Daily Mashriq

جنرل سلیمانی کا قتل۔۔ ا ب کیا ہوگا؟

جنرل سلیمانی کا قتل۔۔ ا ب کیا ہوگا؟

صدرٹرمپ کے حالیہ اقدام نے دنیا کو اکیسویں صدی کے بہت بڑے بحران کے قریب تر کر دیا ہے۔ ایران کے میجر جرنل قاسم سلیمانی کے قتل نے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں انتشار کے بیج بوئے ہیں بلکہ اس نے ایک ایسی چنگاری سلگا دی ہے جس سے سبھی کچھ خاکستر ہونے کا خدشہ ہے۔جنرل سلیمانی اور ان کے انقلابی ساتھیوں کو جس فوجی کارروائی میں مارا گیا، اس نے عالمی قوانین، امریکہ کے جنگی جنون، جمہوری نظام کی افادیت اور مہذب قومیں کہلانے والے ممالک کے عالمی امن وسلامتی کے حوالے سے خیال کی بابت کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ دنیا کی تنہا سپرپاور کا کسی ملک کی خودمختاری پامال کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے اپنی تخلیق سے لیکر اب تک دنیا کے مختلف حصوں میں 223مرتبہ عسکری مداخلت کی جا چکی ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں یہ اپنے ڈرون حملوں کے ذریعے کئی افراد کو قتل کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا۔امریکی طاقت کا زعم مغربی ثقافت میں اس قدر جڑیں پکڑ چکا ہے کہ کوئی بھی دوسرا ملک اس کے غیرقانونی اقدام پر کوئی سوال نہیں اُٹھاتا۔ ابھی ایرانی جنرل کے قتل کے بعد لندن کی جانب سے تہران کو ہی تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ اگر اسی طرح ایران کی جانب سے برطانیہ کے جرنیل پر حملہ کیا جاتا تو اس کا کیا ردعمل ہوتا یا اگر یہی کارروائی فرانس میں شمالی کوریا یا جرمنی میں بھٹان کرتا تو ان ممالک کا اپنے کسی جرنیل کے قتل پر کیسا ردعمل آسکتا تھا؟ یقینی طور پر ایسی صورت میں حملہ کرنے والے تینوں ملک اب تک صفحہ ہستی سے ہی مٹائے جاچکے ہوتے۔ یہ تینوں ممالک اپنے پر حملہ آور ہونے والے ممالک کو ایسی عبرت کا نشان بناتے کہ دنیا دیکھتی رہ جاتی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ حالیہ واقعے کے بعد ٹرمپ کی جانب سے ایران کے کچھ تاریخی اور ثقافتی جگہوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسے اقدامات جنگی جرائم میں شمار ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود کسی مغربی ملک کی جانب سے اس کی مذمت میں ایک لفظ بھی سامنے نہیں آیا۔ امریکی زیادتیوں پر ایسے خاموش رہنا بربادی کی طرف پیش قدمی کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ مغربی ریاستیں کمزور ممالک سے ایک طرح اور طاقتور ممالک سے دوسری طرح کے ردعمل کی توقع رکھتی ہیں مگر اس سب میں وہ یہ بات بھول جاتی ہیں کہ اگر کمزور کے پاس کھونے کو کچھ نہ ہو تو وہ طاقتور کو اس قدر نقصان پہنچا سکتا ہے جس کی اُمید نہیں ہوتی۔

