Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

سلیمان القرشی کا بیان ہے کہ یمن کی گزرگاہوں پر میں جانب منزل رواں دواں تھا کہ راستے میں مجھے ایک لڑکا ملا جس نے اپنے دونوں کانوں میں دو بالیاں پہن رکھی تھیں ۔ ہر بالی میں قیمتی نگینہ لگا ہوا تھا جس کی چمک سے اس کا چہرہ مزید پر رونق نظر آرہا تھا ۔ وہ اشعار کے ذریعے اپنے پرور دگار کی تعریف و تو صیف بیان کر رہا تھا ۔ میں نے اس کے قریب ہو کر اسے سلام کیا ۔ اس نے کہا : میں تمہارے سلام کا جواب اس وقت تک نہیں دے سکتا جب تک کہ تم میرا حق نہ دے دو جو تم پر واجب ہے ۔

میں نے پوچھا : بھلا تمہارا کون سا حق مجھ پر ہے ؟ لڑکے نے کہا : میں ابرا ہیم خلیل کی سنت پر عمل کرنے والا ایک لڑ کا ہوں ۔ میرا روزانہ کا معمول ہے کہ میں کھانا اس وقت تک تناول نہیں کرتا جب تک کہ میل دو میل کسی مہمان کی تلاش میںنہ نکلوں جو میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو سکے ۔ میں نے لڑکے کی بات مان لی ۔ اس نے پر جوش انداز میں مجھے خوش آمدید کہا ۔ جب ہم اس کے بالوں سے بنے ہوئے خیمے کے قریب پہنچے تو اس نے با آواز بلند پکارا :'' باجی ، باجی ! '' آواز سن کر لبیک کہتی ہوئی ایک نو جوان دو شیزہ خیمے سے باہر نکلی ۔ لڑکے نے کہا : ہمارے اس مہمان کی خاطر تواضع کا بند وبست کرو ۔ لڑکی نے جواب دیا : ذرا صبر کرو تاکہ میں اپنے مولیٰ کریم کے دربار میں شکرا نے کی نماز پڑھ لوں ، جس نے ہمیں اس مہمان کی مہمان نوازی کا موقع عنایت فرمایا ۔ پھر وہ دوشیزہ کھڑی ہوئی اور شکرانے کے طور پر دو رکعت نماز ادا کی ۔ لڑکے نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے خیمے کے اندر بٹھا یا اور چھری لے کی ایک بکری کے بچے کی طرف بڑھا اور اسے ذبح کیا ۔ خیمے میں بیٹھنے کے دوران اچانک میری نگاہ دوشیزہ پر پڑی جو حسین و جمیل اور پر رونق شکل و صورت کی مالک تھی۔ اس نے میری نگاہ کو بھانپ لیا اور بول اٹھی :''ارے کیا دیکھ رہے ہو ؟ کیا تمہیں وہ حدیث معلوم نہیں جو ہم تک صاحب یثرب ۖ کی جانب سے پہنچی ہے ۔ ''آنکھوں کا زنا غیر محارم کی طرف دیکھنا ہے ؟''

یہ حدیث سنا کر تمہیں ذلیل کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ اس سے میرا مقصد تمہیں ادب سکھلانا ہے تا کہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرو۔'' جب سونے کا وقت ہوا تو میں اور لڑکا خیمے کے باہر ہوئے اور لڑکی نے خیمے کے اندر رات گزاری ۔میں نے رات کو نرم ، گد از آواز میں قرآن کریم کی تلاوت سنی ۔ صبح کو میں نے لڑکے سے پوچھا : '' یہ آواز کس کی تھی ؟ ''

لڑکے نے بتایا وہ میری بہن ہے جو رات بھر قرآن پڑھتی رہی ۔ ''میں نے کہا : '' اے لڑکے ! تم اپنی بہن سے کہیں زیادہ اس عمل کے مستحق ہو ، کیونکہ تم مرد ہو اور وہ عورت ۔ '' لڑکا میری بات سن کر مسکرایا اور بولا :

'' افسوس ہے تجھ پر اے جوان ! کیا تجھے معلوم نہیں کہ اس عمل کا دارومدار توفیق الہٰی پر ہے ؟ اگر خدا نے توفیق دے دی تو آدمی کامیاب ، بصورت دیگر ذلیل و رسوا ۔ ''

مہمان نوا ز بہن بھائی کا انو کھا واقعہ ہے ۔

متعلقہ خبریں