Daily Mashriq

’فیس بک نے الیکشن میں ٹرمپ کی مدد کی،2020 میں بھی یہ ہوسکتا ہے‘

’فیس بک نے الیکشن میں ٹرمپ کی مدد کی،2020 میں بھی یہ ہوسکتا ہے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہوتے ہی 2016 میں ان پر الزامات لگائے گئے کہ انہوں نے اپنی جیت کے لیے فیس بک جیسے پلیٹ فارم کو غلط طریقے سے استعمال کیا۔

ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے حوالے سے یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ مبینہ طور پر روس نے ان کی جیت کی راہ ہموار کی اور اس معاملے پر امریکا کے تحقیقاتی اداروں نے تفتیش بھی شروع کی۔

بعد ازاں کیمبرج اینالیٹیکا جیسا اسکینڈل بھی سامنے آیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ فیس بک نے امریکی صارفین کے ڈیٹا کو غلط استعمال کیا اور اسی وجہ سے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت ممکن ہوئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت میں فیس بک کے کردار پر خود ویب سائٹ کے بانی مارک زکربرگ بھی بات کر چکے ہیں اور انہوں نے واضح طور پر کبھی بھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ سوشل ویب سائٹ نے امریکی صدر کی مدد کی۔

تاہم اب فیس بک کے ایک ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے اعتراف کیا ہے کہ 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران فیس بک نے ڈونلڈ ٹرمپ کو جیتنے میں مدد دی اور اب 2020 میں بھی یہی امکانات موجود ہیں۔

فیس بک کے مصنوعی ذہانت کے شعبے کے ڈائریکٹر اینڈریو بوس ورتھ نے پہلی بار کھل کر یہ اعتراف کیا ہے کہ فیس بک نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں مدد کی اور اب دوبارہ بھی اس کے واضح امکانات موجود ہیں۔

امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق فیس بک کے مصنوعی ذہانت کے سربراہ اینڈریو بوس ورتھ نے کمپنی کے ملازمین کو لکھے گئے ایک 'اندورنی' خط میں اس بات کا اعتراف کیا کہ فیس بک اشتہارات کی پالیسی دوبارہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانے میں مدد دے سکتی ہے۔

اینڈریو بوس ورتھ نے مذکورہ خط فیس بک ملازمین کے ذاتی فیس بک صفحے پر شائع کیا جس میں انہوں نے پہلی بار فیس بک پر امریکی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے الزامات، روس کی مداخلت اور متنازع اشتہارات کے حوالے سے کھل کر بات کی اور کہا کہ اس حوالے سے فیس بک پر غلط معلومات پر مبنی الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔

اینڈریو بوس ورتھ نے دعویٰ کیا کہ کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سمیت امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت کے معاملے پر فیس بک پر لگائے جانے والے الزامات غلط معلومات پر مبنی تھے۔

تاہم ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ الزامات اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت ہے کہ فیس بک نے ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانے میں مدد فراہم کی اور اب بھی اس کے واضح امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے اس کی وضاحت بھی کی کہ فیس بک نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد اپنے اشتہارات کے ذریعے کی اور مذکورہ اشتہارات خود ڈونلڈ ٹرمپ نے ہی ویب سائٹ کو دیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ فیس بک کے اشتہارات کا نطام دیگر آن لائن ویب سائٹس کے مقابلے میں منفرد انداز میں کام کرتا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اشتہارات ایک ہی طرح کے تھے جو ان کے لیے مدد گارثابت ہوئے۔

اپنے خط میں اینڈریو بوس ورتھ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اشتہارات کس طرح کے تھے اور انہوں نے اس کی مدد کیسے کی تاہم ان کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اشتہارات نے امریکی ووٹرز کی ذہن سازی کی اور ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوئے۔

انہوں نے اپنے طویل خط میں اس بات کا بھی انتباہ دیا کہ رواں برس ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں بھی فیس بک ڈونلڈ ٹرمپ کو دوبارہ جتوانے میں مدد دے سکتا ہے۔

فیس بک ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مذکورہ خط کے متن کے سامنے آنے پر تاحال فیس بک نے کوئی رد عمل نہیں دیا اور نہ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر کوئی جواب دیا ہے۔

مذکورہ خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ امریکا میں صدارتی انتخابات کے لیے سیاسی ماحول تیز ہوتا جا رہا ہے۔

امریکا میں صدارتی انتخابات نومبر 2020 کے آغاز میں ہوں گے اور صدارتی امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے۔

اس مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مدت کے لیے انتخابی میدان میں اتریں گے وہ پہلی بار 2016 کے انتخابات میں صدر منتخب ہوئے تھے۔

اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے تاہم کئی تجزیے اور سروے اس بات کی جانب عندیہ دیتے ہیں کہ ان کے دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے کے امکانات بحرحال موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں