حقانی نیٹ ورک کا اصل محافظ؟

حقانی نیٹ ورک کا اصل محافظ؟

حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید اگر حقیقت میں پاکستان سے امریکہ کی ناراضگی کی واحد اور آخری وجہ ہوتے تو پاکستان اپنے روایتی اور عالمی’’ دوست‘‘ امریکہ کی راہ کے یہ کانٹے چن کر اس کی جبیں کی شکنیں کب کا دور کر چکا ہوتا اور دونوں کسی دیومالائی کہانی کے انجام کی طرح ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے ۔اثاثے بوجھ بن جائیں اور خود اپنے لئے باعث آزار وآلام بن جائیں تو ریاستیں اثاثوں کو بوجھ سمجھ کر پٹخنے میں لمحوں کی دیر نہیں کرتیں۔پاکستان بھی ایک قومی ریاست کے طور پر پہلی ترجیح اپنے مفاد کو دیتاہے ۔فطری طور پر یہ بھی اپنے اثاثوں کے بوجھ بن جانے کے بعد انہیں لئے لئے نہیں پھرتا ۔خالصتان تحریک کا انجام اس کا ایک ثبوت ہے ۔ایسے میں امریکہ نے یہ اعلان کیا ہے کہ حافظ سعید جیسے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پاکستان کی 1.1بلین ڈالر کی فوجی امداد معطل کر دی گئی ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان بیتھرو ناروت نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کے متعلق کئی بار پاکستان سے اپنے خدشات کا اظہار کیا مگر پاکستان نے کوئی کارروائی نہیں کی ۔موجودہ حالات میں پاکستان سے تعلقات معمول پر نہیں رہ سکتے ۔آخر میں امریکی اہلکار نے کھل کر مافی الضمیر بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں پر بھی ہمارے تحفظات ہیں۔امریکی اہلکار کی آخری بات ہی ساری گفتگو ہی نہیں پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی ،تلخ بیانات کا خلاصہ ہے ۔یہ وہ نکتہ ہے جو حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید کو پاکستان کا بوجھ بننے نہیں دے رہا ۔پاکستان کو معلوم ہوجائے کہ حافظ سعید کو کڑی سے کڑی سزا دینے سے امریکہ کے مطالبات کو قیام اور قرار آجائے گا تو اس وقت حافظ صاحب خداجانے کس جزیرے میں اور کس حال میں ہوتے ؟پاکستان نے کتنی ہی بار امریکیوں سے پوچھا ہوگا کہ حافظ سعید اور حقانیوں کو سزا دینے کے بعد کیا پاکستان کی سزا ختم ہوجائے گی ؟ لامحالہ اس کاجواب نفی میں آیا ہوگا کیونکہ حافظ سعید اور سراج حقانی وغیرہ امریکی مطالبات کی ایک پرت ہیں اور پیاز کی طرح اس کی بے شمار پرتیں ہیں اور ان پرتوں کو اُلٹنے میں شاید پیاز ہی ختم کرنا مقصود ہے ۔ان مطالبات کی سب سے اہم پرت پاکستان کے ایٹمی اثاثے اور مضبوط فوج ہے ۔اسی حقیقت کا اظہارامریکی اہلکار نے کیا ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ ریمنڈ ڈیوس کو چھڑانے کی غرض سے آنے والے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اسلام آباد میں میڈیا کے سامنے یہ کہنا ضروری سمجھا تھا کہ خون کے حروف سے لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کوئی خطرہ نہیں ۔یہ وہ وقت تھا جب یہ بات زبان زد خاص وعام تھی کہ امریکہ پاکستان سے لیبیا کی طرز پر ایٹمی اثاثے چھیننا چاہتا ہے ۔اسی لئے پاکستان میں ایک مخصوص طرح کی دہشت گردی کو ہوا دے کر ایٹمی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کا تاثر دیا جا رہا تھا ۔اس وقت ایٹمی اثاثے القاعدہ کے ہاتھ لگنے کا بہانہ بنایا جا رہا تھا اور پاکستان نے امریکہ کا یہ بہانہ دور کرنے کے لئے القاعدہ کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے میں پوری تندہی کا مظاہرہ کیا تھا۔آج بھی پاکستان کو اپنی خدمات کی یاد دلانے کے لئے القاعدہ کے چارسو سے زیادہ سرگرم کمانڈروں اور ہمدردوں کو حوالہ امریکہ کرنے کاذکربلند آہنگ لہجے میں کرتا ہے ۔ان میں کتنے ہی تھے جو انعام اکرام کی خواہش میں اور امریکہ کے غیظ وغضب کم کرنے کی تدبیر میں جرم بے گناہی میں مار ے گئے ۔ انہی لوگوں کے ذریعے رسوائے زمانہ گوانتاناموبے جیل کی رونقیں بڑھانے میں ہم مرکزی کردار ادا کرتے رہے ۔القاعدہ کے نام پر ہم نے القاعدہ اور’’ مبینہ‘‘ القاعدہ والوں کو پکڑ پکڑ کر اس تنظیم کی سچ مچ کمر توڑ دی یہاں تک کہ ایک رات اس منظم بین الاقوامی تنظیم کا سربراہ اسامہ بن لادن بے بسی اور لاچارگی کے عالم میں ایک خبر کا موضوع بن کر رہ گیا ۔امریکہ کی ڈومور کی گردان ختم ہوئی نہ القاعدہ کے خاتمے کے باوجود امریکہ کی تشفی ہوئی ۔اب بات حافظ سعید تک پہنچ گئی ہے مگر بات یہاں رکنے والی ہوتی تو کچھ نہ تھا بات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔اس کی تازہ گواہی پاکستان سے باہر مل رہی ہے ۔افغانستان کے شہرہ آفاق گوریلا لیڈر گل بدین حکمت یار اب’’ امریکہ زدہ‘‘ افغانستان میں اپنی زیر زمین زندگی ختم کرکے بالائے زمین آچکے ہیں ۔وہ کابل انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیںاور سرکاری رہائش میں سیکورٹی اور پروٹوکول کے ساتھ رہ کر سیاسی میدان میں اپنی طاقت آزمانا چاہتے ہیں۔حکمت یار کایہ بیان دو روز قبل پاکستانی اخبارات میں شائع ہوا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان سے ناراضگی کی وجہ دہشت گردی نہیں بلکہ امریکہ کا یہ خوف ہے کہ خطے میں نیا بلاک بن رہا ہے۔اس سے بھی معتبر گواہی ترک صدر رجب طیب اردگان کی ہے ۔ طیب اردگان نے استنبول ایئر پورٹ پراخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے پاکستان اورایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے جسے بند ہونا چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن انقرہ کے خلاف سخت نوعیت کی سازشوں کے عمل کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔عراق ،شام ،لیبیا ،تیونس ،سوڈان اور چاڈ میں بھی مداخلت جاری ہے یہ تمام معدنی وسائل سے مالامال ملک ہیں۔یہ ایک سربراہ حکومت کے تاثرات ہیںجس کے بعد کچھ کہنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی ۔یہ منظربتا رہا ہے کہ حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک کا محافظ پاکستان نہیں کوئی اور ہے کیونکہ یہ مطالبات کا نقطۂ آخر نہیںبلکہ ایک حصہ ہے وگرنہ اس فہرست کی طولانی اتنی ہے کہ اس کے پورا ہونے کوایک عمر خضر درکارہے جو ظاہر ہے کسی انسان کے بس میں نہیں ۔سو اس فہرست پر سرخ لکیر کھینچنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے ۔

اداریہ