پاکستان کے مسائل اور حکومتوں کی ترجیحات

پاکستان کے مسائل اور حکومتوں کی ترجیحات

اگر ہم صدر ایوب خان کے دور حکومت کا تجزیہ کریںتو ان کے دور کو Green Revolution ، سبز انقلاب یا زرعی انقلاب کا دور کہا جاتا ہے۔اس دور میں ایوب خان نے میکسی پاک گندم کا ایسا بیج متعارف کر وایا جس سے کسانوں کی زمینیں سونا اُگلنے لگیں اور وہ کسان اور زمیندار جن کی زمینوں میں منوں کے حساب سے فصلیں ہوتی تھیں وہ ٹنوں میں سونا اُگلنا شروع ہو گئیں۔اسکے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا دور آیا اس دور میں پاکستانیوں کو سمندر پار بھیجا گیا اور لوگوں کی سماجی اقتصادی حالت کے اعشاریوںمیں یکدم مُثبت تبدیلی آئی۔بڑے بڑے ادارے بنے، جس سے ملک کے انفرا سٹرکچر میں انقلاب بر پا ہوا۔ اور عام لوگ ملیشیا کے کالے کپڑوں سے نکل کر یکدم ٹیٹرون اور آئی سافی پہننے لگے۔ اسکے بعد جنرل ضیاء الحق کا دور آیا ۔ اس دور میں وطن عزیز میں تباہی اور بر بادی شروع ہوئی ۔ ضیاء الحق نے اپنے ملکی مفا دات پر امریکی مفا دات کو ترجیح دی ۔ اگر حالات کا تجزیہ کیاجائے تو ایک لحاظ سے امریکہ کی امداد اور روس کے ساتھ لڑائی کرنا پاکستان کی کسی حد تک ضرورت بھی بن چکی تھی ۔ اگر ضیاء الحق امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو روس نے افغانستان پر حملہ اور قبضہ کرکے پاکستان پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ ضیاء الحق کا کہنا تھا کہ ہم روس کے خلاف جنگ اپنے دفاع میں لڑ رہے ہیں۔ ہم کسی کے کہنے یا کسی کے مفاد کے لئے یہ جنگ نہیں لڑ رہے۔ اس دور میں پاکستان پیپلز پا رٹی کو ختم کر نے کے لئے ضیاء الحق نے ایم کیو ایم کی داغ بیل رکھی۔ اور اسی طر ح ضیاء الحق نے سندھ کو دو بڑے سیاسی گروہوں میں تقسیم کیا ۔ عام طو ر کسی بھی مطلق العنان کی پالیسی ہمیشہRule and Divide کی ہوتی ہے۔ اُنہوں نے سندھ میں ایسی پھو ٹ ڈالی اور ایم کیو ایم کا ایسا بیج بویا جس کا ازالہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اگر دیکھا جائے تو امریکہ سے سب سے زیادہ امداد ضیا ء الحق اور پر ویز مشرف کے دور میں لی گئی مگر اُس امداد سے وہ منصوبے شروع نہیں کئے گئے جس سے ملک کی تقدیر بدلتی۔ ضیاء الحق کے مارشل لاکے بعد نواز شریف اوربے نظیر بھٹو کی حکومتیں آئیں۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان مسلم لیگ نواز کے ادوا رحکومت میں کوئی ایسا قابل ذکر کا رنامہ نہیں ہوا جس کا ذکر کیا جائے۔البتہ مو ٹر وے کو ان کا کارنامہ کہہ سکتے ہیں۔حال ہی میں ناموس رسالت ﷺ کے قانون کو ختم کرنے کی بھی کوشش کیگئی۔ سپریم کو رٹ کے 5 ججز حضرات نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا مگر نواز شریف نے فیصلے کے خلاف احتجاج کاا علان کیا ہے جبکہ اسکے بر عکس ذوالفقار علی بھٹو کو سپریم کو رٹ کے فیصلے کی روشنی میں سزائے موت دی گئی۔ اور اسی طرح ماضی قریب میں یو سف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی حکومتیں ختم کی گئی تھیں۔گزشتہ چار برسوں میں اقتصادیات کو خراب کیا گیا اسکے بارے میں پاکستان مسلم لیگ کے موجودہ صدر ممنون حسین خود نواز شریف پر تنقید کر رہے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے دور حکومت میں 16 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا وہ قرضہ کہاں گیا۔ البتہ پاکستان پیپلز پا رٹی نے مز دوروں کسانوں، اور سر کاری ملاز مین کی اُجرت اور تنخواہوںمیں بے تحا شا اضافہ کیا۔جہاں تک میاں نواز شریف کا تعلق ہے تو ان کے دور حکومت میں کبھی بھی غریب ، پسے ہوئے اور سرکاری ملازمین کے لئے کوئی قابل ذکر کام نہیںہوا۔ اور ہمیشہ زیادہ زور نج کاری پر دیا جاتا رہاہے ۔ جس سے غریب غریب تر اور مالدار مالدار تر ہو تے جا رہے ہیں۔ اور وہ سرکاری ادارے جو اس ملک کے غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی پر قائم ہوئے ہیں انکو کوڑیوں کے دام بکوا کر مالداروں اور سرمایہ داروں کے حوالے کر دیئے جاتے ہیں۔ وطن عزیز میں سب سے زیادہ نج کاری پر ویز مشرف اور نواز شریف کے ادوار حکومت میں ہوئی۔مشرف کے دور کو ہم پاکستان کا گھنائونا دور کہہ سکتے ہیں۔ اس دور میں مشرف نے امریکہ کی حد سے بڑھ کر مدد کی جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرف کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان دونوں میدان جنگ بن گئے۔جسکے نتیجے میں پاکستان کے 60 ہزار افراد لُقمہ اجل بن گئے اور پاکستانی معیشت کو 80 ارب ڈالر کا نُقصان پہنچا۔ اگر ایک طرف اس جنگ سے پاکستانی پریشان تھے تو دوسری طرف افغانیوں کو بھی یہ شکوہ ہے کہ پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دے کر ہمارے ملک کو کھنڈر بنا دیا اگر ہم خیبر پختون خوا میں 2013 سے پہلے اے این پی کے دور حکومت کو دیکھیں تو انکے دور حکومت میں صوبہ سرحد میں تعلیمی اداروں کا جال بچھا یا گیا اور بُہت سارے ترقیاتی کام ہوئے۔ مگر بُہت ساری اچھا ئیو ں کے باوجود افراتفری، اقربا پر وری کا بازار گر م تھا ۔ اور ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی حکومت ختم ہو نے والی ہے اور ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز نے کچھ کرکے جانا ہے ۔جہاں تک کے پی کے میں پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت ہے تو اس دور میں بُہت سارے ترقیاتی اور اصلا حاتی کام ہوئے ۔مگر پی ٹی آئی کے دور حکومت میں کوئی بڑے منصوبے نہیں شروع کئے گئے۔ ۔بلوچستان اور سندھ کی صورت حال وہی ما ضی کی طرح ہے۔ بحر حال اگر ملکی اقتصادی اعشاریوں کو دیکھا جائے تو یہ جنوبی ایشیاء میں بھوٹان ، نیپال سری لنکا ، بنگلہ دیش اور بھارت سے بھی گئے گزرے ہیں اور اسکی اصل وجہ وطن عزیز میں سیاسی لیڈر شپ کی نااہلی ہے جو ملکی معاملات کو مناسب طریقے سے نہیں سنبھال سکیں۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان دوسرے ممالک کو قرضے دیا کرتا تھا اور اب پاکستان ایک بڑا مقروض ملک ہے۔

اداریہ