Daily Mashriq

احتساب اور کاروبارِ حکومت

احتساب اور کاروبارِ حکومت

سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کے وزیر اعلیٰ کے نام بیرون ملک سفر کی پابندی کی فہرست سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نیب کو بھیج دیا ہے اور کہا ہے کہ بیورو جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں دو ماہ کے اندر ازسرِنو تفتیش کرے اور اگر کوئی ریفرنس بنتا ہو تو دائر کرے۔ اس کیساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی اپنا کام جاری رکھے اور اگر کوئی نئی چیز سامنے آئے تو نیب کو فراہم کرے۔ ٹی وی مبصرین بالعموم اس بات کو اہمیت دے رہے ہیں کہ عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی رپورٹ کے ان حصوں کو حذف کرنے کا حکم دیا ہے جن میں بلاول بھٹو کا ذکر ہے اور یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس طرح رپورٹ کا بڑا حصہ حذف ہو جائے گا ۔ سپریم کورٹ نے یہ ریمارکس بھی دئیے ہیں کہ جے آئی ٹی عدالت کے حکم پر بنائی گئی تھی اس پر اگلا اقدام عدالت ہی کرے گی اور اس کی حیثیت محض ایک رپورٹ کی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ حکم پیپلز پارٹی کے حلقوں کیلئے باعث اطمینان ہوگا اور اس سے پارٹی کی اشک شوئی ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی والے مبصرین کی اس رائے سے اتفاق کریں نہ کریں تاہم اس حکم سے جعلی اکاؤنٹس کیس متاثر نہیںہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ تفتیش کے دوران اگر ضروری ہوا تو بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ سے براہ راست تفتیش کی جا سکتی ہے۔ اس سماعت کے بعد البتہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ جو خیال تھا کہ اب بہت جلد پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر بھی انگارے برسنا شروع ہو جائیں گے باطل ہو گیا ہے۔ البتہ قانون اپنا راستہ لیگا۔ نیب کو تفتیش کیلئے دو ماہ دئیے گئے ہیں اور جے آئی ٹی کو کام جاری رکھنے کیلئے کہا گیا ہے اور چیف جسٹس ثاقب نثار کی 17جنوری کو ریٹائرمنٹ کے بعد اس کیس کی سماعت کیلئے نیا بنچ تشکیل دیا جائیگا۔ پیپلز پارٹی کے قائدین نے کہا ہے کہ وہ عدالتوں میں الزامات کا سامنا کریں گے۔ دوسری طرف ن لیگ کے حلقوں کی طرف سے بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے قائدین سڑکوںپر احتجاج کی بجائے عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کریں گے۔ اس طرح یہ تاثر زائل ہو گیا ہے کہ فوری طور پر کوئی اہم فیصلے ہو جائیں گے یا کوئی تحریک چلے گی۔ احتساب پس منظر میں چلا جائے گا اور سیاست میں گرم بازاری آ جائے گی۔ ملک کی موجودہ صورت حال میں یہ صحت مند علامت ہے۔ احتساب سے کوئی بھی انکار نہیںکر رہا تاہم یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ احتساب کا دائرہ وسیع کیا جانا چاہیے اور حکومت کے ارکان کا بھی احتساب ہونا چاہیے جو موجودہ صورت حال میں نظر نہیں آرہا۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ لیکن اسے کسی سیاسی احتجاجی تحریک کا محور نہیں بنایا جا رہا ہے۔ یہ بات حکومت کیلئے بھی باعث اطمینان ہونی چاہیے کہ اپوزیشن کی طرف سے امن وامان کی صورت حال میں دخل دینے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا جار ہا۔ اسلئے اب حکومت کو بھی احتساب کی طرف متوجہ رہنے کی بجائے کاروبار حکومت کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔پی ٹی آئی کی حکومت کے وزیر اکثر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ان کی جماعت کی ساری جدوجہد کرپشن کے خلاف رہی ہے اور کرپشن کا خاتمہ ان کی اہم ترین ترجیح ہے۔ جہاں تک احتساب کی بات ہے اس پرنیب متوجہ ہے جو ایک آزاد ادارہ ہے۔ نیب کے چیئرمین کا بھی اعلان ہے کہ وہ احتساب کے عمل جاری رکھیں گے اور کرپشن کو ختم کرنے کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے ۔ اعلیٰ عدالتوں میں بھی احتساب کی کارروائی ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی تحریک کا بنیادی نکتہ اگر کرپشن کا خاتمہ ہے تو اس حوالے سے مقدمات تو عدالتوں ہی میں جائیں گے اور وہی احتساب کرنے کی مجاز ہیں۔ خود وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ عدالتوں میں احتساب کے ضمن میں جو مقدمات چل رہے ہیں وہ پی ٹی آئی کی حکومت کے قائم کردہ مقدمات نہیں ہیں وہ تو سابقہ دو حکمران پارٹیوں کے اپنے ایک دوسرے کیخلاف قائم کردہ مقدمات ہیں۔ لہٰذا اب یہ ضروری ہونا چاہیے کہ احتساب کے حوالے سے حکومت فریق ہونے کا تاثر نہ دے۔وزیر اعظم عمران خان وقتاً فوقتاً یہ کہتے رہتے ہیں کہ مشکل صورت حال عارضی ہے اور آئندہ کچھ عرصہ میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ لیکن حالات کی بہتری کیلئے حکومت کیا کر رہی ہے ‘ یہ نظر نہیںآتا۔ حکومت کے ترجمان وزیر اطلاعات اکثر احتساب اور اپوزیشن پر بات کرتے رہتے ہیں لیکن یہ وضاحت ان کی طرف سے نہیں آتی کہ حکومت عوام کے مصائب کے ازالے کیلئے کیا کر رہی ہے ۔ آئی ایم ایف سے قرض پاکستان کی سابقہ حکومتیںبھی لیتی رہی ہیں لیکن موجودہ حکومت نہ اس سے انکار کرتی نظرآتی ہے اور نہ قرض لیتی ہوئی۔ آئی ایم ایف سے جن شرائط کی توقع ہو سکتی ہے وہ حکومت نے خود مسلط کر دی ہیں۔ اس سے کاروبار کی صورت حال خراب ہو رہی ہے جب کہ وزیر اعظم کاروبار کی ترقی کو حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی عنصر کہتے رہتے ہیں۔ اس گومگو کی صورت حال کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔ تاکہ کاروباری طبقے اور عوام کو معلوم ہو کہ ان کیلئے امکانات کیا ہیں ۔ پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھی تو حکومتوں پر بے تحاشا قرض لینے کو خرابی قرار دیتی تھی۔ لیکن جب سے یہ برسراقتدار آئی ہے اس نے کتنے قرضے لیے ہیں اور انہیں کہاں صرف کیا ہے یہ عام معلومات کا حصہ نہیں۔ دوست ملکوں سے جو امدادی پیکیج لیے گئے ہیں ان کے ساتھ کیا شرائط وابستہ ہیں‘ یہ عوام کو نہیںبتایا جا رہا۔ چینی کمپنیوں سے جو آٹھ فیصد سود پر قرضہ لیا گیا ہے یہ شرح سود بتاتی ہے کہ معیشت ’’مرتا کیا نہ کرتا‘‘ کی صورت حال میں ہے۔ عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے اور پی ٹی آئی نے عوام کو مہنگائی دی ہے۔ وزیر اعظم کہتے ہیںکہ مشکلات عارضی ہیں۔ عوام ان کی بات پر اعتماد کر سکتے ہیں بشرطیکہ عوام کو حکومت کی کارکردگی نظرآئے۔ حکومت کو مشکل صورت حال کے ازالے کیلئے اپنے اقدامات کی تفصیل سے عوام اور کاروباری طبقے کو آگاہ کرنا ہو گا تاکہ اس کی بات پر یقین کی کوئی بنیاد نظرآئے۔

متعلقہ خبریں