Daily Mashriq


بِلا وجہ

بِلا وجہ

ہر کالم لکھنے بلکہ ہر کام کرنے کی ایک وجہ ہوتی ہے۔لیکن میں یہ کالم '' بِلا وجہ ''لکھ رہا ہوں۔ اس لئے کہ اس کیفیت نے مجھے ایسی حالت سے دو چار کیا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ آخر ہم لوگ کچھ بلکہ اکثر کام بِلا وجہ کیوں کرتے ہیں۔چونکہ بِلاوجہ کاموں کے پیچھے کوئی سوچ کارفرما ہوتی ہے اور نہ کوئی حکمت، اسلئے اسی نوعیت کے کاموں کا کوئی فائدہ توسوچا بھی نہیں جا سکتا، لیکن نقصان کا اندیشہ اور احتمال بہر حال موجود رہتا ہے۔ تمہیدکو بِلاوجہ طول دینے کے بجائے میں ان کاموں کی طرف آتا ہوں جو ہم بِلا وجہ ہی انجام دیتے ہیں۔تنقید کرنا:۔میرے خیال میں جو کام ہم بہت خوشی اور سب سے زیادہ بِلاوجہ کرتے ہیں، ان میں کسی پر بے جا تنقید کرنا سرِ فہرست ہے۔آپ میں سے بہت سوں کے مشاہدے میں آیا ہوگا کہ ہم دوسروں کے کام میں کیڑے نکالنے کے اتنے ماہر ہیں کہ اگر ہمیں اختیار اور طاقت مل جائے تو ہم اوروں کے ہر کام کو اپنی تیزابی تنقید سے دھو کر اس پر اسی وقت فل سٹاپ لگا دیں گے۔ تنقید کرنا اچھی بات ہے اگر کسی چیز کے منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں کو ٹٹول کر اسے تعمیری شکل میں پیش کیا جائے۔ لیکن یہاں جس تنقید کی بات کی جا رہی ہے وہ تعمیری تنقید کے رشتے میں تو کیا اس کے دور کے پڑوس میں بھی نہیں۔ہم ایسا کیوںکرتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یا تو ہمارے پاس وقت کی بہتات ہوتی ہے اور یا پھر اس کام کے بارے میں ہمارا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔اس قسم کی تنقید سے نہ صرف اوروں کا دل دکھتا ہے بلکہ تنقید کرنے والا بھی اپنی وقعت کھو دیتا ہے۔

ناراض ہونا:۔ بِلا وجہ ناراض ہونا بھی ہماری ایک ایسی عادت بن چکی ہے جس کے بغیر اب ہمارا گزارا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات تو کسی سے ناراض ہونے کیلئے بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ اب بھلا یہ بھی کوئی ناراض ہونے کی بات ہے کہ اس نے اپنی شادی پر میرا خیال نہیں رکھا ، مجھے سلام نہیں کیا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے شکوے کرتے ہوئے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انسان کی کچھ مجبوریاں اور بعض اوقات کچھ الجھنیں بھی ہوتی ہیں۔

لیٹ آنا:۔بِلا وجہ لیٹ آنا تو ہم اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔ ہم اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ محسوس ہی نہیں کرتے ورنہ تو بہت سے دیگر ممالک میں اگر کوئی وقت مقررہ پر نہ پہنچ پائے تو نہ صرف برا مانا جاتا ہے بلکہ بسا اوقات تولیٹ آنے کی وجہ سے نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں دیرسے آنے کی وجہ سے کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہوتالہٰذا لیٹ پہنچنے پر پشیمانی تک کا اظہار نہیں کرتے۔ دنیا کے کام تو ایک طرف، ہم تو نماز بھی تاخیر سے ادا کے عادی ہو چکے ہیں۔ مخالفت کرنا:۔ کسی کی بِلاوجہ مخالفت کرنے میں بھی ہم اپنا ثانی نہیں رکھتے۔اختلاف رائے رکھنا یا کسی کی کوئی بات پسند نہ آکر اس کے ساتھ مدلل گفتگو کرنا اگر علمیت کی نشانی ہے تو بلا وجہ مخالفت کرنا ناسمجھی کی انتہا۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ہم مخالفت بھی نظرئیے کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی پسند اور ناپسند کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اور اپنی رائے کو تقویت دینے کیلئے نہ صرف غلط بیانی سے کام لیتے ہیں بلکہ الزام تراشی سے بھی گریز نہیں کرتے۔

دوسروں کو کمتر سمجھنا:۔دوسروں کو کمتر اور خود کو برتر سمجھنا بھی ان کاموں میں شامل ہے جو ہم بلا وجہ ہی کرتے ہیں۔ بعض لوگ احساسِ برتری کاشکار ہوکراوروں کو کمتر سمجھتے ہیں۔ ایسی ذہنیت کے لوگوں میں نہ صرف غرور بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے بلکہ ان کا رویہ بھی انتہائی حقارت آمیز ہوتا ہے۔

اسراف : فضول خرچی اگر ایک طرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے تو دوسری جانب سماجی ناہمواری کا بھی باعث ہے ۔ اکثر اوقات بیشتر لوگ اپنی حیثیت دکھانے کے لیے بے جا اور بلاوجہ اسراف کربیٹھتے ہیں۔ ایسے لوگ اگراڑوس پڑوس میں احساس کمتری پھیلانے کا باعث بنتے ہیں توضرورت کے بجائے نمود و نمائش کی اشیاء خرید کراپنا سکون بھی کھو دیتے ہیں ۔

وقت ضائع کرنا: اس پر توبات کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ کیونکہ ہم من حیث القوم وہ احساس کھو چکے ہیں کہ وقت قیمتی ہوتا ہے۔ اگر وقت ضائع کرنے کا عالمی مقابلہ ہو، تو کوئی مائی کا لعل بھی ورلڈ کپ پاکستان سے نہیں جیت سکتا۔

تعریف کرنا:۔ تعریف کرنے کا بھی کوئی موقع محل دیکھا جاتا ہے ۔ تاہم بعض لوگ اپنا مقصدحاصل کرنے کے لیے بلاوجہ تعریف کرتے ہیں۔اوریہی وجہ ہے کہ جائز کام کیلئے بھی تعریف کا سہارا لینا پڑتاہے۔ حالانکہ اس عمل سے دوغلاپن اور مکاری آشکارہ ہو جاتی ہے، لیکن چونکہ آج کل کے مادہ پرستانہ دور میں دنیاوی فائدہ ہی مقدم اور سب سے اہم ہے اس لیے کوئی بھی اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کالے کو گورا اور گدھے کو گھوڑا بنا سکتا ہے۔

طنز کرنا: بلاوجہ کسی پر طنز کرنا یا اس کی تحقیر کرنا بھی ایک ایساہی فعل ہے جس پر کسی کا خرچہ نہیں آتا اور اسی لیے ہم اکثر اس فریضے کو سرانجام دینے کے لیے ساری حد ودپار کرتے ہیں۔ طنز ایک مقصد کے لیے بھی ہو سکتا ہے لیکن ہم بلاوجہ کرتے ہیں اس لئے ہماری نظر اس پہلو پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے اوروں کی بے عزتی کا احتمال ہو۔متذکرہ بالاباتیں معمولی ضرور ہیں۔ تا ہم اس کے اثرات اوروں کیلئے زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ ہمیں چاہئے کہ بِلا وجہ کے ان کاموں سے اجتناب کرکے نہ صرف اپنا قیمتی وقت اور سرمایہ بچائیں بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کی بِلا وجہ دل آزاری اوربے عزتی کے مرتکب ہونے سے بھی بچیں۔اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ ایسا کرنے سے ہمارے بہت سے مسئلے بلاوجہ دورہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں