پاکستان سے امریکی عسکری قیادت کا تازہ رابطہ

پاکستان سے امریکی عسکری قیادت کا تازہ رابطہ

امریکہ کے سیکریٹری دفاع جنرل جیمز میٹس نے واضح کیا ہے کہ پاکستان پر عسکری امداد کی پابندی کے باوجود پینٹاگون پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت خصوصاً چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطے بحال کررہا ہے۔پینٹا گون میں پریس بریفنگ کے دوران جنرل جیمز میٹس نے کہا میرا خیال ہے کہ گزشتہ روز جنرل جوزف وٹل نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے فون پر گفتگو کی اور ہم مزید رابطے کی فضا بحال کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سول حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار نبھا سکتی ہے۔دوسری جانب دونوں ممالک میں کشیدگی کے باوجود امریکی اور پاکستانی حکام ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات رکھے ہوئے ہیں، گزشتہ روز امریکی سیکریٹری دفاع جیمس میٹس نے کہا تھا کہ عسکری امداد کی بندش کے باوجود پینٹاگون پاکستان کی فوجی قیادت کے ساتھ رابطہ رکھے ہوئے ہے۔ادھر سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ جہاں تک ممکن ہوسکے گا تعلقات برقرار رکھے گا کیونکہ امریکا نہ صرف عالمی طاقت ہے بلکہ خطے میں اپنی موجودگی رکھتا ہے اور وہ ہمارے لیے تقریباً ہمارا ہمسایہ ہی ہے۔امریکی اعلیٰ عہدیدار کی طرف سے عسکری امداد کی معطلی کے باوجود پاکستان کے ساتھ امریکہ کی عسکری قیادت سے رابطہ کی بحالی اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ امداد کی معطلی کے باوجود تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور اس ضمن میں پہل کرنے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھتا۔ امریکی صدر کی مضحکہ خیز ٹویٹ کے بعد عسکری امداد کی معطلی معمول سے ہٹ کر عمل ضرور تھا لیکن یہ اپنی نوعیت کا پہلا موقع نہ تھا البتہ کسی ممکنہ کارروائی کے خدشات کے اظہار کے ساتھ حفظ ما تقدم کے طور پر پاک فضائیہ کو ہائی الرٹ پر رکھنے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کی کوشش کا مسکت جواب دینے کی تیاری سے جو تشویش بڑھ رہی تھی تازہ پیشرفت کے بعد وہ خطرہ باقی دکھائی نہیں دیتا گو کہ امریکہ کی پاکستان کے اندر کوئی ممکنہ کارروائی خارج از امکان تھی لیکن بہر حال پوری تیاری کی حالت میں آنا اور اس کا اظہار قوم کی تسلی کے لئے ضروری تھا۔ اب بھی پاک فضائیہ اسی طرح الرٹ ہی ہوگی لیکن امریکی عہدیدار کے بیان کے بعد اسے معمول گردانا جائے گا۔ بہر حال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بلا سوچے سمجھے جو ٹویٹ کی تھی اس کے اثرات اور پاکستان کی جانب سے ممکنہ مدافعتی عمل اور اقدامات کا امریکیوں کو اب بخوبی احساس و ادراک ہوچکا ہوگا۔ امریکی فوجی قیادت کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطہ ایک اہم پیشرفت ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی معمول کی طرف مراجعت شروع ہوگی۔ جہاں تک امداد کی معطلی سے متعلق تفصیلات کا سوال ہے اصولی طور پر ان میں کوئی نئی بات نہیں تھی پریسلر ترمیم کے بعد بعض یقین دہانیوں کے بعد امداد کا اجراء معمول بن چکا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو دوسری جانب پاکستان نے بھی امریکی اعتراضات کو دور کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات سے گریز نہیں کیا۔ فوری طور پر جماعت الدعوۃ سے متعلق فیصلہ اور دیگر تنظیموں کی فہرست کے اجراء کے ساتھ ان تنظیموں کی مالی مدد کو جرم قرار دینا معمولی اقدام نہ تھا۔ بہر حال درون خانہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دنوں اور روابط کی بحالی کا عندیہ ملنے کے بعد سفارتی ذرائع سے ر ابطے اور گفت و شنید جاری رہنا اور جاری رکھا جانا فطری امر تھا۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے سول حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار نبھانے کی توقع حکومتی اقدامات پر اعتماد کا مظہر اور امریکی سوچ کا عکاس ہے۔ سیکرٹری خارجہ اور امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر کا اس بحران میں کردار اور روابط حالات کو معمول پر لانے میں بڑی حد تک کامیاب رہیں جوسفارتی میدان میں فعالیت کامظہر ہے۔ وزیر دفاع کا اس سارے عمل میں لب و لہجہ اور موقف قومی خواہشات کا آئینہ دار تھا جنہوں نے پورے استدلال کے ساتھ امریکی اقدام پر ردعمل دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے پر ملکی قیادت کا اکٹھ ہی وہ نسخہ کارگر اور ایک ٹھوس قومی موقف کااظہار تھا جس کے بعد بجائے اس کے کہ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کو آگے بڑھاتا اس کے بیان کے اثرات زائل کرنے میں مصروف ہے۔امریکہ کو پاکستان سے تعلقات کی اہمیت او ر افادیت کا تو بخوبی علم ہے لیکن اگر امریکی محکمہ دفاع اور وزارت خارجہ سوچے سمجھے بغیر ٹویٹ کرنے والے قصر ابیض کے مکین کو اس کی اہمیت سمجھا دیں تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بلا وجہ ارتعاش کی نوبت نہیں آئے گی۔ کسی فرد واحد کی طرف سے یکطرفہ طور پر کوئی ٹویٹ کوئی معنی نہیں رکھتاخواہ وہ امریکہ کا صدر ہی کیوں نہ ہو۔ ملکوں کے معاملات آمنے سامنے بیٹھ کر حقائق اور ریکارڈ کی روشنی میں طے ہوتے ہیں۔ امریکی اور پاکستانی حکام جب اپنے اپنے موقف کی پرتیں کھولیں گے تو معلوم ہوگا کہ کس نے کیا دیا اور کس نے کیا کھویا اور کیا پایا۔

اداریہ