Daily Mashriq


شہری علاقوں کے ایک ہی جیسے لاینحل مسائل

شہری علاقوں کے ایک ہی جیسے لاینحل مسائل

مشرق ٹی وی کے زیراہتمام مختلف علاقوں میں فورمز کے انعقاد میں سامنے آنے والے بیشتر مسائل کا تعلق تعلیم اور صحت کی سہولتوں کا فقدان، صفائی کا ناقص انتظام، تجاوزات اور پولیس سے متعلق ہوتے ہیں۔ موقع پر متعلقہ حکام ان شکایات کے بارے میں اپنا موقف بھی دیتے ہیں جس میں ان مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف اس قسم کی یقین دہانیاں کرانے والے ہی لمبی تان کر سو جاتے ہیں بلکہ متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام کو بھی توفیق نہیں ہوتی کہ ان مسائل کے حل کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کریں مستزاد صوبائی حکومت تمام تر دعوؤں کے باوجود ایسے اقدامات اٹھانے میں ناکام ہے جس سے ان مسائل کے حل کی امید پیدا ہو۔ اجلاس تو بہت ہوتے ہیں، کاغذوں میں اقدامات اور احکامات بھی صادر ہوتے ہیں لیکن معاملہ جوں کا توں رہتا ہے۔ یونین کونسل آسیہ میں ہونیوالے مشرق فورم میں بھی اسی قسم کے مسائل کا رونا رویا گیا جس سے ایک مرتبہ پھر اس امر کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ یونین کونسل آسیہ کے عوامی مسائل بھی وہی ہیں جو دیگر شہری یونین کونسلوں کے مسائل ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو دوسری مرتبہ عوام کی جانب سے حق حکمرانی کیلئے منتخب کرنا، اس توقع کا بجا اظہار تھا کہ وہ صوبے کی تاریخ میں دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے والی جماعت کی حکومت کے طور پر عوام کے کم ازکم وہ مسائل ضرور حل کرے گی جو برسوں سے لاینحل چلے آرہے ہیں لیکن صورتحال کے جائزے سے مایوسی ہونے لگتی ہے خاص طور پر اس دور حکومت میں صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت کسی بھی جگہ کسی ایسے اقدام کی مثال نہیں دی جا سکتی جس سے عوام کے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو۔ صوبائی حکومت اگر سنجیدگی کیساتھ عوام کے مسائل کے حل کی خواہاں ہے تو پھر اسے جلد ایسے نظر آنے والے اقدامات کرنے ہوں گے جس کے نتیجے میں عوامی مسائل میں کمی آنا شروع ہو جائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت ہر جگہ ایک ہی قسم کے سامنے آنے والے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر خصوصی توجہ دے گی۔

ضرورت ایجاد کی ماں مگر؟

ہمارے نیوز رپورٹر کی اطلاع کے مطابق موسمی شدت سے صوبے کے بڑے اضلاع کے ڈسٹرکٹ اور تحصیل سطح کے ہسپتال بھی سخت سردی کی لپیٹ میں آگئے ہیں، جہاں پر بجلی کے علاوہ جنریٹرز کیلئے بھی تیل کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ یوں ان ہستالوں میں رات کے اوقات مریضوں کو گھر بھیج کر دوسرے روز دوبارہ وارڈز میں داخل کرنے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں جبکہ چارسدہ سمیت متعدد اضلاع کے بڑے بڑے ہسپتال بھی مریضوں سے خالی پڑے ہیں اور معمولی نوعیت کے مریضوں کو بھی پشاور کے ہسپتالوں کو ریفر کرنے کا سلسہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سابقہ حکومت کے دور ہی میں صحت کا انصاف کے نام پر جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور صحت کے شعبے میں لائی جانے والی اصلاحات پر سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کیساتھ ساتھ پارٹی کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم عمران خان فخریہ طور پر ان اصلاحات کو پیش کرتے ہوئے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں انہیں بہتر قرار دیتے تھے، موجودہ حکومت کے آتے ہی اس ضمن میں ایسی کیا مشکلات درپیش آرہی ہیں کہ اب ہسپتالوں میں وہ سہولیات جاری نہیں رکھی جاسکتیں، بلکہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے مریضوںکو جس طرح رات کے اوقات میں گھر بھیجا جا رہا ہے اس سے حادثات بھی جنم لے سکتے ہیں یعنی گھروں پر مریضوں کو ایمرجنسی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، اس لئے متعلقہ حکام صورتحال کی اصلاح پر توجہ دیں تاکہ معاملات سدھر سکیں۔

گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ

حکومت کی جانب سے سی این جی سٹیشنوں کو مخصوص اوقات میں گیس کی فراہمی بند کرنے کے باوجود پشاور میںگیس پریشر کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا جبکہ عوام مختلف علاقوں میں گیس کی کمی اور سرشام ہی سے صبح تقربیاً6بجے تک فراہمی میں تعطل کی وجہ سے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ حکام نہ ہی حکومتی عہدیدار مسئلے کے حل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کو تیار ہیں بلکہ متعلقہ محکمہ کے حکام تو بی آر ٹی کی آڑ میں پناہ ڈھونڈتے ہوئے غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں حالانکہ جس وقت مختلف جگہوں پر پائپ لائن تبدیل کیا جا رہا تھا اس حوالے سے اخبارات کے ذریعے باقاعدہ اطلاع دی گئی تھی مگر اب اصل حقائق کو چھپایا جا رہا ہے اور اصل حقائق یہی ہیں کہ آئین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبے کی گیس کو ترجیحی بنیادوں پر اپنے صوبے کو دینے کی بجائے دوسرے علاقوں کو فراہم کیا جا رہا ہے جس پر وزیراعلیٰ کو ضرور سوچنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں