Daily Mashriq


دفاعی اتحاد کی سربراہی

دفاعی اتحاد کی سربراہی

قرآن کریم کی آیت مبارکہ ہے '''انما المؤمنون اخوة'' تمام مومن بھائی بھائی ہیں لیکن بعض احباب کو یہ اخوت گوارا نہیں ہے۔ انہیں نجانے کیوں اس تصور سے ہی چڑ ہے۔نیٹو جیسے دفاعی اتحادوں سے انہیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن جیسے ہی مسلمان ملکوں کے دفاعی اتحاد کی بات سامنے آتی ہے یہ لوگ امہ کے تصور کو کوسنے لگتے ہیں۔ مغربی ملکوں کے عوام نے سولہویں صدی عیسوی میں مذہب سے بغاوت کی اور مذہبی پروہتوں سے نجات پا کر اپنے آپ کو گوشہ عافیت میں محسوس کیا۔ مغرب کی تھیوری ہے کہ کرہ ارض کے تمام انسانوں کو ان کی پیروی کرنی چاہئے۔ ہم مسلمانوں میں سے ایک گرہ ان کا ہمنوا ہے اور یوں سوچے سمجھے بغیر کہ اصل معاملہ کیا ہے وہ مغربی تہذیب اور نیشنلزم کے ان کے تصور کو انسانی فلاح کے لئے نا گزیر گردان رہا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مغرب نے پروٹسٹنٹ تحریک کے ذریعے مذہب سے نجات پا کر اپنے آپ کو جس مغربی تہذیب کے سپرد کیا اہالیان مغرب اسلام کو اس کا بد ترین دشمن سمجھتے ہیں۔ آج سارا جھگڑا مغربی تہذیب کی برتری کا ہے۔ کل تک کمیونزم ان کے لئے خطرے کا باعث تھا لہٰذا تمام توپوں کا رخ اس کی طرف تھا جبکہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اسلامی تہذیب اہل مغرب کے نشانے پر ہے۔نوے کی دہائی میں سیموئیل ہنٹگٹن نے ''تہذیبوں کے درمیان تصادم'' نامی کتاب یونہی نہیں لکھی۔ درحقیقت یورپ اور امریکی ایوان اقتدار میں اس وقت یہ منصوبہ بندی ہو رہی تھی کہ اسلام کو کائونٹر کیسے کرنا ہے۔ درحقیقت مغربی تہذیب کے نام لیوائوں کو اسلام سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے سامنے اسلام کی ایسی شکل پیش کی جائے کہ غیر کیا اپنے بھی اس کا نام سن کر منہ پھر لیں ۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے جب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ڈول ڈالا گیا ہے محب اسلام قوتیں اپنی پوری قوت کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں کہ اسلاموفوبیا کا شکار ہو کر مغرب جارحیت کی جس پالیسی پر عمل پیرا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ دوسری جانب اسلام سے محبت رکھنے والے دل و دماغ بالآخر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جب تک اپنی صفوں سے ایسے لوگوں کو خود سے اکھاڑ پھینکا نہیں جاتا جو اسلام کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے خفیہ طاقتوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں تب تک بیرونی دنیا کے سامنے اسلام کا دفاع کرنا بہت مشکل کام ہوگا۔ اس مقصد کو پانے کے لئے مختلف مسلمان ممالک میں کوششیں ہو رہی تھیں مگر سعودی عرب کے فرمان روا شاہ سلمان نے 34مسلمان ممالک کے دفاعی اتحاد کی صورت گری کرکے ان کوششوں کو خوبصورت اجتماعی شکل دے دی ہے۔ آج دہشت گردی کے خلاف مسلمان ممالک کا یہ اتحاد39ممالک پر مشتمل ہے اور بحیثیت پاکستانی میرے لئے فخر کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی افواج کے سابق سپہ سالار 39ممالک کی افواج کے سربراہ مقرر کردئیے گئے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن ضرب عضب کرنے والے جنرل راحیل شریف کی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف تھا چنانچہ مسلمان ممالک کے دفاعی اتحاد کا سربراہ بننے کے لئے ان سے بہتر کوئی اور شخصیت کیسے ہوسکتی تھی۔ میں ان کالموں میں لکھتا آرہا ہوں کہ دنیا کے معروضی حالات میں مسلمان جب تک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہوں گے ان کی مشکلات کاخاتمہ نہ ہوسکے گا۔ یہ بات ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب ہماری منفعت اور ہمارا نقصان ایک ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں معاشی اور دفاعی لحاظ سے بھی ایک ہونے کی ضرورت ہے۔ معاشی اتحاد کے حوالے سے یورپی یونین کی طرز پر مسلمان ممالک کا ایک زبردست معاشی بلاک وجود میں آنے کا پوٹیشنل موجود ہے مگر باہمی ریشہ دوانیاں اس خواب کی تعبیر میں رکاوٹ بنتی آرہی ہیں۔ ۔۔۔اللہ کرے کہ مستقبل قریب میں یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو لیکن خوشی یہ ہے کہ حالات کے جبر نے مسلمان ممالک کو دفاعی اتحاد کی زنجیر میں باندھ دیا ہے۔امید کی جاسکتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بنائے جانے والے اس دفاعی اتحاد کے طفیل مسلمان ممالک مل کر دہشت گردی کے عفریت پر نہ صرف قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے بلکہ ان سازشوں کا بھی قلع قمع کرنے میں کامیابی ہوگی جن کی منصوبہ بندی مسلمان ممالک میں انتشار پھیلانے کے لئے کی جاتی ہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ نیشن سٹیٹ کے تصور کے تحت زندگی جیو جبکہ مغربی دنیا ہم سے ''مسلمان ملک'' کے حساب سے ڈیل کرتی ہے۔ جن مسلمان ممالک نے سیکو لر ازم کو اپنایا انہیں بالآخر کیا ملا؟ ترکی کی مثال سامنے ہے۔ مجھے مشہور برطانوی مورخ ٹائن بی کا وہ جملہ یاد آرہا ہے جو انہوں نے پچاس کی دہائی میں ترکی کے حوالے سے ادا کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ترکی کو کہتے رہے کہ ''اپنا مذہب ترک کردے اور جب اس نے ایسا کردیا تو ہمارے پاس سوائے توہین کے اسے دینے کے لئے کچھ نہیں ہے'' یہ ہماری اصل حقیقت جس کو بعض نادان دوست سمجھنے سے قاصر ہیں۔ آج ترکی سیکولر ازم کی راہ چھوڑ کر دوبارہ اسلام اور اسلامی دنیا سے اپنا رشتہ جوڑ رہا ہے تو داعش جیسی مغرب کی پیدا کردہ دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے وہاں دہشت گردی کا بازار گرم کیا جارہاہے۔ مسلمان ممالک کے لئے بیرونی سپانسرڈ دہشت گرد تنظیموں کا خطرہ در اصل وہ بڑا خطرہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے مسلمان ممالک کے دفاعی اتحاد کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ خدا کرے کہ یہ دفاعی اتحاد مستقل بنیادوں پر قائم رہے تاکہ اس اتحاد کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان ملک کو بیرونی قوتیں اپنے مذموم عزائم کی بھینٹ نہ چڑھا سکیں ۔جیسا کہ افغانستان' عراق' لیبیا اور شام کو تاخت و تاراج کرنے کے لئے آگ و خون کا کھیل کھیلا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں