Daily Mashriq

عبرت سرائے دہر ہے ۔۔۔۔

عبرت سرائے دہر ہے ۔۔۔۔

زندگی کے سفر میں قدم قدم پر نت نئے تجربات حاصل ہوتے رہتے ہیں سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اس کی حماقتیں اسے تجربہ کار بنادیتی ہیں پے درپے شکستوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے مگر ہر ناکامی اسے کچھ نہ کچھ سبق سکھاتی چلی جاتی ہے یوں کہیے زندگی پچھتاووںکی کہانی ہے کہتے ہیں صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے ! اپنی غلطی پر شرمندہ ہوکر معافی مانگ لینے والوں کو نجات مل جایا کرتی ہے۔ واپسی کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنی طرف لوٹ آنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا کبھی کبھی اس طرح بھی ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے کیے ہوئے اعمال پر پچھتاواتو بہت ہوتا ہے وہ ان لوگوں سے معافی کا طلب گار بھی ہوتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پھر وہ لوگ اسے نہیں ملتے جن کا اس نے دل دکھایا ہوتا ہے جن کا حق مارا ہوتا ہے ۔ہمیں والد صاحب کارپوریشن کے ایک ریٹائر آفیسر کا قصہ سنایا کرتے تھے وہ اپنی ساری سروس کے دوران بہتی گنگا میںخوب ہاتھ دھوتا رہا اس نے بڑا مال کمایا جوانی تھی صحت بھی شاندار تھی وہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے ہی کو زندگی کا مقصد سمجھ بیٹھا تھااس کا ایک ہی بیٹا تھا لیکن اب اس کا کیا علاج کہ لالچ انسان کو اندھا کردیتی ہے ہوشیار آدمی تھا خوب جائیداد بنائی۔ ایک حد سے بڑھی ہوئی ہوشیاری یہ کی کہ کالے دھن سے خریدی ہوئی جائیداد اپنے بھائی کے نام پر خریدتا رہا۔ اس کا بھائی چھوٹا موٹا دکاندار تھا وقت دبے پائوں گزرتا رہتا ہے۔ آخر ایک دن وہ ملازمت سے سبکدوش ہوگیا تو بھائی سے کہا چلو یار میری جائیداد کے کاغذات وغیرہ نکالو اب جائیداد میرے بیٹے کے نام منتقل کرنی ہے۔ بھائی نے طوطے کی طرح آنکھیں پھیرتے ہوئے کہا کون سی جائیداد؟ کس جائیداد کی بات کرتے ہو؟اگر کوئی ثبوت ہے تو لائو ورنہ جائو اپنا کام کرو۔ اپنا اور میرا وقت ضائع مت کرو! ثبوت کہاں تھا جو وہ پیش کرتا اسے شدید دھچکا لگا۔ اگر شطرنج کی بساط پر وزیر اور زندگی کی بساط پر ضمیر مات کھاجائے تو سمجھو کھیل ختم ہوگیا ۔اس حرام خور آفیسر کا کھیل بھی ختم ہوچکا تھا۔ مال حرام بود بجائے حرام رفت!صدمہ اتنا زیادہ تھا کہ بیمار پڑ کر صاحب فراش ہوگیا جسمانی بیماری ایک طرف اسے جب اپنے گزرے ہوئے دن یاد آتے تو تڑپ اٹھتا۔ اس نے لوگوں کو کتنی تکلیف دی تھی لوگوں کے جائز کام بھی رشوت لے کر کیے تھے۔ جان بوجھ فائل روک لینا اور پھر جب تک رشوت کی پوری پوری رقم وصول نہ ہوجاتی اس وقت تک فائل پر کوئی کام نہ ہوتا لیکن آج وہ ساری رشوت کی کمائی جس کا اس نے حساب دینا تھا اس سے چھن چکی تھی ۔ انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے یہ قانون قدرت ہے اس میں تبدیلی نہیںہوتی! خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں جلد ہی اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوجاتا ہے ورنہ انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب مداوا ممکن نہیں ہوتا ۔انگلش لکھاری Bronnie Wareنے انسانی پچھتاووں کے حوالے سے بڑی مفید کتاب لکھی ہے The top five regrets of dying (مرتے ہوئے لوگوں کے پانچ پچھتاوے)اس نے سینکڑوں لوگوں کا انٹرویو کیا اور یہ وہ لوگ تھے جو اپنی آخری سانسیں گن رہے تھے ۔اس کا ان سے ایک ہی سوال ہوتا تھا کہ کوئی ایسی کمی ایسی کوتاہی جو زندگی میں سرزد ہوئی ہویا کوئی ایسا کام جس کے نہ کرنے کا اب پچھتاوا ہو؟ سینکڑوں جوابات میں سے اس نے پانچ جواب منتخب کیے یہ وہ پانچ پچھتاوے تھے جو مرتے ہوئے لوگوں کی اکثریت نے بیان کیے تھے ۔1) اتنی ہمت نہیں تھی کہ زندگی کو اپنی مرضی سے جیتا ارد گرد کے لوگوں کی توقعات کے حساب سے زندگی بسر کرتا رہا۔2)اپنے اصل جذبات و خیالات سے دوسروں کو آگاہ نہ کر پائے کہ وہ ناراض ہوجائیں گے ایک عامیانہ زندگی گزاری سچ بات کہنے کا حوصلہ نہیں تھا۔3)جیسے جیسے وقت گزرتا رہاحالات بدلتے رہے تو دوست بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پرانے دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہتے مگر پرانے دوستوں کو بھلا کر کام اور کاروبار میں الجھے رہے ۔رات دن ایک ہی دھن تھی کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کیسے کمایا جائے نئے پروجیکٹس کیسے شروع کیے جائیں جب ہوش آیا تو وقت گزر چکا تھا زندگی کے بہترین شب و روز کام اور کاروبار کی نذر ہو چکے تھے ۔دوستوں کے حوالے سے ایک عجیب حقیقت سامنے آئی کسی کے پاس ان کے سانس ختم ہوتے وقت ان کے دوست موجود نہیںتھے ۔ 4)بچوں اور خاندان کو زیادہ وقت نہ دے سکے اتنا کام نہیں کرنا چاہیے تھا اس کا نقصان یہ ہوا کہ رشتوں کی دنیا میں اکیلے رہ گئے۔5)اپنے آپ کو ذاتی طور پر خوش رکھنے کے لیے کوئی محنت نہیں کی۔ انہوں نے دوسروں کی خوشی کو اپنی خوشی جان لیا تھا لیکن جب حقیقت کی آنکھ کھلی تو پھر کوئی بھی اپنا نہیں تھا کسی کو بھی ان کی خوشیوں کا احساس نہیں تھا تنہائی اور بیماری میں کون ساتھ دیتا ہے یہ تو دنیا کا دستور ہے کہ ہنسنے والوں کے ساتھ سب ہنستے ہیں لیکن برے وقت میں انسان کو پھر اکیلا ہی رونا پڑتا ہے ۔ تنہائی کی اس کٹھن منزل کے حوالے سے منیر نیازی نے کیا خوبصورت تصویر کشی کی ہے۔

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اشک رواں کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو

یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد

تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

متعلقہ خبریں