Daily Mashriq


آلودگی ،صحت، تعلیم اور ڈنک ٹپائو کی پالیسی

آلودگی ،صحت، تعلیم اور ڈنک ٹپائو کی پالیسی

خدمت خلق کے اس سلسلہ وار کالم میں جن مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے ان میں سے غالب ترین اکثریت اُن مسائل کی ہوتی ہے جو سالہا سال سے چلے آرہے ہیں اور مجموعی طور پر عوام کی بڑی اکثریت ان کا شکار ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بدنظمی اور بدانتظامی، صحت کے شعبے میں بیمار انسانیت کو آرام پہنچانے کا فقدان بلکہ آرام اور سہولت کے بجائے اُن کو اذیت پہنچانے جیسے مسائل آخر سالہا سال کی کوششوں کی باوجود حل کیوں نہیں ہوتے۔ میرے تئیںاس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ہمارے حکمران اور بیوروکریسی ڈنک ٹپاؤ قسم کے اقدامات ہی کرتے آئے ہیں۔ فرسودہ نظام کو تبدیل کرنے کا دعویٰ تو بہت سامنے آتا ہے لیکن حقیقت کیا ہے اس کی جھلک ہمارے قارئین کی ان شکایات سے بخوبی واضح ہے۔صوبائی دارالحکومت پشاور میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں سڑکوں کے کنارے صاف ہوں اور گاڑیاں گزرنے پر دھول نہ اُڑتی ہو۔ رہی سہی کسر تو شدید دھند سے پوری ہو رہی ہے، اس شہر میں تو سانس لینا بھی دشوار ہوگیا ہے، جینے کیلئے کم ازکم سانس کی روانی تو ہو۔ یہ برقی پیغام ایک ایسے شخص کا ہے جو روزانہ شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کرتا ہے۔ اس کا سفر بیک وقت شدید رش والے مقامات، شہر کی مرکزی سڑک اور تجارتی مراکز سے ہوتے ہوئے ایک جدید بستی پر اختتام پذیر ہوتا ہے اور اگلی صبح پھر انہی مقامات سے ان کا گزر ہوتا ہے۔ انہیں اس بات کا بڑا دکھ ہے کہ پی ڈی اے اور ڈبلیو ایس ایس پی کے حکام کی اگر آنکھیں بند ہیں تو وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء نے آنکھیں کیوں بند کر رکھی ہیں۔ پشاور میں سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کے پھیپھڑوں میں بھی سگریٹ نوشوں جتنا دھواں بھر جانے کی رپورٹ گزشتہ دنوں ہی پڑھی تھی۔ خدا خیر کرے اور بس۔گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج ڈیرہ اسماعیل خان کی بی ایس کیمسٹری کی ایک طالبہ نے اُستانیوں کی جانب سے تیاری کے بغیر کلاسیں لینے پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اُستانیاں تیاری کیساتھ نہیں آتیں اور بجائے اس کے کہ لیکچر دیں اور موضوع سمجھائیں صرف درسی کتب کی عبارت پڑھاتی ہیں۔ اس طرح سے طالبات کو پڑھایا جائے اور وہ ڈگری لیکر جائیں تو کسی مقابلے کے امتحان میں کیسے مقابلہ کر سکیں گی اور اُن کا مستقبل کیا ہوگا۔ طالبہ نے بڑی اچھی تجویز دی ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیز میں لیکچرزکا انتخاب صرف اور صرف میرٹ، قابلیت اور اُن کے لیکچر دینے اور طلبہ کو سمجھانے کی صلاحیت جانچنے کے بعد ہی اُن کی تقرری ہونی چاہئے جب کوئی لیکچرر درسی کتب پڑھ کر اُس کا ترجمہ کرنے کا ہی بمشکل اہل ہوں اُن سے طلبہ کیا سیکھ سکیں گے؟ ڈیرہ اسماعیل خان کی اس طالبہ نے جس مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے بنیادی طور پر یہی وہ بنیادی کمزوری ہے جس کی اساس پر ہمارا تعلیمی نظام قائم ہے اگرچہ لیکچررز خواہ وہ کالجوں یا یونیورسٹیز کے ہوں، اُن کے انتخاب کیلئے ایک باقاعدہ طریقۂ کار موجود ہے۔ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے ہی کالج لیکچرر بنا جا سکتا ہے جبکہ جامعات میں ماہرین کی کمیٹی بڑی چھان بین کے بعد لکچرر کا انتخاب کرتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ بعض جگہوں پر اس قسم کی غلطیاں ہوتی ہیں یا پھر سفارش اور ملی بھگت کے تحت ایسے افراد کسی نہ کسی طرح لیکچرر جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں جس کی مثال ڈیرہ اسماعیل خان کی اس طالبہ کی شکایت میں ملتی ہے۔ بعض کالجوں اور جامعات میں سرے سے اساتذہ کی عدم موجودگی اور عدم دستیابی جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ جامعات میں بی ایس کی کلاسوں کے بعض مضامین کے امتحانات صرف اس وجہ سے نہیں لئے جا سکتے کہ متعلقہ مضمون اُن طالبات کو پڑھایا ہی نہیںگیا ہوتا، غرض بہت سے مسائل ہیںجس کا ایچ ای سی کو نوٹس لینا چاہئے۔دیربالا سے بی ایس کے ایک طالبعلم نے اپنے کالج میں محولہ بالا قسم کے مسئلے کی شکایت تو نہیں کی ہے لیکن وہ اپنے جیسے طالب علموں اور عام افراد کو درپیش خطرے پر مشوش ہیں اُن کا کہنا ہے کہ غیر متوازن خوراک اور سخت سردی کی وجہ سے علاقے میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات بہت بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے خاص طور پر سکول جانے والے بچے سخت ہراسان ہیں۔ اگرچہ اس وقت شدید سردی کے حامل علاقوں میں سکولوں کی چھٹیاں ہیں لیکن اس طالب علم نے جس مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے اُس کا تعلق صرف طالب علموں اور بچوں سے نہیں بلکہ پوری آبادی سے ہے۔ کتے کے کاٹنے کے انجیکشن ویسے بھی اگر ناپید نہ ہوں تو بہت مہنگے ضرور ہیں اور ہر کوئی اتنی استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ علاج کراسکے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کسی سے پوشیدہ نہیں حکام کو جلد سے جلد کتے تلف کرنے کی مہم شروع کرنی چاہئے۔ ڈومیل ضلع بنوں سے انجینئر عثمان اللہ نے خلیفہ گل نواز ہسپتال بنوں ٹاؤن شپ میں علاج معالجے کی سہولتوں کے حوالے سے سخت مایوس کن صورتحال کی نشان دہی کرائی ہے۔ کہتے ہیں کہ اُن کے پاس الفاظ نہیں کہ وہ یہاں کی بدانتظامی کی منظرکشی کر سکے۔ یہاں نہ تو ڈاکٹر وقت پر آتے ہیں نہ ایمرجنسی میں کوئی ڈاکٹر ہوتا ہے۔ او پی ڈی میں کوئی نمبر والا سسٹم نہیں، بس قوت بازو جس کا مضبوط ہو وہ زبردستی اندر چلا جاتا ہے اور ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کرواتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ صرف بنوں ہسپتال ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اور ملک کے بیشتر ہسپتالوں اور مراکز صحت میں کم وبیش اسی قسم کی صورتحال بتائی جاتی ہے لیکن بہرحال انجینئر صاحب نے جس مخصوص ہسپتال کی نشاندہی کی ہے وہاں کی انتظامیہ سے اس امر کی پوچھ گچھ ہونی چاہئے جبکہ محکمۂ صحت کے حکام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہسپتالوں کی کم ازکم اتنی مانیٹرنگ ضرور کریں کہ کسی شریف آدمی کو بھی ڈاکٹر تک باعزت پہنچنے کا موقع ملے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں

متعلقہ خبریں