Daily Mashriq


ایک عظیم بزرگ اور عالم دین کی رحلت

ایک عظیم بزرگ اور عالم دین کی رحلت

23اکتوبر 2018 کو اسلام اباد ہوٹل میں ہوپ نے حج سے متعلق ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا تھا اس میں وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم اہنگی ڈاکٹر پیر نور الحق قادری صاحب کو بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی تھی ۔ مجھے بھی اس ورکشاپ میں دعوت دی گئی تھی اور تقریر کا موقع بھی ۔ تقریر کے دوران میں نے وفاقی وزیر مذہبی امور کا ذکر کرتے ہوئے ان کو خراج تحسین پیش کیا ۔ کہ یہ وزارت اپ کے لئے اجنبی نہیں ہے اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ اس اہم وزارت کیلئے اپ جیسے شخصیت کا انتخاب کیا اور آپ یقینا اس وزارت کو بہترین انداز میں چلا سکتے ہیں ۔ جب وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیر نور الحق قادری کو خطاب کی دعوت دی گئی تو انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی حجاج کی خدمت دلی جزبے سے کرتے ہیں تو حجاج کرام ان کے لئے دعا کرتے ہیں انہوں نے اپنے والد گرامی کا قصہ سنایا اور کہا کہ وہ اج کل بیمار ہیں ان کی صحت کیلئے دعا کریں انہوں نے کہا کہ تقریبا بیس سال قبل میں والد صاحب کی دعاؤوں کی کتاب دیکھ رہا تھا اس میں ایک کارڈ رکھا ہوا تھا میں نے کارڈ دیکھا تو یہ کارڈ بحراللہ ہزاروی کا تھا جو اس وقت حج مشن سے وابستہ تھے اور کارڈ کے پشت پر انہوں نے لکھا کہ اس نوجوان نے جدہ ائرپورٹ پر میری بڑی خدمت کی اور میں ان کے لئے دعا گو ہوں ۔ قادری صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہ مجھے یہ بہت اچھا لگا اور بحراللہ ہزاروی کو دیکھنے اور ملنے کا دل چاہا اور پھر کئی بار ان سے ملنے اور حجاج کی خدمت کرتے ہوئے دیکھا اور آج وہ یہاں ہیں ۔ ابھی حال ہی جب وفاقی وزیر مذہبی امور سعودی عرب کے وزیر حج کی دعوت پر سعودی عرب جارہے تھے تو انہوں نے مجھے بھی چلنے کی دعوت دی اور میں ان کے ہمراہ گیا اور حج سے متعلق تمام اجلاسوں میں شرکت کی اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ گزشتہ23 سال سے سعودی وزرائے حج کے ساتھ تمام ملاقاتوں میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے ۔ حج سے متعلق ملاقاتوں کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور نے رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام انٹرنیشنل کانفرنس میں بھی شرکت کی اور اس کانفرنس میں پیر اف مانکی شریف پیر شمس الامین بھی رابطہ عالم اسلامی کے دعوت پر اس کانفرنس میں شریک تھے اور جب ان سے ملاقات ہوئی تو وفاقی وزیر مذہبی امور نے ان سے میرا تعارف کراتے ہوئے اپنے والد گرامی کا وہ قصہ بھی ان کو سنایا اور وہ بھی بہت خوش ہوئے اور مجھے بھی پیر اف مانکی شریف کے مشفقانہ رویہ سے بہت زیادہ خوشی ہوئی ۔ جب بھی وفاقی وزیر مذہبی امور اپنے والد گرامی کا تذکرہ کرتے ان کی انکھوں میں ایک چمک نظر آتی تھی ۔ میں نے ایک مرتبہ وفاقی وزیر مذہبی امور سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان جاکر میں والد گرامی سے ضرور ملاقات کرونگا کیونکہ وہ میرے لئے دعاؤں کا مرجع ہیں لیکن 25 دسمبر کو رات کو ایک دوست نے اطلاع دی کہ وفاقی وزیر مذہبی امور کے والد گرامی انتقال فرماگئے اور جنازہ منگل کو تین بجے ہوگا ۔ مجھے ان کی جدہ آمد اور دعاؤں کی لالچ میں ان کی خدمت اور پھر ان کے قابل ترین صاحبزادے وفاقی وزیر مذہبی امور کا تزکرہ کرنا اور میں نے ان سے ملنے کا خواہش کرنا اور یہ اطلاع ملنا کہ وہ انتقال فرماگئے یہ صدمہ اور غم صر ف وفاقی وزیر مذہبی امور پیر ڈاکٹر نور الحق قادری صاحب یاسابق سینٹر عبد المالک صاحب کا یا عبد الباسط قادری یا ان کے پوتے نوجوان عالم دین عدنان قادری پیر مانکی شریف حضرت شمس الامین کا نہیں ہے اور نہ صرف ان کے خاندان کا ہے بلکہ یہ پاکستان کے تمام مسلمانوں کا غم ہے اور وہ اس غم میں برابرکے شریک ہیں کیونکہ شیخ عبد العزیز عرف شیخ گل صاحب قادری سلسلے کے شیخ طریقت تھے اور ان کا قبائلی علاقے میں وسیع حلقہ ہے اور جو سب سے بڑا کارنامہ ان کا دینی اداروں کا قیام ہے جو دارالعلوم جندیہ غفوریہ کے نام سے موسوم ہے اور صوبہ کے پی کے میں اس کے بہت شاخیں ہیں اور بیس ہزار سے زیادہ طالبعلم دینی اور جدید علوم سے سرفراز ہورہے ہیں اور ان مدارس کی مالی کفالت اپنے خاندان اور قریبی مخلصین کے تعاون سے پورا کرتے رہے ہیں اور اب ان کے جانشین سابق سینیٹر حضرت پیر عبد المالک صاحب ہونگے۔میں اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں کہ میں اپنے دوست صاحبزادہ سعید الرشید عباسی کے ہمراہ جنازہ میں شرکت کی اور تدفین کے موقع پر قبر مبارک پر حاضر رہا اس موقع پر خاندان کے افراد اور وزیر مذہبی امور کے پرنسپل سیکٹریری کلیم ڈار اور میڈیا کے عمران صدیقی موجود تھے ۔ ان کی تدفین دربار عالیہ قادریہ پیروخیل میں ان کے والد بزرگوار حضرت حاجی گل کے پہلومیں سپرد خاک کیا گیا یہ صوبہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں سب سے بڑا جنازہ تھا اور پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندوں نے شرکت کی اور قادری خاندان کے غم کو اپنا غم سمجھاہم نے جنازہ اور تعزیت کے جو مناظر دیکھے یہ حقیقت میں موت العالم موت العالم۔

متعلقہ خبریں