Daily Mashriq

میکا ولی چانکیہ اور مرزا غالب

میکا ولی چانکیہ اور مرزا غالب

مقابلہ میکا ولی اور کوٹلیہ چانکیا کے درمیان ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے زمانے میں اپنے اپنے ملک میں حکمرانوں کو سیاسی دائو پیچ اور گر سکھانے کے لئے کتابیں بھی تحریر کیں۔ میکاولی نے دی پرنس نام کی کتاب لکھی جس سے اہل مغرب نے سیاست میں اپنے مخالفین کو زچ کرنے اور نیچا دکھانے میں ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کرکے دنیا بھر میں اپنے مفادات سمیٹنے میں کامیابیاں حاصل کیں۔ دوسری جانب کوٹلیہ چانکیہ نے جو کتاب لکھی اس کا نام تھا ارتھ شاستر‘ چانکیہ چندر گپت موریا کے د ور میں شاہی دربار میں ایک مفکر کے طور پر حکمرانوں کو مشورے دیا کرتا تھا۔ اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے اس نے حکمرانوں کو یہاں تک مشورہ دیا کہ جب تم کسی شخص کو ہلاک کرنا چاہو تو اس کے د وست بن جائو۔ جب اسے ہلاک کرنے لگو تو اس سے گرمجوشی سے بغل گیر ہوجائو اور جب اسے ہلاک کردو تو اس کی لاش پر بین کرو گویا یہ ظاہر کرو کہ اسے تم نے نہیں کسی اور نے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔اسی طرح چانکیہ کے اس فلسفے سے بر صغیر میں ایک محاورہ بڑا مشہور ہوا کہ بغل میں چھری منہ میں رام رام۔ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ میکاولی کے پیروکار امریکہ نے ہمارے ساتھ جو رویہ اختیارکرلیا ہے اس پر چانکیہ کے پرستار یعنی بھارتی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ مگر بنئے زیادہ خوشی نہ منائیں بلکہ امریکہ کے کردار کا بغور جائزہ لیں توان پر واضح ہوجائے گا کہ اس کی تاریخ کسی سے بھی وفا نہ کرنے سے عبارت ہے۔ ڈاکوئوں ‘ قاتلوں‘ چور اچکوں اور قانون شکنوں کا وہ ٹولہ جو یورپ کے ممالک میں مختلف جرائم میں قید و بند کی سزائیں بھگت رہا تھا سپین کی ملکہ کی جانب سے سونے کی چڑیا ’’ہندوستان‘‘ دریافت کرنے کے لئے یورپی ممالک کے باہم مشورے سے اس شرط پر رہا کیاگیا کہ وہ کرسٹوفر کو لمبس کی مہم جوئی میں اس کا ساتھ دیتے ہوئے چلا جائے تو ان کی سزا معاف کردی جائے گی۔ یہ سارے قانون شکن طویل قید اور سزائے موت کو گلے لگانے کے عذاب سے اس مشروط آزادی پر خوش تھے۔ ایک تو آزاد فضا میں سانس لینا اور دوسرے ہندوستان سے ملنے والی دولت میں حصہ ملنے کی امید‘ بھلا انہیں اور کیا چاہئے تھا۔ یوں ہندوستان کی تلاش میں یہ لوگ غلط سمت میں سفر کرتے ہوئے امریکی ساحلوں پر جا اترے تو ہاں کی اصل آبادی کو جدید ہتھیاروں سے زیر اور قتل وغارتگری کرتے ہوئے امریکہ کے اصل باشندوں کی زمینوں پر قبضہ کرتے چلے گئے۔ ان کی تانبے کی سی رنگت دیکھ کر یہ یورپی اقوام انہیں ریڈ انڈینز کے نام سے پکارتے رہے۔ داستان طویل بھی ہے اور عبرت انگیز بھی۔ بہر حال امریکہ کے اصل باشندوں کا جو حشر ان یورپی اقوام نے کیا اس کے نتیجے میں آج کل ریڈ انڈینز نہایت ہی چھوٹی اقلیت کے طور پرامریکہ کے ایک کونے میں آباد اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس کے بعد صنعتی ترقی کے بل بوتے پر امریکیوں نے پوری دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھا۔ قصہ مختصر یہ کہ دنیا کے مختلف ملکوں کے ساتھ انہوں نے ’’دوستی‘‘ کی آڑ میں جو سلوک روا رکھا اس کی کہانیاں لگ بھگ ساری دنیا کے مختلف خطوں میں بکھری پڑی ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف تو ان کے دلوں میں بغض و عناد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ کالم کی تنگ دامنی کو مد نظر رکھتے ہوئے جستہ جستہ واقعات پر ہی اکتفا کرتے ہوئے ہم بر صغیر میں ان کے کردار کو زیرب بحث لائیں گے ۔ پہلی اور دوسری جنگ عظم میں یورپ کو تہس نہس کرنے کے واقعات بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ پھر مسلمانوں کی خلافت کو کس طرح انہوں نے ریشہ دوانیوں کاشکار کرتے ہوئے اور اپنے مفادات کی خاطر عالم اسلام کے سینے میں اسرائیل کے نام کا خنجر گھونپ کر ترکی کی عظیم سلطنت کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا یہ بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں ہے۔ ان منتشر ریاستوں میں اپنے پٹھو بٹھا کر ان کے ساتھ دوستی کے نام پر اپنے مفادات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ پھر دیکھئے کہ کمیونسٹ انقلاب کو ناکام بنانے کے لئے پہلے روس اور پھر چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں کیں۔ اس مقصد کے لئے امریکہ نے ایک جانب ایران میں بادشاہت کی پشت پناہی کی تو پاکستان کو بھی ابتدائی برسوں میں اقتصادی اور عسکری امداد سے رام کرنے کی کوشش کی۔ تاہم جب پاکستان کو ہر لحاظ سے عالمی قرضوں میں جکڑنے اور اسے امداد کی شکل میں ’’اقتصادی نشے‘‘ کے انجکشن کا عادی کیا گیا تو پھر صورتحال یہ ہوگئی کہ امریکہ ہمارے مفاد پرست حکمرانوں کو اپنے اشاروں پر ناچنے پر مجبور کرتا رہا۔ یوں پاکستان اور امریکہ کی دشمنی کی تاریخ میں کئی ایسے مواقع آئے جب پاکستان امریکی مفادات کے نام پر بلیک میل ہونے پر مجبور ہوتا رہا۔ اس دوران میں 1965ء کی جنگ کے دوران پاکستان کو عسکری مقاصد کے لئے فاضل پرزوں سے انکار سے لے کر 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں ساتویں بحری بیڑے کی آمد کے شوشے کے نتیجے میں پاکستان کو دو لخت کرانے کی حقیقت اب دنیا جانتی ہے۔ ایران کے شہنشاہ کو دوستی کی آڑ میں انقلاب کے بعد فرار ہونے کے بعد امریکی سرزمین پر قدم رکھنے سے طوطے کی طرح آنکھیں پھیرنے کی کہانی بھی تاریخ کا ایک عبرتناک باب ہے اور تازہ ترین طوطا چشمی پاکستان کو حالیہ دھمکیاں ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ سے دی گئی ہیں۔ ان تمام حالات کو ’’عبرت کی داستان‘‘ سمجھتے ہوئے جو خوشیاں وہ آج منا رہے ہیں کل اسی قسم کے حالات کا سامنا بھارتی حکمرانوں کو بھی ہو سکتا ہے۔ ا س لئے مرزا غالب کے اس شعر پر غور کرلینا چاہئے کہ

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے

اداریہ