Daily Mashriq

ٹریفک پلان، نئی کمیٹی کا قیام

ٹریفک پلان، نئی کمیٹی کا قیام

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پشاور شہر میں بی آر ٹی کیلئے ٹریفک پلان، شہر میں ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے کیلئے محکمہ ٹرانسپورٹ کے زیرنگرانی خیبر پختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کرنے کیلئے سیکریٹری فنانس کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کی ہدایت کر دی ہے، گزشتہ روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ کمیٹی کے پی اربن موبیلٹی اتھارٹی کے قیام کیلئے ایک مہینے کے اندر ہوم ورک کرکے تمام انتظامات مکمل کرے تاکہ بی آر ٹی کیلئے ٹریفک پلان بشمول پشاور شہر میں ٹریفک کے مجموعی مسائل کا حل نکلا جاسکے، جہاں تک صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کی روز بروز گمبھیر ہوتی ہوئی صورتحال اور آئندہ مہینوں میں فعال ہونے والے بی آر ٹی کیلئے ٹریفک پلان کا تعلق ہے تو اس ضمن میں نہایت احتیاط کی ضرورت ہے اس لئے کہ جگہ جگہ بی آر ٹی روٹ کی تعمیر کی وجہ سے سڑکیں تنگ ہو چکی ہیں جبکہ بار بار بنی ہوئی سڑکوں کو توڑ کر اور کئی جگہوں پر گہرے کھڈے کھود کر نئے سرے سے تعمیرات میں ابتدائی منصوبے کے تحت نقائص کی نشاندہی ہوتی ہے، اسی وجہ سے نہ صرف یہ منصوبہ طول پکڑتا جارہا ہے بلکہ اس کے اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جس سے صوبائی خزانے پر غیرضروری بوجھ پڑنے سے دیگر منصوبوں پر بھی منفی اثرات پڑ رہے ہیں، تاہم جہاں تک ٹریفک پلان کا تعلق ہے اس حوالے سے حالیہ ہفتوں میں صوبے کی ایک اہم شخصیت نے عدالت عالیہ کو بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل کے باجود پشاور میں ٹریفک کے مسائل ختم ہونے کی یقین دہانی سے جس طرح انکار کیا اس نے شہر کے لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے، گویا جس مقصد کیلئے بی آر ٹی منصوبہ شروع کیا گیا تھا اس مقصد میں کامیابی کے امکانات پر خود اعلیٰ حکام ہی سوال اٹھا رہے ہیں اور مطمئن نہیں ہیں، گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس منصوبے نے جس طرح پشاور کے عوام کو خجل خوار کر رکھا ہے اس کے بعد بھی اگر ٹریفک کے مسائل حل نہ ہوئے تو پھر کیا ہوگا؟ صوبائی دارالحکومت میں جب ٹریفک کے نظام کو سنوارنے کی بات ہوگی وہاں پارکنگ کے سنگین مسئلے پر خصوصی توجہ نہ دینے کی کوئی وجہ اس لئے نہیں کہ پارکنگ کیلئے جگہ مختص نہ ہونے کے باعث لوگ سڑک کنارے گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہیں جس کے باعث پہلے سے تنگ دامنی کا شکار سڑکیں ٹریفک جام کا ایسا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں گویا سڑکیں نہ ہوں کسی پورٹ پر گاڑیاں کھڑی ہوں۔ شہری علاقوں میں جہاں جہاں نجی سکولز ہیں وہاں پر بالعموم اور جہاں دو چار چھ سکول قریب قریب ہوں وہاں خاص طور پر صبح اور سکول چھٹی کے اوقات میں ٹریفک کی صورتحال ناقابل بیان حد تک گمبھیر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح شہر میں جابجا شادی ہالز کھلنے سے پارکنگ کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوگیا ہے، جہاں آنے والے مہمانوں کی گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ مسئلہ نیا نہیں لیکن اس کے باوجود اس سنگین مسئلے کے حل کی طرف سنجیدگی سے توجہ کی کوئی مثال نہیں دی جاسکتی۔ اس سنگین سے سنگین تر ہوتی صورتحال کا عدالتوں سے بھی نوٹس لیا گیا اور ہدایات جاری کی گئیں لیکن اس کے باوجود جہاں بھی دیکھیں پارکنگ کیلئے مناسب جگہ کا انتظام کئے بغیر کمرشل اور رہائشی پلازے بن رہے ہیں۔ سکولوں اور شادی ہالوں کے مالکان کی ڈھٹائی کا کوئی نوٹس لینے والا نہیں۔ بہرحال اسے خوش آئند امر ہی قرار دیا جائے گا کہ ضلعی حکومت اس مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کے طور پر پشاور میں نجی سکولوں کے نقشوں کی منظوری کیلئے سکول کا 45فیصد حصہ کار پارکنگ جبکہ شادی ہالز کے نقشوں کی منظوری کیلئے ہال سے دوگنا زیادہ پارکنگ موجود ہونا بھی لازمی قرار دیدیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا اقدام پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا اور اس پر ہر قیمت پر عملدرآمد کروایا جاتا تو آج شہر میں پارکنگ کی صورتحال اس قدر گمبھیر نہ ہوتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف آئندہ کیلئے اس طرح کے اقدامات کافی نہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت جو صورتحال درپیش ہے پارکنگ اور مناسب جگہ کی رعایت نہ رکھتے ہوئے جو سکول، کالجز، یونیورسٹیاں‘ شادی ہالز اور بڑے بڑے پلازے بن چکے ہیں ان سے پیدا شدہ مسائل سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی اختیار کی جائے۔ اگرچہ ہم انہی کالموں میں مختلف مواقع پر شہر کے ٹریفک کے مسائل اور بی آر ٹی کی تعمیر سے ماحولیات پر پڑنے والے اثرات پر روشنی ڈال چکے ہیں اسلئے مزید بحث وقت کا ضیاع ہی ہوسکتا ہے تاہم اتنی گزارش ضرور کریں گے کہ بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل کے بعد اندرون شہر سے جب تک کارخانو اور حیات آباد جانے والی بسوں کو متبادل روٹس یعنی رنگ روڈ اور سرکلر روٹ پر منتقل نہیں کیا جائے گا یہ مسئلہ حل ہونا تو درکنار، الٹا مزید گنجلک صورت اخیار کرجائے گا مجوزہ اتھارٹی کو اس نقطئہ نظر پر بھی غورکرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں