آبی آلودگی کی روک تھام کیلئے جلد اقدامات ضروری

آبی آلودگی کی روک تھام کیلئے جلد اقدامات ضروری

دریائے سوات کے کنارے آبی آلودگی کا سبب بننے والے غیر قانونی مذبح اور ہوٹلوں کے خلاف ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کی قیادت میں کارروائی احسن اقدام ہے جس کی دیگر اضلاع میں بھی تقلید کی جانی چاہیئے۔ دریائے سوات میں سیوریج کا پانی گرانے کا مسئلہ صرف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس سے ہی نہ ہوتا ہوگا بلکہ دریا کے کنارے واقع آبادی بھی آلودگی پھیلانے میں کسی نہ کسی طرح شریک ہوتے ہوں گے ۔ کوڑا کرکٹ ندی نالوں اور دریامیں بہانا بھی معمول کی بات ہے جس کے باعث نہ صرف دریا کا پانی آلودگی کا شکار ہو کر نا قابل استعمال ہو جاتا ہے بلکہ مچھلیوں کی افزائش میں بھی رکاوٹ کا باعث ہے جبکہ مچھلیوں کی موت کا باعث بننے کی بھی نوبت آجاتی ہے۔ ایسی صورتحال سوات کے علاوہ دیر ،تیمرگرہ ، چترال ،شانگلہ اور کوہستان سمیت قبائلی و بندوبستی علاقوں میںیکساں سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے ۔ ضلع چترال میں ہسپتال کی ایمبولنس میں طبی فضلہ بھر کر دریا ئے چترال میں پھینکنے کی ویڈیو کا وائرل ہونا زیادہ پرانی بات نہیں اس کے باوجود صوبائی حکومت اور خاص طور پر محکمہ ماحولیات کی جانب سے پر اسرار خاموشی اختیار کرنا تعجب خیز امر ہے۔ خیبر پختونخوا میں سیاحتی مقامات آلودگی سے اس طرح اٹتے جا رہے ہیں کہ اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو قدرتی ماحول کو بچانا مشکل ہوگا اور یہ علاقے کوڑا کرکٹ سے اٹے ہونے کے باعث اپنی کشش اور حسن کھو دیں گے۔ سوات انتظامیہ کی طرح صوبے کے تمام اضلاع میں اور صوبائی دارالحکومت میں نہروں کو آلودگی سے بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت کو اس مسئلے کا فوری احساس ہوگا اوراس ضمن میں ہنگامی طور پر انتظامی اختیارات کو بروئے کار لایا جائے گا۔ ہوٹلوں‘ ریسٹورنٹس اور کارخانوں کے آلودہ پانی کے دریا میں گرنے سے قبل اس کی صفائی یا پھر آلودہ پانی کو دریائوں اور ندی نالوں تک آنے سے مکمل طور پر روکنے کا معقول بندوبست کیاجائے۔
پارکنگ کا سنگین مسئلہ
صوبائی دارالحکومت پشاور میں کار پارکنگ کو اگر انسانی ضرورت اور مسئلہ ہی تسلیم کیاجاتا تو اس ضرورت کا خیال رکھنے کی سعی ہوتی اور شہری یوں سڑکوں پر غیر قانونی پارکنگ کے خود ساختہ ٹھیکیداروں اور ٹریفک پولیس کے رحم و کرم پر نہ ہوتے۔ سڑک پر گاڑی کھڑی کرنا خود گاڑی مالک کے لئے بھی کوئی محفوظ اور آسانی کاباعث امر نہیں مگر دوسرا کوئی ذریعہ نہ ہونے کے باعث ایسا کرنا مجبوری بن جاتی ہے۔ ہمارے نامہ نگار کی تحقیق کے مطابق پشاور میں سات سو پلازوں میں کار پارکنگ کی سہولت موجود ہی نہیں۔ جن پلازوں میں نقشے کی منظوری کی زحمت اٹھانے کی گنجائش رکھی گئی ہوتی ہے وہاں پر بعد میں گودام دفاتر اور دکانیں بنا دی جاتی ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ نجی میڈیکل سنٹرز اور سرکاری ہسپتالوں میں بھی پارکنگ کی سہولت میسر نہیں اور جہاں ادھوری سہولت ہو وہاں پر اسے عوامی ضرورت گرداننے کی بجائے ذریعہ کاروبار بنا دیاگیا ہے۔ چونکہ صوبائی دارالحکومت میں منظم طور پر کار پارکنگ کے لئے جگہیں مختص نہیں اس لئے کارپارکنگ کی فیسوں کا تعین بھی نہیں ہے۔ پشاور کو پھولوں کا شہر بنانے کے دعوے کرنے والوں کو اگر شہریوں کو بوقت ضرورت گاڑی کھڑی کرنے کی ضرورت کا احساس ہوتا اور لوگ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر گاڑی کھڑی کرکے ٹریفک کے بہائو اور پیدل چلنے والوں کے لئے زحمت کا باعث بننے پر مجبور نہ ہوتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ بہر حال ریپڈ بس منصوبے کی تکمیل کے بعد اس مسئلے کے ضمن میں بہتری کی توقع ہے۔ خدا کرے کہ یہ توقع پوری ہو۔ پی ڈی اے‘ کنٹونمنٹ بورڈ اور ٹائونز کے حکام کو چاہئے کہ وہ اپنی اپنی حدود میں قائم پلازوںمیں کار پارکنگ کی سہولیات کی عدم موجودگی یا تہہ خانوں کو پارکنگ کی بجائے دیگر کاروباری مقاصد کے لئے استعمال ہونے کا نوٹس لیں۔ ایسے پلازوں کو سیل کردیا جائے جہاں قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہو اور اس وقت تک یہ پلازے بند رکھے جائیں جب تک اس کے مالکان پارکنگ کا بندوبست نہیں کرتے۔ سڑکوں کو غیر قانونی طور پر نیلام کرکے ٹھیکے پر دینے کے عمل کی ممانعت کے ضمن میں ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کیا جائے۔ بہتر ہوگا کہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اس مسئلے کا از خود نوٹس لیں اور عدالتی احکامات سے روگردانی کے مرتکب عناصر کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کا جائزہ لیا جائے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیر بلدیات کو شہریوں کے اس سنگین مسئلے اور اس کے باعث اہالیان شہر کی مشکلات کا ادراک ہونا چاہئے۔ اس وقت چونکہ ریپڈ بس منصوبے کی تعمیراتی کام کے باعث سارے شہر کی سڑکیں رش کا شکار ہیں۔ ایسے میں سڑکوں سے غیر قانونی پارکنگ کا خاتمہ اور پارکنگ کے متبادل انتظامات سے ٹریفک کی صورتحال میں بہتری ممکن ہے۔

اداریہ