عوامی احتساب ہی مئوثر احتساب ہوگا

عوامی احتساب ہی مئوثر احتساب ہوگا

وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے سیاسی میدان میں کسی بھی وقت مقابلے کے بیان سے انتخابات کے قبل از وقت ہونے کا گمان گزرتا ہے لیکن بہر حال اصل صورتحال پانامہ لیکس کے معاملات سے پیدا شدہ صورتحال کے عدالتی فیصلے کے بعد ہی سامنے آئے گی جس میں مزید کچھ ماہ گزرنے کا امکان ہے چونکہ معاملہ نہایت حساس نوعیت کا ہے اس لئے پہلے کی طرح عدالت عظمیٰ مختصر فیصلہ صادر کرنے کی بجائے تفصیلی فیصلے کے اجراء ہی کو موزوں جانے۔ بہر حال ان معاملات سے قطع نظر سیاسی جماعتوں کے لئے ویسے بھی موجودہ سال انتخابی تیاریوں کاسال ہے۔ اس موقع پر سندھ' بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکمران جماعتوں کو اپنی کارکردگی پر ایک نظر ضرور ڈال لینی چاہئے کہ ان کی انتخابات سے گزرنے کے لئے تیاریاں کتنی تسلی بخش ہیں۔ پنجاب کے چند شہروں کو چھوڑ کر وسیع صوبے میں حکومتی کارکردگی تینوں صوبوں سے مختلف نہیں۔ مگر بہر حال پنجاب کی حکومت کی کارکردگی کو ہر فورم پر نسبتاً بہتر تسلیم کیاجاتاہے۔ پانامہ کیس کا فیصلہ جو بھی آئے سیاسی جماعتوں اور موجودہ حکمرانوں کو عوامی احتساب سے گزرنا ہے۔ عوام صحیح معنوں میں محتسب کا کردار اسی وقت ہی ادا کرسکیں گے جب وہ تمام مصلحتوں سے بالا تر ہو کر اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو دعوے کا حق ضرور حاصل ہے مگر جسے پیا من بھائے وہی سہاگن کے مصداق عوام جس کسی کا انتخاب کرینگے خواہ وہ اچھے ہوں یا برے دیانت دار ہو ں یا نہ ہوں وہی عوامی نمائندے کہلائیں گے ۔توقع کی جانی چاہیئے کہ آئندہ انتخابات میں عوام ایسے افراد کا ترجیحی بنیادوں پر انتخاب کریں گے جن پر آئین کے آرٹیکل 62، 63لاگو نہ ہوتا ہو اور وہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے حامل ہوں اگر عوام نے حسب عادت وقتی اور جذباتی فیصلہ کرنے کی غلطی کی تو احتساب کا موقع ایک مرتبہ پھر پانچ سال کے لئے ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا جس کے بعد عوام کا اپنے مسائل کے حل کے لئے دوسروں کو ذمہ دار گرداننے کا عمل بے سود ہوگا اور نہ ہی عدالتیں یا کوئی دوسرا ادارہ ان کی کوئی مدد کر سکے گا ۔ عوام اس وقت ہی اپنے مسائل کے حل کی توقع وابستہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے جب وہ با شعور انداز میں فیصلہ کریں اور اپنی رائے کا اظہار کرنے میں ذمہ داری اور شعور کا بھر پور مظاہرہ کریں ۔

اداریہ