Daily Mashriq


مسئلہ کشمیر کو موثر طور پر اٹھانے کے تقاضے

مسئلہ کشمیر کو موثر طور پر اٹھانے کے تقاضے

قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک مرتبہ پھر اس امر کا اعادہ کیا گیا ہے کہ خطے میں قیام امن کی کلید مسئلہ کشمیر کا حل ہے۔ وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاس میں بھارت سے متعلق معاملات کو دوست ممالک کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میںتحریک آزادی کشمیر ایک ایسی شمع ہے جسے کشمیری نوجوان گزشتہ 68برس سے اپنے خون سے روشن رکھے ہوئے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ساتھ وادی میں استصواب رائے کا وعدہ بھارت کے پہلے وزیراعظم آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو کر چکے ہیں بلکہ وہ یہ مقدمہ خود سلامتی کونسل میں لے کر گئے تھے اور وہاں بحث کے دوران کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ بندی کی بھیک مانگی تھی۔ سلامتی کونسل نے اپنی قراردادوں کے ذریعے کشمیریوں کے اس حق کو تسلیم کیا ہے او رپاکستان ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا چلا آرہا ہے کہ کشمیر میں حق رائے دہی کے ذریعے کشمیر کے باشندوں کو اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہئے ۔ تاہم بھارتی حکومت کشمیریوں کو طاقت کے بل پر غلام رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام کے مطالبے کی اصابت کا یہ عالم ہے کہ اقوام متحدہ کا چارٹر انکا مطالبہ حق خود ارادیت تسلیم کرتا ہے ۔ پاکستان کے مطالبے پر سلامتی کونسل قرارداد پاس کرچکی ہے جسے خود بھارتی وزیر اعظم تسلیم کرکے اس پر عمل درآمد کا وعدہ کرچکے ہیںمگر اس کے باوجود ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی رائے کا احترام تو کجا بھارتی فوج ان پر مسلسل مظالم ڈھا رہی ہے۔ آزادی کی جدوجہد اوردہشت گردی میں واضح فرق ہوتا ہے ۔بھارت جس طرح مقبوضہ کشمیر میں معصوم بچوں اور شہریوں کو ریاستی تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے اس کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی ۔ کوئی ملک دہشت گردی کی آڑ میں آزادی کی کوششوں کو نہیں کچل سکتا اور نہ ہی کوئی قانون دہشت گردی کے نام پر شہریوں پر فائرنگ کی اجازت دیتا ہے۔انسانی حقوق کی پامالی کی وہ اذیت ناک صورت حال جس میں مقبوضہ کشمیر کے عوام زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنے حق آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس صورت حال کے چالیس روز تک مشاہدے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو کشمیر کا مسئلہ اور دیگر مسائل باہمی مذاکرات کے ذریعے طے کرنے چاہئیں۔ چالیس روز تک کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا نوٹس لینا کشمیریوں کی مستقل مزاجی اور پاکستان کی سفارت کاری کا ثمر ہے۔یہ کامیابی ضرور ہے کہ اس بیان سے کشمیر کے تنازع پر اقوام متحدہ کی خاموشی کی صرف برف ٹوٹی ہے۔ لیکن یہ فتح نہیں ہے کہ اس کے بعد بھارت کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔ اس لیے اقوام عالم کو اس تنازع پر مزید متوجہ کرنے کی کوشش جاری رکھنا ضروری ہے۔ دوسری بڑی کامیابی اسلامی تنظیم کے سیکرٹری جنرل کا بیان ہے۔ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ انہوں نے تنازع کشمیر پر حق و انصاف پر مبنی پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل کے لیے عالمی برادری کو آواز اٹھانی چاہیے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سیاسی اور اخلاقی حمایت کا پاکستانی مؤقف تقاضا کرتا ہے کہ نہ صرف اقوام متحدہ اور اسلامی تنظیم کے اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بہیمیت کے خلاف اور ان کے حق آزادی کی حمایت حاصل کی جائے بلکہ فرداً فرداً دنیا کے تمام ممالک اور ان کی رائے عامہ کو تنازعہ کشمیر پر متوجہ کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے انسانی حقوق کی پامالی سے آگاہ کیا جائے۔ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پامالی سے آگاہ کیا جائے۔ عالمی دنیا اور اسلامی ممالک کی حکومتوں اور عوام کو کشمیریوں کے حق آزادی پر قائل رکھنا اور بھارت کی بدعہدی اور توسیع پسندی پر مطلع رکھنا پاکستان کی سفارت کاری کا اہم ستون ہونا چاہیے کہ یہی عالمی امن کی علمبرداری کا تقاضا ہے۔ پاکستان کو برادر اسلامی ملکوں اور اقوام عالم کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے آگاہ کرنے کے لئے خصوصی مہم چلانے کی اگرچہ ضرورت نہیں کیونکہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے مظالم اور پیلٹ گن سے معصوم نوجوانوں کے چہروں کو نشانہ بنانا اور ان کی بصارتوں کو چھین لینا کوئی راز کی بات نہیں لیکن بہر حال سفارتی تقاضوں کو پورا کرنے کے پیش نظر ایسا کرنا ضروری ہے عالمی برادری کو بھارتی مظالم کا بخوبی علم تو ہے مگر اس کے باوجود اُن کی جانب سے احراز برتنے پر اُن کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے سفارتی اور دیگر ذرائع سے ان سے رابطہ مجبوری ہے جسے احسن طریقے سے نبھایا جانا چاہیئے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ پاکستانی قیادت نے باہم مشاورت کے ساتھ جو لائحہ عمل طے کیا ہے اسے کامیاب بنانے کے لئے اسی جذبے کا مظاہرہ کیا جائے گا جس کی قوم ان سے توقع رکھتی ہے ۔

متعلقہ خبریں