ایران کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ دینے والے مغربی ممالک کو فی الفور اتنی جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ وہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کریں اور اس میں واشنگٹن کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر شدید مذمت کریں۔ انہیں اس سپرپاور کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے نکیل ڈالنا ہوگی تاکہ وہ آئندہ کسی ملک کیخلاف کسی ایسی کارروائی سے باز رہے مگر شاید وہ ایسی جرأت اور کردار کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں کہ ان کے سامنے دنیا کی طاقتور ترین ریاست کھڑی ہے۔ ٹرمپ نے اس کارروائی کیلئے وہ وقت چنا جب اسے خود شدید سیاسی مشکلات کا سامنا تھا۔ امریکی عوام اسے اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال پر مواخذے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ کیسی مضحکہ خیز بات ہے کہ اگر ایک صدر اپنے ملک کے چند افراد کو اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال سے کوئی نقصان پہنچائے تو اس کا مواخذہ کیا جاتا ہے جبکہ اگر وہی صدر کسی ملک پر بمباری کر کے اسے پتھر کے دور میں پہنچانے کی کوشش کرے تو اس کی تعریف اور حمایت کی جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکی جمہوریت دنیا کیلئے ایک عذاب بن چکی ہے۔ اسی طرح کی سیاسی صورتحال کا سامنا جب امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کو تھا تو انہوں نے مونیکا لونسکی سے اپنے سکینڈل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی خاطر دنیا کے غریب ترین ممالک، سوڈان اور افغانستان پر مزائل حملہ کر دیا تھا جس سے دونوں ممالک کے جانی اور مالی نقصان کے علاوہ یہاں چار دہائیوں تک تباہی کا سلسلہ نہ رک سکا تھا۔ اب ٹرمپ دنیا کی توجہ خود سے ہٹانے کیلئے ہتھکنڈے اپنا رہا ہے اس کی اصل قیمت بھی دنیا میں موجود قدر کمزور ممالک اور خطوں کو ادا کرنا ہوگی۔ قانون اور قواعد کی بالادستی کی دعویدار مغربی طاقتوں کیلئے یہ ایک آزمائش ہے کہ وہ اپنے ایک ساتھی ملک کی طاقت کے زعم میں کی جانیوالی زیادتی پرکیا ردعمل دیتے ہیں۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ امریکہ کی طاقت کے زعم اور اس کے جرائم کیخلاف کھڑے ہونے کی جرأت رکھتے ہیں کہ یہ نہ صرف ان ممالک کے اپنے اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اس ایٹمی معاہدے کی بھی دھجیاں اُڑانے کے مترادف ہے جس کو مغرب نے طویل مباحثوں کے بعد ترتیب دیا تھا۔ امریکہ کے ایسے اقدام نہ صرف ایران اور دیگر ترقی پذیر ریاستوں کے نقصان کا سبب بنیں گے بلکہ اس سے مغربی ممالک کے مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا جن کی توانائی کی ضروریات کا زیادہ تر دارومدار روس کی گیس اور مشرق وسطیٰ کے وسائل پر ہوتاہے۔

دوسری جانب امریکہ کے خود کو حالت جنگ میں دھکیلنے کی صورت میں یورپی ممالک کے پاس اس کی حمایت کے سوا کوئی راستہ نہ بچے گا اور ایسے میں انہیں ماسکو سے وابستہ تمام توانائی منصوبوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ اس سے روس کو شدید معاشی نقصان کا سامنا ہوگا جو پہلے ہی امریکہ کی جانب سے لگائی گئی اقتصادی پابندیاں جھیل رہا ہے۔

حالیہ تناظر میں ضروری ہے کہ چین، روس اور یورپی یونین امریکہ کو روکنے کیلئے کوششیں کریں جو جدید دنیا کے تمام تر قواعد کو روندنے کے درپے ہے۔ ان ممالک کی جانب سے اپنا یہ فرض ادا نہ کیا گیا تو یہ دنیا کو ایک شدید بحران اور تباہی کی جانب دھکیلنے کا سبب بنے گا۔ تہران کیلئے واحد راستہ تحمل سے کام لیکر آگے بڑھنا ہے کہ اس کی جانب سے کسی بھی قسم کی اکساہٹ لندن، واشنگٹن اور تل ابیب میں بیٹھے جنگی جنونیوں کے غضب کو دعوت دینے کا سبب بنے گی۔

(بشکریہ دی نیوز۔ ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں