تھانیدار خاتون ہو یا مرد کارکردگی اچھی ہونی چاہئے

تھانیدار خاتون ہو یا مرد کارکردگی اچھی ہونی چاہئے


ایک جانب ہم معاشرے میں صنفی امتیاز کے خاتمے کے دعویدار ہیں اور دوسری جانب کہیں پر کسی خاتون کو عہدہ ملتاہے تو اسے کوئی نئی بات اور اہم معاملے سے تعبیر کی جاتی ہے جو بادی النظر میں صنفی امتیاز ہی کے زمرے میں آتاہے۔ خیبر پختونخوا کے روایتی معاشرے میں کسی خاتون کا پولیس سٹیشن کا سربراہ مقرر ہونا۔ بہر حال ایک نئی بات ضرور ہے لیکن دیکھا جائے تو صوبے میں خواتین اہم عہدوں پر تعینات ہیں اور رہ چکی ہیں۔ کسی عہدے پر کام کرنے کے لئے بنیادی اہلیت اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ضروری لوازمات خواہ مرد میں ہوں یا عورت میں صنفی امتیاز کے بغیر وہ اس عہدے کا اہل ہوتا ہے۔اس تناظر میں خاتون تھانیدار کی تقرری محکمانہ طور پر تو کوئی نئی بات نہیں لیکن معاشرتی طور پر اسے تبدیلی قرار دینے والوں کو اس کا حق ضرور حاصل ہے۔ رضوانہ حمید بھی دوسرے مرد و خواتین اہلکاروں کی طرح ایک ضابطے اور طریقہ کار کے تحت پولیس میں بھرتی ہوئی ہوں گی۔ ان کے پاس تربیت کے بعد تجربہ بھی ہوگا جس کی بناء پر ان کو اس عہدے کے لئے موزوں گردانا گیا اس عہدے پر وہ صنفی بنیادوں پر نہیں فورس میں مروجہ معیار کے مطابق ہی آئی ہیں۔ بہر حال ان کوامور سے قطع نظر اب ان اس عہدے پر تقرری کا نہ صرف فیصلہ درست ثابت کرنے کے لئے محنت کی ضرورت ہے بلکہ ان کو ایسی مثال قائم کرنی چاہئے کہ صوبے میں خواتین تھانیداروں کو کارکردگی کی بناء پر بہتر خیال کیا جانے لگے۔ ہمارے تئیں یہ زیادہ مشکل امر نہیں ا ن کو زیادہ سے زیادہ مشکل مرد عملے کے عدم تعاون اور سرد مہری کا شاید پیش آئے مگر بہر حال ان کے احکامات اور ہدایات پر عمل کرنا ہی ہوگا۔ ممکن ہے یہ مشکل بھی درپیش نہ ہو۔ ہمارے تئیں خاتون تھانیدار کو بھی تھانے میں اپنے مرد ہم منصبوں کی طرح ہی مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اب یہ ان کا امتحان ہوگا کہ وہ ان سے کس طرح نمٹتی ہیں۔ رضوانہ حمید اگر دیانتداری سے اپنے فرائض کی انجام دہی کریں رشوت و سفارش کی لعنت سے بچیں اور پوری تندہی کے ساتھ اپنے تھانے کی حدود میں نفاذ قانون کی سعی کریں اور ہر قسم کی مصلحت سے بالا تر ہو کر خدمات انجام دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنی تقرری کو درست ثابت نہ کرسکیں۔

اداریہ