Daily Mashriq

یوٹیلٹی سٹورز میں رعایت اور ادویات کی قیمتوں میں کمی

یوٹیلٹی سٹورز میں رعایت اور ادویات کی قیمتوں میں کمی

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی جانب سے 7ارب روپے کی لاگت سے وزیراعظم ریلیف پیکیج کا آغاز اگرچہ ایک احسن قدم ہے لیکن اس طرح کے اقدامات سے عوام کو ریلیف اور مہنگائی میں خاطر خواہ کمی نہیں لائی جاسکتی۔ بہرحال یہ جزوی طور پر ایک ایسا اقدام ضرور ہے جس سے عوام کی ایک خاص تعداد مستفید ہوسکے گی۔ البتہ یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق ہی ہوگا۔ اعلان کے مطابق ملک بھر کے 4ہزار سے زائد سٹوروں پر آٹا، چینی، گھی، تیل، چاول اور دالوں پر رعایت ملے گی، ہر ماہ صارفین کو 1ار ب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ وزیراعظم کا عہد ہے کہ جوں جوں مالی پوزیشن مستحکم ہوتی جائے گی اس کے ثمرات اور ریلیف عوام تک پہنچائے جائیں گے۔ پیکیج کے تحت یوٹیلٹی اسٹور سے اشیاء خریدنے والوں کا شناختی کارڈ نمبر درج کیا جائے گا جبکہ ایک ماہ میں ماہانہ راشن ایک ہی مرتبہ حاصل کیا جاسکے گا۔ دوسری طرف وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ادویات نرخوں میں 15فیصد کمی کا فوری طور پر اطلاق کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ ٹویٹر پر اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ ابھی 89ادویات کو فوری رعایتی نرخوں پر فروخت کرنے کی ہدایت کی۔ اس پیکیج کے غلط استعمال کے تدارک کیلئے شناختی کارڈ نمبر لکھنے اور مہینے میں ایک بار ہی اس سہولت کا فائدہ اُٹھانے کی حد مقرر کردی گئی ہے جس کا مقصد اس کے غلط استعمال کی روک تھام ہے۔ حکومت اس سلسلے میں یہی ممکنہ قد اُٹھا سکتی تھی البتہ اس کے باوجود اس کے غلط استعمال کی روک تھام کی اسلئے توقع نہیں کہ شناختی کارڈ لے کر قطار میں کھڑا ہونے والوں کی کمی نہیں جبکہ دوسری جانب کم آمدنی والے لوگوں کی مہینے بھر کا سودا اکٹھا خریدنے کی استطاعت نہیں، خاص طور پر روزانہ کا دیہاڑی دار طبقہ اس سے تو محروم ہی ہوگا، اگر دیکھا جائے تو اس پیکیج کی سب سے زیادہ ضرورت بھی اسی طبقے کو ہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ رعایتی نرخوں پر اشیاء کی فراہمی کے اس نظام میں ایسی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ اس کے مثبت اثرات معاشرے کے سب سے کم آمدنی والے لوگوں تک پہنچ سکیں۔ حکومت جس طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے محروم افراد کو مالی امداد فراہم کر رہی ہے اسی طرح کم آمدنی والے طبقے کیلئے راشن کارڈ یا اس قسم کے دیگر شناختی دستاویز کے ذریعے یوٹیلٹی سٹورز سے رعایتی اشیاء کی خریداری کی سہولت فراہم کرے تاکہ 7ارب روپے کی سبسڈی کی رقم اس کے اصل حقداروں کو پہنچ سکے۔ جہاں تک ادویات کے نرخوں میں پندرہ فیصد کمی اور اس کے فوری اطلاق کا سوال ہے اس اقدام کی تحسین کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ اس پر عملی طور پر پابندی کروانے کی قوت نافذہ شاید حکومت کے پاس نہیں۔ وزیراعظم نے قبل ازیں بھی اس قسم کے اقدامات کی ہدایت کی تھی جس پر عملدرآمد نہ ہوسکا، اسی بناء پر اس امر کا اظہار خلاف حقیقت نہ ہوگا کہ حکومت کا یہ اعلان محض اعلان ہی کی حد تک رہے گا اور اس پر عملدرآمد کی نوبت نہیں آئے گی۔ حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ اپنے تئیں کیا ہے اس کی بجائے حکومت اگر فارما سوٹیکلز کے نمائندوں سے مذاکرات کرتی اور ادویات کی قیمتوں میں کمی لانے پر اتفاق کیا جاتا تو یہ قابل عمل ہوتا۔ حکومت کی جانب سے یوٹیلٹی سٹورز پر سبسڈی اور ادویات کی قیمتوں میں پندرہ فیصد کمی اگرچہ مہنگائی کی روک تھام اور مارکیٹ کو عملی اقدامات کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کامیاب کوشش نہیں لیکن یہ خوش آئند امر ضرور ہے کہ حکومت کو مہنگائی اور ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کا احساس ہے اور وہ اس صورتحال کو سمجھنے اور اصلاح احوال کی سعی پر توجہ دے رہی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ یوٹیلٹی سٹورز میں رعایت کی سہولت کا صاحب استطاعت لوگ فائدہ نہیں اُٹھا سکیں گے اور ادویات کی قیمتوں میں پندرہ فیصد کمی لانے کے حکمنامے پر حکومت ہر قیمت پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔

متعلقہ خبریں