Daily Mashriq

سیر و سیاحت آپ کی جان بچا سکتی ہے

سیر و سیاحت آپ کی جان بچا سکتی ہے

تفریح کے لیے سفر کرنے میں نہ صرف مزا آتا ہے بلکہ ایسا کرنے سے جسمانی اور ذہنی صحت کو فائدہ بھی پہنچتا ہے خواہ آپ کسی شہر میں گھوم پھر رہے ہوں، دلکش نظاروں سے محظوظ ہو رہے ہوں یا کسی گاؤں کی صاف فضا میں سانس لے رہے ہوں۔

آپ کافی خوش قسمت ہیں اگر آپ سفر کرنے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ذیل میں سیر و سیاحت کے ایسے چھ فوائد پیش کیے جا رہے ہیں جو آپ کو اس کی تحریک دے سکتے ہیں۔

اگر آپ شہر یا قدرتی مناظر دیکھنے کے عادی ہیں تو دن میں پانچ سے چھ کلومیٹر یا دس ہزار قدم چل لیتے ہوں گے جو اعتدال سے ورزش کرنے کے لیے ایک اچھی گائیڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس عادت کو سیروسیاحت اور دیگر سرگرمیوں جیسے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے آپ اپنی صحت کو بہت فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGESImage captionمختلف مقامات کی سیر کرنا جہاں لطف اندوز ہوتا ہے وہیں ورزش کا باعث بھی ہوتا ہے

سنہ 1948 کی فریمنگھم ریسرچ نے اس موضوع پر سروے کیا اور 20 سال بعد دوبارہ ان خواتین سے رابطہ کیا۔ چھ سال میں ایک بار سیروتفریح کرنے والی خواتین میں سال میں دو بار سیروتفریح کرنے والی خواتین کے مقابلے میں قلبی امراض اور دل کا دورہ پڑنے کے امکانات آٹھ گنا زیادہ تھے۔

تاہم نتائج کو مؤثر بنانے کے لیے موٹاپے اور تمباکو نوشی جیسے خطرناک عوامل کو سروے میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

ایک دوسری تحقیق میں نیویارک سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے ایسے 12000 مردوں کا نو سال تک مطالعہ کیا جن کے دل کو خون پہنچانے والی شریان کے مرض میں مبتلا کا ہونے کا شدید خطرہ لاحق تھا۔

سالانہ سیر و سیاحت نہ کرنے والے مردوں میں دل کے دورہ پڑنے سے موت کے خدشات 32 فیصد زیادہ نکلے۔یہ مشغلہ آپ کو دوبارہ جوان بنا دیتا ہے

گلوبل کوالیشن آن ایجنگ نامی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق دباؤ اور تناؤ بڑھاپے کو عمل کو تیز کر دیتا ہے۔

اس تنظیم کے مطابق ذہنی دباؤ روزانہ جسم میں کاٹیسول ہارمون کا ایک ٹیکا لگنے کے مترادف ہے جو مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتا ہے اور گردوں کی خرابی، سر درد اور آنتوں میں سوزش جیسی بیماریوں کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔

خوش قسمتی سے تفریحی سفر کے مثبت اثرات کم ہی وقت میں نظر آنے لگتے ہیں۔

سنہ 2012 میں 500 افراد سے لیے گئے ایکسپیڈیا کے سروے سے پتہ چلا کہ تفریحی مقام پر پہنچ کر لوگوں کو پُرسکون محسوس کرنے میں صرف ایک دو دن درکار ہوتے ہیں۔

سنہ 2002 میں برطانیہ کی سرے یونیورسٹی کے محققین نے تجویز دی کہ صرف تفریحی سفر کی تیاری کر کے اور اس کے بارے میں سوچ کر بھی سفر کرنے والوں میں مثبت احساسات جاگ اٹھتے ہیں اور وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔یہ آپ کے ذہن کو تیز بناتا ہے

سفر کرنے سے ہمیں نئے کھانوں کو کھانے، نئے ماحول کو دیکھنے اور مختلف زبانیں سننے اور بولنے جیسی دماغ کی نشوونما کرنے والی سرگرمیاں سرانجام دینے کا موقع ملتا ہے۔

گلوبل کوئلیشن آن ایجنگ کی رپورٹ کے مطابق مقامی ثقافتی سرگرمیوں میں مشغول ہونا اور دوسری جگہوں کے بارے میں سیکھنا نہ صرف ہمیں ذہین بناتا ہے بلکہ ایلزائمر جیسے اعصابی امراض کی پہنچ سے بھی دور رکھتا ہے۔

