Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت جنید بغدادی ؒ مکہ معظمہ میں قیام فرماتھے کہ عجمیوں کی ایک جماعت آئی اور آپ ؒ کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ گئی ۔ (عجمی دنیا کے ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو عرب سے تعلق نہیں رکھتا ) یہ عجمی لوگ حضرت جنید بغدادی ؒ سے مذہبی مسائل پر گفتگو کر رہے تھے ، اچانک ایک شخص آیا اور حلقہ توڑ کر آگے بڑھا۔ پھر وہ حضرت جنید بغدادی ؒ کے قریب پہنچ کر کھڑا ہو گیا اور اس نے ایک تھیلی آپ کے سامنے رکھ دی ۔ حضرت جنید بغدادی ؒ نے حیرت سے تھیلی کی طرف دیکھا اور شخص سے پوچھا : ’’یہ کیا ہے ؟ ‘‘ ۔ ’’اس میں پانچ سودینارہیں ‘‘۔ اجنبی شخص نے نہایت عقید ت مندانہ لہجے میں عرض کیا :’’میری شدید خواہش ہے کہ آپ انہیں اپنے مبارک ہاتھوں سے فقراء میں تقسیم فرما دیں ‘‘۔
’’یہ کام تو تم خود بھی انجام دے سکتے ہو‘‘ ۔ حضرت جنید بغدادی ؒ نے فرمایا ۔
’’دراصل میں نہیں جانتا کہ مستحق لوگ کون ہیں ؟ ‘‘۔ اجنبی شخص نے عرض کیا۔ حضرت جنید بغدادی ؒ نے ایک نظر اس شخص کی طرف دیکھا ۔ پھر فرمایا : ’’اس کے علاوہ تمہارے پاس کچھ رقم بھی ہے ؟ ‘‘
’’جی ہاں ! خدا کا دیا بہت کچھ ہے ‘‘۔ اس شخص نے اپنی آسودہ حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ۔
’’کیا تم اپنے موجودہ سرمائے کے علاوہ مزید دولت بھی کمانا چاہتے ہو ؟ ‘‘ حضرت جنید بغدادی ؒ نے پوچھا ۔
کیوں نہیں ؟ اجنبی شخص نے کہا ۔
یہی رسم دنیا ہے کہ انسان اپنے کاروبار کے فروغ کے لیے دن رات کوشش کرتا ہے ۔
حضرت جنید بغدادی ؒ نے دیناروں سے بھری ہوئی تھیلی اٹھائی اور اس شخص کو لوٹا تے ہوئے فرمایا : پھر تم ہی اس رقم کے زیادہ مستحق ہو ۔ اسے واپس لے جا کر اپنے خزانے میں جمع کردو۔
ایک روز امام اعظم ، ابو حنیفہ ؒ نے اپنی مجلس میں ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے بہت بوسیدہ اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہیں ۔ امام صاحبؒ نے اس شخص سے کہا :’’ یہ جائے نماز اٹھا ئو اور اس کے نیچے جو کچھ رکھا ہو ، لے لو ‘‘۔ اس شخص نے جائے نماز کو اٹھا یا ، تو دیکھا کہ ایک ہزار درہم رکھے ہوئے ہیں ۔ امام ابو حنیفہ ؒ نے فرما یا : ’’ یہ درہم لے جائو اور اس سے اپنی حالت درست کر لو‘‘۔ اب وہ شخص بولا کہ : ’’ میں تو مال دار آدمی ہوں ، خدا نے مجھے بہت سی نعمتیں دی ہیں ،مجھے ان درہم کی ضرورت نہیں ‘‘۔ امام ابو حنیفہ ؒ نے فرمایا : ’’ کیا تم نے وہ حدیث نہیں سنی کہ خدا تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندے پر اس کی نعمتوں کے آثار دوسروں کو نظر آئیں ؟
تمہیں چاہیئے تھا کہ اپنی حالت ٹھیک کرتے تاکہ تمہیں دیکھ کر تمہار ا کوئی دوست مغموم نہ ہو ‘‘۔ ایسی دولت کا کیا فائدہ جو انسان اپنی حالت کو درست کرنے پربھی خرچ نہ کرے ۔ مال کی ہوس انسان سے اپنے برے بھلے کی تمیز چھین لیتی ہے اس پر صرف دولت جمع کرنے کی دھن سوار رہتی ہے اسے اپنا دھیان بھی نہیں رہتا۔
( تاریخ بغداد ، ص ، 361)

اداریہ