Daily Mashriq

پارلیمانی اپوزیشن ہی گرینڈ الائنس ہے

پارلیمانی اپوزیشن ہی گرینڈ الائنس ہے

پارلیمانی نظام جہاں ایک متحرک حکومت کا نام ہوتا ہے وہیں ایک فعال اپوزیشن کے بغیر اس نظام کی تکمیل نہیں ہوتی۔ دو میں سے ایک پہیہ بھی اپنا اصل کردار ادا کرنے سے قاصر ہو تو سسٹم کی گاڑی منزل کی جانب رواں دواں نہیں رہتی پارلیمانی جمہوریت کی منزل عوام کی خوشحالی، ان کا مفاد، ان کے روزگار اور زندگی کا تحفظ ہوتی ہے۔ جمہوریت کا تصور ہی عوام سے، عوام کیلئے، عوام کے ذریعے سے عبارت ہوتا ہے۔ اس طرح جمہوری نظام میں ذمہ دار حکومت کیساتھ ساتھ ذمہ دار اپوزیشن بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت جب سے قائم ہوئی ہے شدید تنقید ومحاسبے کی زد میں ہے۔ میڈیا، عدلیہ اور اپوزیشن حکومت کی ایک ایک ادا پر نہ صرف نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ پوسٹ مارٹم کرنے میں بھی لمحوں کی دیر نہیں لگاتا۔ عدلیہ پنجاب حکومت کو برسرعام نکمے پن اور نااہلی کی سند جاری کرنے کیلئے کسی ٹی وی ٹاک شو یا کسی اخباری خبر کے تراشے کا انتظار نہیں کرتی بلکہ اپنے مشاہدے کے بنیاد پر تبصرہ کرتی ہے۔ حکومت اپنی ناتجربہ کاری کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ حکومت پر کئی نظریں لگی ہیں اور اس کے پاس غلطی کی گنجائش پہلے ہی کم ہے اس کے باجود حکومت کا ’’حوصلہ‘‘ ہے کہ وہ تنقید سمیٹتی اور غلطیاں کئے جا رہی ہے۔ حکومت اگر اگلے سفر میں انہی غلطیوں کا اپنا اتالیق بنا لے تو شاید سفر آسان ہوجائے۔ اس ماحول میں حکومت کو سہارا دینے کیلئے معاملہ فہم اور ذمہ دار اپوزیشن کا وجود ناگزیر ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے سابق صدر آصف زرداری کیساتھ دو ملاقاتیں کیں تو ملک میں گرینڈ اپوزیشن کے قیام کی افواہیں چلنے لگیں۔ پُرامن احتجاج اور اجتماع ہر سیاسی جماعت اور شہری کا بنیادی حق ہوتا اور ملکی آئین بھی اس حق کا دفاع کرتا ہے مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ ہر حکومت اور نظام کا احتجاجی سیاست کے ذریعے جھٹکا کرنیکا نتیجہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہا۔ ہر اتھل پتھل کے بعد سفر کو دوبارہ صفر سے شروع کرنا پڑا۔ موجودہ حکومت تو ایک پارلیمانی دھکے کی مار ہے، اسے گرانے، دبانے یا جھکانے کیلئے پارلیمان کے اندر زیادہ محنت کی ضرورت بھی نہیں تو ایسے میں گرینڈ الائنس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ملک کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی خود اپنے ماضی کے بھنور میں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ ان کیلئے حکومت کو گرانے اور پچھاڑنے سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ حکومت اور احتساب کے ادارے اپنا ہاتھ ڈھیلا چھوڑ دیں۔ اندر والوں کیلئے جیلوں کے پھاٹک کھل جائیں اور باہر والوں کیلئے یہ پھاٹک بند ہی رہیں اور راوی چین ہی چین لکھتا رہے۔ یہ جیو اور جینے دو کا آسان اور آزمودہ نسخہ ہے۔ مچھر اگر دھویں سے مرتا ہو تو اس کیلئے توپ کا استعمال کیوں کیا جائے کے مصداق جو کام دھونس دھمکی سے ہورہا ہو تو اس کیلئے سڑکوں اور کنٹینروں کا راستہ کیوں اپنایا جائے اس کے باجود مولانا فضل الرحمان جیسی شخصیات موجود ہیں جو یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا بس چلے تو حکومت ایک دن میں ختم کردیں۔ اس سوچ کے تحت مولانا فضل الرحمان کی خواہش ایک گرینڈ تو کیا گریٹر الائنس کی ہوگی تاکہ حکومت کل کی بجائے آج ہی رخصت ہو مگر دو بڑی جماعتوں کی مجبوریاں اس ’’عظیم تر‘‘ خواہش کا بوجھ اُٹھانے سے قاصر ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی آصف زرداری کیساتھ دو ملاقاتوں نے گرینڈ الائنس کا غبارا فضاؤں میں چھوڑا ہی تھا کہ بلاول بھٹو نے ایک جملے کی سُوئی چبھو کرغبارے کو واپس زمین پر پہنچا دیا۔ اس سے پہلے مسلم لیگ ن بھی گرینڈ الائنس کی افواہوں کے معاملے پر سردمہری کا مظاہرہ کر چکی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ذمہ دار اور متحرک پارلیمانی نظام میں پارلیمانی اپوزیشن ہی گرینڈ الائنس ہوتی ہے اور منتخب قائد حزب اختلاف اس الائنس کا سربراہ ہوتا ہے۔ موجودہ اپوزیشن میں پارلیمنٹ کے باہر اہمیت رکھنے والی ہر سیاسی جماعت کی کم یا زیادہ مگر نمائندگی موجود ہے۔ مصطفیٰ کمال کی پی ایس پی شاید واحد سیاسی جماعت ہے جو پارلیمنٹ میں موجود نہیں۔ اس کے سوا پارلیمانی سیاست کے دھارے میں بہنے والی اور اس نظام پر یقین رکھنے والی ہر سیاسی، علاقائی، دینی اور لبرل جماعت کی نمائندگی پارلیمنٹ میں موجود ہے۔ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر اپنے کردار کو موثر بنا کر حکومت کو راہ راست پر رکھ سکتی ہیں۔ یہ اپوزیشن کرنے کا تصادم اور احتجاج سے زیادہ پائیدار اور باوقار انداز ہے۔ جب موجودہ حکمران کنٹینر پر تھے تو آج کی یہی اپوزیشن انہیں کنٹینر سے اُتر کر فلور آف دی ہاؤس پر آکر بات کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ اسلئے موجودہ حکمران جہاں اپنے ماضی کے دعوؤں کی قید اور حصار میں ہیں وہیں آج کی اپوزیشن بھی بہت سے حوالوں سے اپنے ماضی کے موقف کی قید میں ہے۔ ماضی قریب میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اندر اپنا موثر کردار ادا کرنے سے گریز کیا۔ حکومت اور اپوزیشن نے جیو اور جینے دو کے اصول کا غلط انداز سے حالات پر اطلاق کرکے حقیقت میں ایک خلاء کو جنم دیا۔ اپوزیشن کے اس طرزعمل کے باعث حکومت نے پارلیمنٹ کو پرکاہ برابر اہمیت نہ دی۔ وزرائے اعظم بالخصوص میاں نوازشریف نے پارلیمنٹ میں آمد کو ایک ناگوار فریضے کے طور پر ادا کیا۔ اپوزیشن حکومت کو صحیح راستے پر نہ رکھ سکی۔ خورشید شاہ اس نرالی طرز اپوزیشن کے بانی ہیں۔ اب جہاں حکومت کو اپنی اداؤں اور رویوں پر غورکرنے اور پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے وہیں اپوزیشن کو حکومت کی سمت درست رکھنے کیلئے ماضی قریب میں اپنائے ہوئے انداز کو بدل کر فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں