Daily Mashriq


جسٹس فرخ منی ٹریل دیں،یہ طعنہ نہ سنناپڑے عدلیہ میںپانامالیکس کے جج بیٹھے ہیں

جسٹس فرخ منی ٹریل دیں،یہ طعنہ نہ سنناپڑے عدلیہ میںپانامالیکس کے جج بیٹھے ہیں

اسلام آباد:لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فرخ عرفان کے خلاف ریفرنس کی سماعت سپریم جوڈیشل کونسل نے کھلی عدالت میں کی جس کے دوران چیف جسٹس نے وکیل حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں یہ طعنہ نہ سننا پڑے کہ عدلیہ میں پاناما لیکس کے جج بیٹھے ہیں۔ریفرنس کی سماعت کے دوران جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کا بیان حلفی پیش کرنے کی اجازت مانگی۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حامد خان آپ جسٹس فرخ عرفان سے متعلق وکلاء کے بیان حلفی دے رہے ہیں کیا یہ مناسب ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ جسٹس فرخ عرفان پر یہ الزام بھی ہے وہ دوران سماعت غصے میں آجاتے ہیں، اس لئے ان کے ساتھی جج اسد منیر کا بیان حلفی پیش کر رہا ہوں۔سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس اسد منیر بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش ہوئے اور کہا کہ جسٹس فرخ عرفان سے متعلق بیان حلفی میرا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پوچھا کہ کیا آپ کو جسٹس فرخ عرفان کی پاناما لیکس سے پہلے آف شور کمپنیوں سے تعلق کا علم تھا؟ اس پر بھی جسٹس (ر) اسد منیر نے نفی میں جواب دیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس فرخ عرفان کے رپورٹڈ مقدمات کی فہرست طلب کرلی۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان سے مکالمہ ہوا۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حامد خان ہمیں بتا دیں کہ ہمارا جج دیانت دارہے، ہمیں یہ طعنہ نہ سننا پڑے کہ عدلیہ میں پاناما لیکس کے جج بیٹھے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سادہ سوال ہے پیسہ جائز طریقے سے کمایا اور جائزطریقے سے باہر لے گئے؟ سادہ سا سوال ہے کہ دیانت داری کا ثبوت دے دیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے وکیل حامد خان سے کہا کہ آپ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کو لانا چاہتے ہیں تو لے آئیں ہمیں صرف یہ بتا دیں یہ پیسہ پاکستان سے نہیں کمایا، جب باہر تھے تو یہ ڈکلیئر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ہائی کورٹ کے ججز کے فیصلے ہمارے پاس آتے ہیں، پتہ ہے کون سا جج کتناپانی میں ہے۔بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی آج بدھ کی شام 4 بجے تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں