Daily Mashriq


امریکاطالبان مذاکرات تعطل کاشکار

امریکاطالبان مذاکرات تعطل کاشکار

واشنگٹن:امریکہ کی افغانستان میں امن کی کوششوں کو دھچکا لگ گیا۔ طالبان نے آ ج ہونے والے مذاکرات سے انکارکرتے ہوئے ایجنڈے پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ منگل کو نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دورآج بروز بدھ دوحہ میں منعقد کیا جانا تھا جس میں افغان حکومت سمیت کسی بھی دوسرے ملک کا کوئی حکومتی نمائندہ شریک نہیں تھا اور امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات ون آن ون ہونے تھے لیکن طالبان کی جانب سے انکار کے بعد مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔ اس سے قبل عالمی خبررساں ایجنسی سے بات چیت میں ایک طالبان رہنما نے ہونے والے مذاکرات کی تصدیق کی تھی اور ساتھ ہی واضح کیا تھا کہ بات چیت میں تیسرا کوئی نہیں ہوگا۔ خبررساں ایجنسی نے طالبان رہنما کے حوالے سے بتایا تھا کہ مذاکرات کا فیصلہ فریقین نے باہمی مشاورت سے کیا ہے۔ طالبان رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ یہ بھی بتایا تھا کہ مذاکرات دو روز تک جاری رہیں گے۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق طالبان قیادت، امریکی حکام سے اس مرتبہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا، قیدیوں کے تبادلے اور طالبان رہنمائوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم کرنے سے حوالے بات چیت کرنا چاہتی تھی۔ اس سے قبل امریکی تھنک ٹینک نے دعویٰ کیاتھاممکنہ امن معاہدے کے تحت امریکا18ماہ میںافغان مشن بنداورطالبان حملے روک کرالقاعدہ سے لاتعلقی کااعلان کریںگے۔افغانستان میںعبوری حکومت قائم کی جائے گی اورصدرکے اختیارات میںکمی کی جائے گی،اس ممکنہ معاہدے کی دستاویزبھی فریقین کوفراہم کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں