طرف سے اس کا جواب یہ آیا کہ نئے بھارتی چیف جنرل روہت نے ایک ٹی وی انٹرویو میں نہ صرف بھارت کے سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کو دہرایا بلکہ کہا کہ ضرورت پڑی تو مزید سرجیکل سٹرائیکس کی جائیں گی۔ پاکستان کی طرف سے پر امن بقائے باہمی' باہمی احترام اور معاشی طور پر مربوط خطے کی تشکیل کی پیش کش کے جواب میں سرجیکل سٹرائیکس کی دھمکی نے نہ صرف بھارت کے کروڑوں عوام کی خوشحالی کے امکان کی طرف پیشکش ٹھکرا دی بلکہ بھارت کو خطے کے دوسرے ممالک کی راہ میں بھی رکاوٹ بنا دیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے پر امن بقائے باہمی کے اصول پر مبنی تجدید تعلقات کے پیغام کے لئے وقت کے انتخاب کی حکمت کا اندازہ یہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کے ریاستی انتخابات تقریباً مکمل ہو چکے ہیں جن میں حکمران بی جے پی پاکستان مخالفت کا کارڈ استعمال کرتی اس لئے شاید نریندر مودی حکومت باہمی احترام پر مبنی مستقبل کے روشن امکانات کی قائل ہو جائے لیکن بھارت نے پاکستان مخالفت کا رویہ ترک نہ کیا۔ جنرل روہت کی بڑھک کے جواب میں پاکستان کے آرمی چیف قمر باجوہ نے صاف پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی جارحیت کے مقابلے کے لئے تیار ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھارت کی پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کارروائیوں کے بارے میں جو ڈوزئیردیاگیا ہے اس کے ساتھ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے خط میں بھی یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے بھرپور کارروائی کرے گا۔ جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو جو ڈوزئیر دیا گیا ہے اس پر اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔ یہ کہا گیا ہے کہ اس ڈوزئیر میں بھارت کی مداخلت کاری کے مزید ثبوت بھی پیش کئے گئے ہیں۔ اس سے پاکستان کے عوام کی ایک توقع پوری ہوئی ہے کہ ان کی حکومت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا موقف پیش کرنے کے لئے کارروائی کر رہی ہے۔ لیکن عوام یہ جاننا چاہیں گے کہ سیکرٹری جنرل کو ڈوزئیراور مشیر خارجہ کے خط پہنچائے جانے کے بعد اب کیا ہوگا اور کب ہوگا۔ اس ڈوزئیر کے بعد یہ اور بھی ضرور ی ہوگیا ہے کہ پاکستان کے سفارت کار ' حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندے دنیا بھر کے ممالک میں پاکستان کا موقف پیش کریں اور بھارتی روئیے کی جارجیت اور اس کی سیاسی اور سماجی بنیاد کو آشکارہ کریں۔ ایک ایسی ہی کوشش چند ماہ پہلے کی گئی تھی جب پارلیمنٹ کے ارکان کو متعدد ملکوں میں بھارت کے روئیے کے حوالے سے پاکستان کا موقف پیش کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے واپس آکر کیا رپورٹ پیش کی وہ مربوط انداز میں شائع نہیں ہوئی۔ البتہ ان کے چند ارکان نے بعض ٹی وی شوز میں کچھ مشکلات کا ذکر کیا۔ ان مشکلات کا جائزہ لیا جانا چاہئے تھا۔ان ارکان میں سے اکثر نے جن ملکوں میں گئے وہاں کے سرکاری حکام سے رابطے کئے' سرکاری حکام سے رابطے کرنا حکومت اور دفتر خارجہ کا کام ہے۔ ان وفود کا کام یہ ہونا چاہئے تھا کہ متعلقہ ممالک کی سول سوسائٹی کے موثر حلقوں' ادیبوں' دانشوروں کے اداروں' فنکاروں کی انجمنوں سے رابطے کرتے اور انہیں بھارت کے روئیے سے مطلع کرتے۔ انہیں یہ بتایا جاتا کہ بھارت کا رویہ نہتے کشمیریوں کو چھرے دار بندوقوں کے ذریعے بینائی سے محروم کرنے اور ان کے بدن اور چہرے مسخ کرنے کو جائز سمجھتا ہے۔ انہیں یہ بتایا جانا چاہئے کہ بھارت پاکستان کے خلاف اپنی جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے اور یہ رویہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ کی طرف لے جاتا ہے۔ انہیں یہ بتانا چاہئے کہ بھارت کے حکمران اپنی اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں اور اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ بھارت کی جارحیت کو آشکار کرنے کے لئے کہنے کو بہت کچھ ہے۔ اس سے پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے مضمرات کے بارے میں اقوام عالم کی رائے عامہ تشکیل پائے گی جو اقوام متحدہ میں ان کے مندوبین کی رائے میں منعکس ہوگی۔

متعلقہ خبریں