پِٹسبرگ یونیورسٹی کے میڈیسن سکول کے ڈاکٹر پال ڈی نسبام کے مطابق 'سفر کرنا ایک اچھی دوا کی طرح ہے۔'

ان کا کہنا ہے 'سفر کرنے سے دماغ میں مختلف اور نئے تجربات اور ماحول سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ رویہ عمر بھر کے لیے اعصاب کی صحت اور لچک کو بڑھاتا ہے۔'

اپنی کتاب 'اے ٹیکنیک فار پروڈیوسنگ آئڈیاز' میں امریکی ایڈورٹائیزنگ ایگزیکٹو جیمز ویب ینگ طالبعلموں اور مارکیٹنگ کے پیشہ ور خواہشمند افراد کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں 'اگر آپ اچھا خیال پیدا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کے بارے میں سوچنا نہیں چاہیے۔'

ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ ان کی اشتہاری مہموں کے لیے خیالات آسمان سے نازل ہوئے بلکہ اس کے برعکس ہوا۔

انھوں نے اپنے موضوع کا جائزہ لینے کے لیے شروعات میں اس پر بہت سوچا لیکن ان کے دماغ کی بتی تب جلی جب وہ جان بوجھ کر فلم دیکھنے جیسی سرگرمیوں سے اپنا دھیان بھٹکا رہے تھے۔

نیوروسائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نیا ماحول اور تجربے ہمارے دماغ کے تاروں کو دوبارہ جوڑ دیتے ہیں اور ہمارے ذہنوں کو تقویت بخشتے ہیں۔

'کاگنیٹِو فلیکسیبیلیٹی' یعنی کہ ذہن کا مختلف خیالات کے درمیان سوچنا، تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔

شاید یہ اتفاق کی بات نہیں ہے کہ پال گاؤگن، ارنیسٹ ہیمینگ وے اور اِگور سٹراونسکی جیسے مشہورو معروف فنکار کسی سفر پر یا کسی سفر سے لوٹ کر اپنی سب سے بہترین کارکردگی دکھا پائے۔

کام کے نتیجے میں واقع ہونے والی تھکن دفاتر میں وبا کی طرح پھیل چکی ہے۔

ملازمین تھکن کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، ہیلتھ کیئر سسٹمز کو بڑے پیمانے پر ذہنی امراض کا علاج کرنا پڑتا ہے جبکہ دنیا بھر میں کمپنیوں کو کارکردگی میں کمی، بیمار ملازمین، حادثات اور ہرجانہ بھرنے جیسے نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔

امریکی انسٹیٹیوٹ آف سٹریس کے تخمینے کے مطابق امریکی صنعت کو ذہنی دباؤ کی وجہ سے سالانہ 300 ارب ڈالر کا خسارہ ہوتا ہے۔

'نیوروسائنس آف ہیپینیس اینڈ اوپٹیمل ہیلتھ' نامی کتاب کی معروف مصنف ڈاکٹر شمی کانگ کا کہنا ہے کہ ذہن کو آرام کرنے کا وقت دینے سے وہ بالکل تازہ دم ہو جاتا ہے اور مسائل حل کرنے اور خیالات کو مربوط کرنے میں مدد کرتا ہے۔

ریسرچ کے مطابق اگر آپ جوان ہیں اور کچھ عرصے کے لیے بیرون ملک منتقل ہو سکتے ہیں تو یہ تجربہ آپ کی ذاتی فروغ کو بہت فائدہ پہنچائے گا۔

جرمنی کی فریڈریخ شِلر یونیورسٹی کے ڈاکٹر فرانز نیئر اور ڈاکٹر جولیا زِمرمان نے ایک سمیسٹر یا اس سے زائد وقت بیرون ملک گزارنے والے 3000 جرمن طالبعلموں کے ذاتی فروغ کا موازنہ ملک میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں سے کیا۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک جانے والے طالبعلم ملک میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں سے زیادہ ملنسار ہیں۔

وطن واپس لوٹنے کے بعد طالبعلموں نے جذبات میں استحکام اور نئے تجربات کرنے کے لیے زیادہ رضامندی دکھائی۔

محققین کا کہنا ہے 'لڑکپن سے جوانی میں داخل ہونے کے دوران زیادہ تر افراد باضمیر، سمجھدار اور جذباتی طور پر مستحکم ہو جاتے ہیں۔'

خواہ آپ عمر کے جس بھی حصے میں ہوں اور جیسے بھی سفر کرنا پسند کرتے ہوں، کچھ وقت نکال کر تفریح کرنے کے فوائد سے آپ بھرپور لطف اٹھا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں