Daily Mashriq

سورج ہوں چمکنے کا بھی حق چاہئے مجھ کو

سورج ہوں چمکنے کا بھی حق چاہئے مجھ کو

اگر ہم اپنی قومی زبان اُردو کو ایک بہت بڑے دائرے سے ظاہر کریں تو ہم پاکستان کی دیگر زبانوں کو اپنی قومی زبان کے اس بہت بڑے دائرے کے اندر موجود پائیں گے۔ ہم پاکستانی زبانوں کے 74دائروں کے نظریہ کی روشنی میں اپنی اس بات کو یوں بھی بیان کرسکتے ہیں کہ راقم سطور کی زندگی کی جڑیں پاکستانی زبانوں کے متعدد دائروں میں سے جس سرکل یا دائرے میں پائی جاتی ہیں اسے ہندکو زبان کا دائرہ کہتے ہیں۔ ہر نومولود کی طرح اس نے جب آغوش مادر میں آنکھ کھولی تو سب سے پہلے اس کے کانوں میں کسی مؤذن نے عربی زبان کی حلاوت گھولتے ہوئے اسے دھیمے لہجے میںبتا دیا کہ اللہ بہت بڑا ہے اور اس کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں۔ مؤذن نے اس کے کان میں جو کچھ کہا اس کو سمجھنے کیلئے پہلے پہل اسے وہی زبان سیکھنی پڑی جو اس کی ماں بول رہی تھی۔ اس نے اپنے ماں باپ، بہنوں بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں سے ہندکو زبان کے الفاظ جملے اور محاورے سننے سمجھنے اور ازبر کرنے شروع کئے۔ وہ اک کلی، شگوفہ یا کونپل بن کر پھوٹا تھا اپنی ماں کی آغوش میں۔ ابھی بڑا وقت چاہئے تھا نونہال کو تن آور درخت بننے کیلئے۔ اسے اپنے پلنے بڑھنے کے دوران اگر اپنی ماں کی مامتا بھری آواز میں ہندکو زبان کی لوریاں سننے کا موقع ملا تو نانی یا دادی کی زبانی ''ہک اہیا باچھا تیرا میرا خدا باچھا، خدا دا بھیجا رسول باچھا'' ایک تھا بادشاہ، تیرا میرا خدا بادشاہ، خدا کا بھیجا رسولۖ بادشاہ جیسے آفاقی سچ بھرے پیغامات والی جادو اثر ہندکو کی کہانیاں سننے کا بھی چسکا پڑا۔ اسے کلمہ طیبہ اور نماز عربی زبان میں سیکھنی پڑی لیکن اسے نمازکی نیت کرنا ہندکو زبان ہی میں سکھائی گئی۔ جب اسے ماں کی آغوش سے نکل کر اپنی گلی یا محلہ میں سنگی ساتھیوں کیساتھ کھیلنے کودنے کا موقع ملا تو اسے اپنی مادری زبان کے دائرے کے بچوں کے علاوہ اس دائرے کی ہمسائیگی کے لسانی دائرے کے بچوں کا بھی سنگ ساتھ نصیب ہوا اور یوں اس کی مادری زبان کی ہمسائیگی کے دائرے کے ہم عمر بچے اس کے آشنا ہونے لگے اور وہ اس زبان سے بھی واقفیت حاصل کرنے لگا جو زبان اس کے عم عمر بچے اپنے لسانی دائرے کے اندر رہ کر بولا کرتے تھے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالخلافہ پشاور اور اس کے گرد ونواح میں ہندکووان معاشرے اور پختون معاشرے کے دائرے اس قدر قریب اور آپس میں گڈمڈ ہیں کہ

من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جاں شدی

تاکس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری

کے مصداق ان دونوں دائروں کے لوگ الگ الگ معاشرتی اقدار رکھنے کے باوجود زندگی کے بہت سے معاملات پیار اور محبت کے لازوال جذبوں کے زیراثر مل جل کر طے کر رہے ہیں، یہ دونوں طبقے ایک دوسرے کی خوشیوں میں بھی شریک ہوتے ہیں اور باہمی دکھ اور غم بھی مل کر بانٹتے ہیں، تجارتی اور کاروباری لین دین بھی ملکر کرتے ہیں لیکن ان کی تہذیب وثقافت کی جڑیں اپنے اپنے دائرے میں پیوست ہیں اسلئے ایک ہوکر بھی یہ اپنی الگ الگ پہچان رکھتے ہیں، ہندکو بولنے والے اپنے آپ کو ہندکووان کہتے ہیں جبکہ پشتو تہذیب وتمدن کے پروردہ اپنے وجود کی پہچان پختانہ یا پشتو بولنے والوں کی حیثیت سے کرواتے ہیں، اگرچہ ہمارے صوبہ میں چھوٹی بڑی زبانوں اور ان کے بولنے والوں کے کم وبیش 28دائرے موجود ہیں لیکن پختانہ کے علاوہ ہندکووان کو اپنی قدریں اُجاگر کرتے رہنے کی کچھ زیادہ فکر ہے چنانچہ اس سلسلہ میں جہاں ہندکووانوں کی علمی، ادبی، سماجی اور ثقافتی تنظیموں کے علاوہ 'ہندکووان تحریک' جیسی سیاسی تنظیمیں بھی جنم لے رہی ہیں وہاں پریس اور میڈیا کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر ''ہندکووان میڈیا'' نامی تنظیم کا وجود میں آنا انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار ترقی کی دوڑ میں شریک ہونے کا قدرتی عمل ہے۔ ہم اپنے گزشتہ کالم کے آغاز میں آپ کو بتا چکے ہیں کہ ہندکو زبان کی ترویج کیلئے صحافیوں کی ٹیم بھی تشکیل پاچکی ہے۔ یہ ہندکو زبان وادب اور تہذیب وثقافت کے دائرے سے وابستہ افراد کیلئے ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن ہم ہندکووانوں کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اگر انہوں نے اسلامی اقدار کے مطابق حق ہمسائیگی ادا کرنا ہے تو انہیں صوبہ میں بولی جانے والی دو درجن سے زیادہ زبانوں کے تقدس کا بھی خیال رکھنا ہوگا، اور یہ بھی جاننا ہوگا کہ ہماری قومی زبان اُردو، ہندکو ہی کی ترقی یافتہ صورت ہے اور ہر پاکستانی زبان کا وارث اپنی قومی زبان اُردو کے دائرے کے اندر رہ کر ہی پاکستا نی ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے، انگریزی، پاکستان کی دفتری زبان ہی نہیں دنیا بھر میں کثرت سے بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے اسلئے کامیابی کے اور کامرانی کے زینے طے کرنے کیلئے ہمیں انگلش سیکھنے اور بولنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹنا اور جس طرح اس دنیا میں آتے وقت مؤذن نے ہمارے کان میں عربی زبان بول کر ہمیں اللہ جل شانہ کی عظمت اور بڑائی کا درس دیا تھا اسی طرح ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ روزآخرت منکر نکیر ہم سے عربی زبان ہی میں پوچھ گچھ کریں گے۔ ہندکووانوں کو اپنی زبان ادب ثقافت تہذیب اور تمدن کی حفاظت کے پیش نظر یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ

سورج ہوں چمکنے کا بھی حق چاہئے مجھ کو

میں کہر میں لپٹا ہوں شفق چاہئے مجھ کو

متعلقہ خبریں