Daily Mashriq

سعودی عرب میں پاکستانیوں کی مشکلات

سعودی عرب میں پاکستانیوں کی مشکلات

سعودی عرب کا رقبہ تقریباً 22لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو پاکستان سے تین گنا بڑا ملک ہے۔ پاکستان کا رقبہ 8لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ سعودی عرب کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے جن میں 85لاکھ دوسرے ممالک کے لوگ ہیں۔ سعودی عرب میں جو سب سے زیادہ دوسرے ممالک کے لوگ ہیں وہ بھارت کے ہیں جو 40لاکھ کے قریب ہیں جبکہ اس کے بعد تقریباً 18لاکھ پاکستانی ہیں۔ سعودی عرب سے سمندر پار پاکستانی 7ارب ڈالر وطن عزیز بھیجتے ہیں جو پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں 85لاکھ سمندر پار پاکستانی ہیں جو وطن عزیز کو 19اور20ارب ڈالر کے قریب بھیج رہے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو پاکستان کا وفاقی بجٹ 5500ارب روپے ہے جس میں سمندر پار پاکستانی 20ارب ڈالر یعنی 2800 ارب روپے بھیج رہے ہیں جو ہمارے وفاقی بجٹ کا آدھا ہے مگر مجھے انتہائی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی سیاسی قیادت اور ہمارے ملک کے سفارتخانے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ میں اس کالم میں اُن سمندر پار پاکستانیوں کا ذکر کروں گا جو سعودی عرب میں پاکستان کیلئے دن رات، سخت موسم میں محنت کرتے ہیں اور پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودی عرب گیا جہاں پر بیت اللہ شریف اور مسجد نبویﷺ میں پاکستانیوں سے ملاقات کے دوران ان کے مسائل کا پتہ چلا۔ سعودی عرب میں پاکستانیوں کو جو تنخواہ دی جاتی ہے وہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم ہے حالانکہ پاکستانی جس لگن کیساتھ کام کرتے ہیں پوری دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی مگر مجھے انتہائی دکھ کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دوسرے ممالک کی طرح پاکستانی سفارتخانے اُس طریقے سے اپنے فرائض ادا نہیں کرتے جس طرح دوسرے ممالک کے سفارتخانے اپنے ممالک کے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ مثلاً بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، بھوٹان ملائیشیا اور انڈونیشیا کے شہری اپنے سفارت خانوں کیساتھ موبائل فون کے ایک میسج پر رابطے میں ہوتے ہیں اور ان ممالک کے شہریوں کے میسج کی بھی بڑی قدر وقیمت ہوتی ہے۔ جب اس کے برعکس پاکستان کا سعودی عرب میں سفارت خانہ بہت کم پاکستانیوں کے مسائل میں دلچسپی لیتا ہے جبکہ دوسرے ممالک کے سعودی عرب میں مقیم لوگ اپنا پاسپورٹ وغیرہ رینیو کرتا ہے تو سفارت خانے کا عملہ خود ان کے پاس پاسپورٹ رینیول کیلئے آتا ہے جبکہ پاکستانیوں کو اپنے پاسپورٹ اور دوسرے جائز مسائل حل کرنے کیلئے سفارت خانے کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ عام طور پر سفارت خانے کا عملہ 10یا11بجے کے قریب آتا ہے اور کچھ وقت پاسپورٹ کی تجدید اور اس کے علاوہ دوسرے چھوٹے موٹے کام تنگ دلی اور برے تیور سے کرکے چلے جاتے ہیں۔ اگر سعودی عرب میں کسی اور ملک کے باشندے پر کفیل یا کسی اور کی طرف سے کوئی زیادتی کی جاتی ہے یا اس کو تنخواہ وقت پر نہیں دی جاتی تو اس ملک کے سفارت خانے اس قسم کے واقعات اور شکایات کا سختی سے نوٹس لیتے ہیں اور اپنے ملک کے باشندوں کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہوتے ہیں۔ دوسرے ممالک کے لوگ پیسوں کو اپنے بینکوں کے ذریعے بھیجتے ہیں جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کیلئے بینکوں کے ذریعے پیسے بھیجنے کا نظام اتنا پیچیدہ اور مشکل ہے اور یہی وجہ ہے کہ سمندر پار پاکستانی اپنے پیسے ہنڈی کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً20 ارب ڈالر سے زیادہ ہنڈی کے ذریعے پاکستان بھیجے جاتے ہیں جو بعد میں ہمارے ملک کی اشرافیہ منی لانڈرنگ اور دوسرے کئی ذرائع سے دوسرے ممالک منتقل کر کے اپنے بال بچوں کیلئے اثاثے بناتے ہیں۔ آج کل پاکستانی حکومت نے ایئر پورٹ پر سیل فون لانے پر ٹیکس لگایا ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو سمندر پار پاکستانیوں کیلئے سیل فونز کے علاوہ دوسری کئی چیزوں کے پاکستان لانے کے نظام کو سہل اور آسان بنانا چاہئے۔ اگر ہم غور کریں تو سعودی عرب میں کئی پاکستانی چھوٹے چھوٹے کیسوں میں جیلوں میں پابند سلاسل ہیں، نہ تو ان کیلئے کوئی قانونی راستہ نکالا جاتا ہے اور نہ کوئی ان کو پوچھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس دوسرے ممالک کے لوگ سعودی عرب کی جیلوں میں قیدیوں کیلئے قانونی مشیر فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے سفارت خانے جیل میں قیدیوں کیلئے خصوصی خوراک، ادویات اور ان کیلئے مختلف سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے سفارت خانوں کو چاہئے کہ وہ بیرون ممالک پاکستانیوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ ان کی وجہ سے پاکستان میں خوشحالی ہے ان کو زیادہ سے زیادہ مراعات دیکر ان کے مسائل کو حل کرنا چاہئے تاکہ یہ ملک اور قوم کے ئے مزید زرمبادلہ بھیج سکیں۔ ان کیلئے تکالیف پیدا کرنے کے بجائے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کے سلسلے میں خود دلچسپی لیں۔ اگر وہ آپ کے شوکت خانم کیلئے بڑی بڑی عطیات بھیجتے ہیں تو آپ بھی ان کے مسائل حل کرنے اور زیادہ سے زیادہ سہولیات کیلئے سفارت خانوں کو مستعد کریں۔

متعلقہ خبریں