Daily Mashriq

ایرانی قوم کا ہیرو

ایرانی قوم کا ہیرو

14ستمبر2019 کو سعودی عرب کی دو بڑی آئل فیلڈز پر ڈرون حملے کئے گئے، جن میں آرامکو کمپنی کے بڑے آئل پروسیسنگ پلانٹ عبقیق اور مغربی آئل فیلڈ خریص شامل تھے۔ ان حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں سخت کشیدگی پائی جارہی تھی اور ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا تھا جبکہ امریکا نے براہ راست ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا تھا تاہم ایران نے مسلسل ان الزامات کی تردید کی ہے، اب جبکہ گزشتہ دنوں امریکہ نے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کو ایک ڈرون حملے میں موت کی نیند سلا دیا ہے تو عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا کہنا ہے کہ میں نے گزشتہ سال اپریل اور ستمبر میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جہاں سعودی شاہ سلمان سے بھی ملاقات کی تھی، عراقی وزیراعظم نے کہا کہ میجر جنرل قاسم سلیمانی قتل کئے جانے والے روز ایران کا سعودی عرب کیلئے پیغام لیکر بغداد پہنچے تھے، اس میں بغداد کے ذریعے ایران کو بھیجے گئے سعودی پیغام کا جواب تھا۔ عادل عبدالمہدی نے بتایا کہ سعودی پیغام میں خطے اور دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کی کمی کیلئے تجاویز تھیں اور اسی سلسلے میں جنرل سلیمانی سے حملے والے روز ملاقات طے تھی تاکہ وہ سعودی پیغام پر ایران کا تحریری جواب پیش کریں لیکن خطے میں امن کی کوشش کرنیوالے ایرانی ہیرو اور جنرل کی کوششیں امریکہ کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھ رہی تھیں کیونکہ کچھ قوتیں کبھی بھی نہیں چاہیں گی کہ مسلم اُمہ ایک پیج پر جمع ہو جائے، جس طرح عینی شاہد کو مافیا اسلئے جان سے مار دیتا ہے کہ کہیں وہ ان کا راز افشا نہ کر دے، اسی طرح امریکہ نے صلح صفائی کی کوشش کرنے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو مار دیا تاکہ مسلم ممالک اپنے گلے شکوے ختم کرکے ایک پلیٹ فارم پرجمع نہ ہو سکیں۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پوری مسلم اُمہ کیلئے ایک عظیم چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتوں نے یہ تمام تر تلخیاں مسلمانوں ہی کیلئے بالخصوص وضع کی ہیںکہ آج مسلمان سیاسی' اقتصادی' علمی الغرض تمام شعبوں میں انتہائی مجبور حد تک ناکام ہیں، متعددمسلم ممالک استعماری قوتوں کے مقروض ہیں، یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ اس راہ میں اخلاقی قدریں بھی مانع نہیں رہیں، خفیہ عالمی طاقتوں نے ایک طویل عرصے سے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ مسلمان جنگی جنون میں مبتلا ہیں، یہ وہ منفی پروپیگنڈہ ہے جو آج بھی جاری ہے جبکہ دوسری طرف اس وقت پوری اسلامی دنیا شدید ترین سیاسی بحران کا شکار ہے۔ اسلامی ممالک میں اتحاد و یگانگت کا فقدان ہے۔ فلسطین' کشمیر' چیچنیا' عراق' کوسوو وغیرہ میں مسلمانوں کو بدترین مظالم کا سامنا ہے' تمام اسلامی ممالک اس صورتحال کو ملاحظہ کرنے کے باوجود بے بس ہیں' اسلئے کہ جرأت ایمانی و قوت روحانی سے محروم ہیں۔ اس سیاسی بحران سے نکلنے کیلئے ناگزیر ہے کہ تمام اسلامی ممالک ایوانِ کفر میں سرنگوں ہونے کی بجائے آپس میں اتحاد ومحبت کی فضا پیدا کریں۔اس وقت ملٹی نیشنل کمپنیوں نے دنیا کو بالعموم اور اسلامی دنیا کو بالخصوص اقتصادی طور پر اپنا یرغمال بنا رکھا ہے۔ آج کی مادی دنیا نے انسان کی مادی خواہشوں کو بے لگام کر دیا ہے کہ ہر شخص اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہو گیا ہے۔ سلسلہ مال ودولت کا ارتکاز محض ایک مخصوص طبقے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے' جس نے معاشرے میں بے چینی و اضطراب کو جنم دیا اور یہی بے چینی و اضطراب ہے جس کی کوکھ سے جرائم جنم لیتے ہیں' گویا اقتصادی بحران کا دائرہ اثر ونفوذ پورے معاشرے کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے۔ اسلامی دنیا میں ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے یہ اقتصادی بحران بڑے غیرمحسوس طریقے سے اثرانداز ہوا حتیٰ کہ حکومتیں بھی ان کے سامنے بے بس ہو گئیں۔ انگریزوں نے برصغیر پاک وہند کو اقتصادیات ہی کی راہ سے اپنا یرغمال بنایا تھا اور آج پھر اسلامی دنیا اسی راہ سے مغلوب ہو رہی ہے۔ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اسرائیل کے تحفظات کیلئے وقف کر دیتی ہیں' گویا مسلمان ان کمپنیوں کی مصنوعات خرید کر خود اپنی تباہی وہلاکت کا سامان تیار کر رہے ہیں۔ اقتصادی طور پر اس بحران سے نکلنے کیلئے ناگزیر ہے کہ اسلامی حکومتیں ملک کے اندر ہونیوالی صنعتی ترقی کی حوصلہ افزائی کریں۔ کوالالمپوراس سلسلے کی اہم پیش رفت ہے جس میں پاکستان سمیت تمام مسلم دنیا کو بھرپور حصہ ڈالنا چاہئے اگرچہ پاکستان نے کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرکے اہم موقع گنوا دیا تھا لیکن اس اہم مقصدکا حصہ بن کراس غلطی کو سدھارا بھی جا سکتا ہے۔

آج ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی موت پر ایران، عراق اور چند ایک دیگر ممالک سوگوار ہیں حالانکہ امریکہ کی جانب سے ایرانی جنرل کو نشانہ بنائے جانے پر جس قدرردعمل پوری مسلم دنیا سے آنا چاہئے تھا وہ ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا ہے،المیہ تو یہ ہے کہ اغیار نے ہمارے درمیان اس قدر نفرت کے بیج بو دیئے ہیں کہ ایک مسلم ملک کا دکھ درد ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مسلم ممالک ایک دوسرے کی تکلیف پر خوش ہوتے ہیں، یاد رکھیں جب کوئی قوم گروہوں میں اس طرح بٹ جائے کہ اسے اپنوں کی تکلیف کی خبر تک نہ ہو اور وہ اپنوں کی تکلیف کا مداوا نہ کر سکے تو اس قوم کی طاقت ختم ہو جاتی ہے ،ایسی صورت میں اپنے بچ جانے کی خوشی نہیں منانی چاہئے بلکہ اپنی باری کا انتظار کرنا چاہئے ۔

متعلقہ خبریں