Daily Mashriq

وزیراعظم کی آرمی چیف کو ایران، سعودیہ اور امریکا کی فوجی قیادت سے رابطے کی ہدایت

وزیراعظم کی آرمی چیف کو ایران، سعودیہ اور امریکا کی فوجی قیادت سے رابطے کی ہدایت

 وزیراعظم عمران خان نے مشرق وسطیٰ میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو متحرک ہونے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ایران، سعودی عرب اور امریکا کا دورہ کرنے اور متعلقہ ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتوں کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی متعلقہ ممالک کی فوجی قیادت سے رابطے کا کہا ہے۔

 میں نے ہدایات دی ہیں کہ وزیرخارجہ ایران، سعودی عرب اور امریکہ جاکر ان ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملیں جبکہ آرمی چیف متعلقہ عسکری قائدین سے روابط قائم کریں اور واضح پیغام دیا جائے کہ پاکستان امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تو تیار ہے مگر وہ دوبارہ کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔

 وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کو پاکستان کا واضح پیغام پہنچانے کا کہا ہے کہ پاکستان امن کے لیے کردار اداکرنے کو تیارہے لیکن دوبارہ کبھی کسی دوسری جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔

خیال رہے کہ 3 جنوری 2020 کو ایران کے اہم ترین کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی گاڑی کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ائیرپورٹ کے قریب امریکی صدر کے حکم پر نشانہ بنایا گیا اور ان کی گاڑی پر ڈرون کے ذریعے راکٹ فائر کیے گئے جس میں قاسم سلیمانی جاں بحق ہوگئے۔

اسی روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا۔

امریکی وزیرخارجہ کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی اور ان سے عراق میں اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی سے متعلق بات کی جس میں قاسم سلیمانی ہلاک ہوئے۔

4 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے لیے فوجی تربیت کے پروگرام کی بحالی کی توثیق کردی تھی۔

امریکا کی معاون نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس پروگرام کی بحالی کا فیصلہ امریکا کی قومی سلامتی کے پیش نظر کیاگیا۔

میجر جنرل قاسم سلیمانی کی موت کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور خطے پر جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں۔

اس صورتحال میں پاکستان نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی یکطرفہ کارروائی کی تائید نہیں کرتا اور اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

متعلقہ خبریں