Daily Mashriq

کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا

ریڈیو پاکستان وہ بدقسمت ادارہ ہے جس کے ملازمین خواہ وہ حاضر سرورس ہوں یا ریٹائرڈ کسی نہ کسی طور ہر حکومت کے نشانے پر رہتے ہیں' اس کی ابتداء ضیاء الحق کے دور سے ہوئی جب پی ٹی وی کے اندر اس دور میں احتجاج کی بنیاد رکھتے ہوئے چند سرپھروں نے ٹیلی ویژن سٹیشنوں کا کنٹرول سنبھال لیا تو اسے ناکام بناتے ہوئے درجنوں ملازمین کو پیپلز پارٹی کیساتھ تعلق کی وجہ سے قید وبند کی سزائیں دی گئیں۔ کئی ملازمین نے ضیاء حکومت کی جانب سے تادیبی کارروائیوں کی وجہ سے بیرون ملک پناہ حاصل کی اور اس کے شاخسانے کے طور پر نہ صرف پی ٹی وی بلکہ ریڈیو پاکستان کیساتھ بھی سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھتے ہوئے ملازمین کی یونین پر پابندی لگا دی گئی۔ اور اگلا قدم یہ اُٹھایاگیا کہ اگلے سال تمام سرکاری محکموں کے ملازمین کیلئے پے اینڈ پنشن کمیٹی کے تحت تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کردیاگیا مگر ٹی وی اور ریڈیو کو محروم رکھا گیا۔ یوں ٹی وی ملازمین کی ناکردنیوں کی سزا ریڈیو والوں کو مفت میں بھگتنی پڑ گئی اور وہ افسر اور ملازم جو سرکاری اداروں کے ملازمین سے زیادہ تنخواہیں وصول کرتے تھے' کہیں پیچھے رہ گئے۔ بعد میں جب بینظیر کی حکومت آئی تو برخواست شدہ ٹی وی ملازمین کو پوری مراعات کیساتھ (بقایاجات سمیت) نہ صرف بحال کیاگیا بلکہ انہیں ترقیاں بھی دی گئیں جبکہ ریڈیو کے ملازمین کو تب بھی کئی مراعات سے محروم رکھا گیا۔ بہر حال بعد میں ایمپلائز یونین کی بحالی کے بعد تنخواہیں معمولی سی بڑھا دی گئیں البتہ ہائوس ریکویزیشن اور میڈیکل الائونس کے حصول میں دشواریاں آہستہ آہستہ ختم ہوئیں۔ دوسری جانب جو لوگ ریٹائرڈ ہوتے رہے حاضر سروس ملازمین کیساتھ ساتھ ان پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کے معاملات بھی کئی کئی ماہ تک لٹکانے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے پاکستانی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی صوابدید پر رکھے گئے اور جب تک بورڈ اجازت نہ دیتا پنشنرز کو ادائیگی نہ ہوتی۔ بعض اور اداروں میں بھی پنشنرز کیساتھ اسی طرح کے سلوک سے تنگ آکر پنشنرز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس پر فاضل عدالت نے 21فروری کو واضح احکامات جاری کئے کہ پنشنرز کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ان کے پنشن کی رقوم ان کے بنک اکائونٹس کے ذریعے ادا کی جائے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر یہ احکامات فنانس ڈویژن نے تمام وزارتوں اور متعلقہ ماتحت اداروں کو ارسال کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی بھی ادارے کی جانب سے ان احکامات سے روگردانی توہین عدالت کے زمرے میں شمار ہوگی جس کے بعد ریڈیو کے پنشنرز جو نہ صرف خود ہزاروں کی تعداد میں مختلف سٹیشنوں کے تحت ملک کے کئی شہروں میں موجود ہیں بلکہ ان کے اہل خاندان کو بھی ان کے زیرکفالت ہونے کے ناتے ان کی تعداد کئی ہزار بن جاتی ہے۔ ہر ماہ باقاعدگی کیساتھ اپنے اپنے متعلقہ بنکوں کے ذریعے پنشن کی رقم حاصل کرتے رہے تاہم اب ایک بار پھر ریڈیو پاکستان کے پنشن برانچ کی غفلت (میں سخت الفاظ لکھنے سے احتراز کر رہا ہوں) کی وجہ سے پنشنرز حبیب بنک سے پنشن حاصل کرنے میں تادم تحریر محروم ہیں اور معلوم کرنے پر بتایاگیا کہ دیگر بنکوں میں تو پنشن کی رقم پہنچ چکی ہے البتہ حبیب بنک کی برانچوں میں دس جنوری کو ادائیگی کی جائے گی جس کی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ بے چارے پنشنرز کی جو حالت اس صورتحال میں ہو رہی ہے اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ

زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں

کھلا نہیں کوئی درباب التجا کے سوا

پنشنرز اگر اس سلسلے میں فریاد کرتے ہیں تو ریڈیو پاکستان کی ڈائریکٹر جنرل ہی کے حضور اور اس ضمن میں گزشتہ روز پی بی سی ریٹائرڈ ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئر مین جناب سعید شیخ نے ڈائریکٹر جنرل کو ایک درخواست ارسال کرکے اس مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے احکامات اور فنانس ڈویژن کے نوٹیفیکیشن کا صراحت کیساتھ تذکرہ کیا ہے۔ اس درخواست کی کاپی مجھے میرے اُستاد محترم سید میثاق حسین نے امریکہ سے میرے واٹس ایپ پر بھیجی ہے' میں نے جناب سعید شیخ سے ان کے موبائل فون پر رابطہ کرکے معلومات حاصل کی ہیں۔ انہوں نے تسلی دلائی ہے کہ متعلقہ شعبے کی غفلت کی وجہ سے سارا نزلہ ڈائریکٹر جنرل پر گرنے کا خدشہ ہے اوراگر یہ مسئلہ دس جنوری تک حل نہ ہوا تو پھر عدالت عظمیٰ سے کوئی بھی ریٹائرڈ ملازم رجوع کرکے توہین عدالت کی درخواست دے سکتا ہے۔ اسلئے ریٹائرڈ ملازمین فی الحال (دس جنوری تک) قمر بدایونی کے الفاظ سے دل بہلائیں کہ

نامہ برتو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے

کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں

اسلئے اس سے پہلے کہ یہ معاملہ طول پکڑ جائے متعلقہ شعبے سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو واضح طور پر یہ ہدایات جاری کی جائیں کہ نہ صرف دس جنوری سے پہلے پہلے پنشن کی رقم ملازمین کے بنک اکائونٹس میںٹرانسفر کی جائے اور آئندہ ایسی کوتاہی سے پرہیز کیا جائے، بصورت دیگر پنشنرز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اس صورتحال کا سوموٹو ایکشن لینے کی التجا کریں گے تاکہ ان کیساتھ مستقبل میں ایسی زیادتی کا دوبارہ ارتکاب نہ کیا جاسکے۔ بقول میر تقی میر

حال بد گفتنی نہیں لیکن

تم نے پوچھا تو مہربانی کی

متعلقہ خبریں