Daily Mashriq

معاشی استحکام کیلئے تعطیلات میں کمی ناگزیر

معاشی استحکام کیلئے تعطیلات میں کمی ناگزیر

ملک کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سے ایک بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی بیروزگاری ہے، بے روزگاری کی بہت سی وجوہات ہیں، بڑا فیکٹر معاشی عدم استحکام ہے، منسٹری آف پلاننگ ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کے مطابق اس وقت ملک میں 29.5 فیصد لوگ سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں،حقیقت میں اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔معاشی عدم استحکام کی بڑی وجہ آئے روز کے جلسے ، جلوس ، مظاہرے اور چھٹیاں ہیں۔ پہلے پہل سال بھر میں چند ایک چھٹیاں ہوتی تھیں کہیں شاذونادر جلسے، جلوس اور مظاہرے ہوتے تھے۔لیکن اب تو آئے روز قومی چھٹیوں کے بعد صوبائی و ضلعی سطح پر بھی تعطیلات معمول ہیں۔ کہیں جلوس ہیں یا دیگر تقریبات۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنر اپنی آسانی کے لیے فوراً چھٹی کا اعلان کر دیتا ہے، یہ پریکٹس ملک کی معیشت کے لیے کسی بھی لحاظ سے ساز گار نہیں۔ پاکستان میں سیاسی ، سماجی، فوجی اور مذہبی حوالوں سے مختلف ایام پر تعطیلات ہوتی ہیں،ان سب تعطیلات میں سے مذہبی تعطیلات کے خطرناک پہلو ہیں ،جس دن مذہب کے نام پر تعطیل ہوتی ہے ملک میں کرفیو کا سماں ہوتا ہے، بازار مکمل طور بند، ٹرانسپورٹ غائب اور ایک انجانے خوف کا عالم ہوتا ہے۔ایک سروے کے مطابق صرف ایک دن کی چھٹی یا ہڑتال کی وجہ سے پاکستان کو 164ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ہماری 50 فیصد اکانومی دستاویزی ثبوت یا ریکارڈ کے بغیر ہے،اس کو نکال بھی دیا جائے تو تب بھی 82ارب روپے کا نقصان ہوتاہے۔جلسے، جلوسوں اور مظاہروں کی سیکورٹی کیلئے حکومت کے پاس آسان حل ہے کہ وہ ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ بند کر دیتی ہے، اس ’’بدعت حسنہ‘‘ کا آغاز سابق گورنمنٹ نے کیا تھا،موجودہ حکومت نے بھی اس کو جاری رکھا ہوا ہے، ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ بالخصوص موبائل سروسز کی بندش کی وجہ سے ہماری ڈیجیٹل معیشت کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے اس کا اندازہ نجی ٹیلی کیمونیکیشن ادارہ کی رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چھ مرتبہ انٹرنیٹ بندش جو یکم جولائی 2015 سے 30 جون 2016 تک ہوئی ان سے 70ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ ( واضح رہے یہ 70 ملین 82 ارب کے علاوہ ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے)اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان چھٹیوں، جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں کا حل کیا ہے؟ ظاہر ہے جو لوگ ان سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں وہ اس کو اپناآئینی و قانونی حق سمجھتے ہیں، اس میں دوسری رائے نہیں کہ آئین پاکستان تمام شہریوں کو آزادی اظہار رائے اور آزادی مذہب دیتا ہے ، آئین کے آرٹیکل 20 میں مذہبی آزادی کا ذکر ہے، اب سوال پیدا ہوتا ہے یہ آزادی کہاں تک ہے؟اس کی حدود کیا ہیں ؟اس کا ذکر آرٹیکل 20 اے کی ابتدا میں ہے کہ’’آزادی مذہب قانون، لاء ایند آرڈر اور اخلاقیات سے مشروط ہے ‘‘ ۔ ماضی اور حال اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ مذہب کے نام پر ہونے والے جلسے، جلوس، مظاہرے نہ صرف نظام زندگی مفلوج کرتے ہیں بلکہ ساتھ میں لاء اینڈ آرڈر کے مسائل بھی پیدا کر رہے ہیں، قانون کے باب میں مذہب کے نام پر کوئی ایسی آزادی نہیں جس سے دوسروں کا نظام زندگی مفلوج ہو۔یہاں ایک اور بات بھی زیربحث لائی جاتی ہے کہ صرف مذہبی سرگرمیوں پر ہی کلام کیوں؟سیاسی سرگرمیوں پر بھی تو کلام ہونا چاہیے؟ جی کلام ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن مکالمہ خلط ملط نہیں ہونا چاہیے ، سیاسی و مذہبی سرگرمیوں میں بنیادی فرق ہے۔ اولاً تو سیاسی جلسے ،جلوس اور مظاہروں کے وقت نہ تو کرفیو کا سماں ہوتا ہے نہ جلاؤ گھیرائو کا خدشہ ، سیاست کے عنوان پر کوئی مرنے مٹنے پر تیار نہیں ہوتا جبکہ مذہب کے نام پر لوگ مر مٹنا نہ صرف فخر و اعزاز سمجھتے ہیں بلکہ ہمہ وقت تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔اس کے برعکس سیاسی جلسوں سے جہاں سیاسی جماعتوں کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں وہیں بادی النظر میں عوام کا فائدہ ہوتا ہے۔ بہرحال وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ابتر معاشی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے درج ذیل قانون سازی کرے۔عیدین اورہفتہ وارتعطیلات کے علاوہ تمام تعطیلات ختم کرے ۔ ہفتہ وارچھٹیوںکے لیے بہتر ہے کہ اتوار کے بجائے جمعہ کو چھٹی کی جائے ، جمعہ کو چھٹی کرنا یا نہ کرنا کوئی مذہبی معاملہ نہیں بلکہ انتظامی معاملہ ہے،جمعہ کی چھٹی کا فائدہ یہ ہو گا کہ ہاف ڈے کے نام پر اکثر سرکاری اداروں میں ملازمین جاتے ہی نہیں یوں بالواسطہ ہفتے میں تین چھٹیاں کر لی جاتی ہیں ۔ پاکستان میں موجود تمام مذاہب کی عبادت گاہیں موجود ہیں، ہر قسم کی مذہبی سرگرمیاں سڑکوں ،چوکوں چوراہوں کے بجائے عبادت گاہوں میں ہونی چاہئیں، اگر کوئی مذہبی ایکٹویٹی عبادت گاہ سے باہر کرنا چاہتا ہے تو تحصیل لیول پر میدان مختص کر دئیے جائیں ،جہاں ڈپٹی کمشنر کی اجازت لے کر انفرادی طور پر جا کر متعلقہ سرگرمی میں شریک ہوا جائے۔ہر قسم کے سیاسی اجتماعات کے لیے بھی تحصیل لیول پر جگہ مختص کی جائے ۔

اداریہ