Daily Mashriq

مفاد عامہ' ایسی تعجیل کیوں نہیں؟

مفاد عامہ' ایسی تعجیل کیوں نہیں؟

قومی اسمبلی میں پاک آرمی، بحریہ اور فضائیہ کے ایکٹس میں ترمیم کے بلز کوصرف 12منٹ میں کثرت رائے سے منظورکرلینا اور بظاہر سخت تحفظات اور اختلاف رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا اچانک شیر و شکر ہوجانے کی وجہ ہر کسی کو معلوم ہے، کیا ہی اچھا اور خوشگوار امر ہوگا کہ سیاستدان عوامی مسائل کے حل اور عوامی مفاد کی قانون سازی کیلئے بھی اسی قسم کی تعجیل کا مظاہرہ کریں۔ یہ کس قدر مضحکہ خیز امر ہے کہ پارلیمان نے آرمی چیف اور دیگر سروسز چیفس کی مدت ملازمت، توسیع اور ریٹائرمنٹ سے متعلق تین بل تومحض تین دن میں ہی منظور کرلئے، سپیکر نے سترہ نکاتی ایجنڈا بھی معطل کرتے ہوئے ایجنڈے میں تیسرے نمبر پر موجود معاملے پر کارروائی کا آغاز کروا دیا۔ ایک جانب تعجیل کا یہ عالم دوسری جانب اسی پارلیمنٹ میں 84 دیگر بل منظوری کے منتظر ہیں۔اسی پارلیمان کی کارکردگی یہ رہی ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ نے 17 ماہ میں حکومت کی جانب سے 38 بل پیش کیے ہیں جن میں سے صرف 17 پاس ہوئے اور دو فنانس بلوں سمیت محض 8 ہی ایکٹ آف پارلیمنٹ بن سکے یعنی ان میں سے چھ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا۔ارکان کی جانب سے 63 نجی بل قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے جن میں سے ایک بھی پاس نہ ہوسکا۔ ان میں سے متعدد کا تعلق عام شہریوں کی زندگیوں سے ہے جن کی منظوری کی صورت میں ان کو روز مرہ کے معاملات میں خاصی سہولت ہو تی۔ طویل عرصے سے زیر التوا بلوں میں سر فہرست 'زینب الرٹ' بل ہے جو قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی زینب کے نام پر بچوں کے تحفظ کیلئے اپریل 2019 میں پیش کیا گیا تھا۔ اس وقت پارلیمان نے اس بل کو اہم قرار دیا تھا لیکن یہ اب بھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں زیر بحث ہے اور اس کی منظوری کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا۔اسی طرح جائیداد میں خواتین کے حصہ کے تحفظ اور اس حوالے سے کسی بھی تنازعے کے تیز ترین حل، وفاقی دارالحکومت کی خواتین کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دینے کیلئے خواتین کی مخصوص نشست کے حوالے سے آئینی ترمیم اور'وسل بلور ایکٹ' جس کے تحت کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو پکڑی گئی رقم میں سے حصہ دینے کی تجویز ہے، بھی ابھی تک پارلیمنٹ سے منظوری کے منتظر ہیں۔اس حوالے سے اپوزیشن اور حکومت دونوں ایک دوسرے کو بلوں کی منظوری میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں لیکن مسلح افواج کے حوالے سے پیش ہونے والی ترامیم کیلئے حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں تعاون مثالی نظر آیا۔المیہ یہ ہے کہ تمام تر دعوئوں کے باجودایکٹ آف پارلیمنٹ بننے والے بلوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جو منی لانڈرنگ، لوٹی ہوئی رقوم کی واپسی، حکومتی اصلاحاتی پالیسی اور حکومتی معاشی ایجنڈے کی تکمیل سے متعلق ہو۔ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمان کی توقیر کیلئے جو آوازیں پارلیمان کے اندر اور باہر اُٹھتی ہیں وہ اب خودبخود بے توقیر اسلئے ہوگئی ہیں کہ جس پارلیمان میں خواص کیلئے قانون سازی بلاروک ٹوک اور کثرت رائے سے ہو اور عوام کیلئے قانون سازی اختلافات کی نذر ہو اور بلا ضرورت تاخیر درتاخیر ایوان کی روایت بنا دی جائے اس پارلیمان اور حکومت سے عوام کیا توقع رکھیں۔

بی آر ٹی پر اعتراضات اور حکومت کا کمزور مؤقف

حزب اختلاف کی جماعتوں کابی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن تشکیل دینے یا معاملہ کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بھیجنے کے مطالبے سے اتفاق کی بجائے حکومت کا شفافیت کا یکطرفہ فیصلہ قابل قبول نہیں۔ اپوزیشن لیڈر کے اس مؤقف میں وزن ہے کہ ایک طرف حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ کرپشن کیخلاف جہاد کر رہی ہے اور دوسری جانب جب اپوزیشن محکموں میں کرپشن کی نشاندہی اور ان کی تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے تو حکومت فرار کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ وزیرقانون نے بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن بنانے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ وعدہ ایفا نہ کر سکے، اگر منصوبے میں کرپشن نہیں ہوئی تو حکومت کو کس بات کا خوف ہے۔ بی آر ٹی کی تحقیقات کیلئے یا تو پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے اور یا پھر اس معاملہ کو پبلک اکائونٹس کمیٹی میں بھیج دیا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ بی آر ٹی پر جو الزامات سامنے آرہے ہیں اس سے حکومت کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، حکومت تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالنے کی بجائے اس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کاخیر مقدم کرے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے۔ حکومت کا کنی کترانے کا ردعمل اپنی جگہ مزید شکوک کا باعث بن رہاہے۔ بی آر ٹی کے تھیلے سے بالآخر بلی نے باہر آنا ہے جتنا جلد آجائے اتنا اچھا ہوگا۔

قابل تشویش و سنگین واقعہ

متھرا پولیس سٹیشن کی حدود میں دو بچوں پر ایک بچے کو بلیڈ مار کر قتل کا الزام جہاں سنگین ترین اور تشویشناک واقعہ ہے وہاں ایف آئی آر کے اندراج میں پولیس مقتول کے والد کے مؤقف کے برعکس چھری کی بجائے بلیڈ کا استعمال درج کرکے مقدمے کو کمزور بنا رہی ہے۔ علاوہ ازیں پولیس کا تفتیش سے قبل ہی ایک بچے کو بے گناہ قرار دینے کا کوئی حق نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ایسا سنگین واقعہ ہے جو معاشرے میں مجرمانہ ذہنیت کو بچوں کی سطح تک سرایت کر جانے کا اظہار کر رہا ہے۔ قانونی طور پر بچوں کو کیا سزا ہوتی ہے وہ اہم نہیں اہم بات پولیس کی جانب سے کیس کو خراب کرنے کی کوشش ہے جبکہ اس سے بھی تشویشناک امر معاشرے میں بچوں میں مجرمانہ افعال کی طرف رجحان ہے جس کی ممکنہ وجہ خونخوار قسم کے ویڈیو گیمز میں دلچسپی ہوسکتی ہے۔ اس واقعے کو صرف قانونی طور پر ہی نہیں لینا چاہئے بلکہ اس کے اسباب اور رجحانات کا بھی نفسیاتی اور معاشرتی طور پر معائنہ کے بعد بچوں کو تشدد اور خونریزی پر آمادہ کرنے والے حالات اور اسباب کے تدارک پر توجہ کی بھی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں