افغانستان میں عدم استحکام… حقیقت اور بیانیہ

افغانستان میں عدم استحکام… حقیقت اور بیانیہ

وزیر اعظم نواز شریف کے زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں افغانستان سے کہا گیا ہے کہ افغان حکومت کو اپنے علاقے میں اپنی رٹ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح امریکہ اورافغانستان کی طرف سے یہ تنقید مستردکر دی گئی ہے کہ پاکستان جنگ زدہ افغانستان میں امن بحال کرنے کی کوششیں نہیں کر رہا۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران قومی سلامتی کمیٹی کا یہ تیسرا اجلاس ہے ۔ تینوں بار افغانستان کی صورت حال پر بحث ہوئی۔ قومی سیکورٹی کمیٹی کا یہ بیان اس وقت جاری کیا گیا ہے جب امریکہ میں افغانستان پالیسی پرنظرِثانی کی جا رہی ہے ۔ چند روز پہلے امریکی سینیٹ کے ارکان نے سینیٹر جان مک کین کی سربراہی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا ۔ اس دوران سینیٹر جان مکین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور کامیابیوں کو سراہا تھا اور کہا تھا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کا تعاون ناگزیر ہے۔ امریکی وفد پاکستان کے بعد افغانستان پہنچا اور صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد انہوں نے ایک بار پھر پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف اقدام کرنا چاہیے اور انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے اپنا رویہ نہ بدلا تو امریکہ بھی پاکستان کے بارے میں بطور ریاست اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوگا۔ امریکہ اورافغانستان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہیں ہیں۔ افغانستان کے حکمران بالتواتر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ پاکستان سے دہشت گرد آ کر افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس الزام اور اس کی تائید کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں امن وامان ہے۔ افغان حکومت کا سارے افغانستان پر کنٹرول ہے ۔ اور افغانستان کے مخالف حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہیں افغانستان میںنہیں پاکستان میں ہیں جہاں سے جا کر حقانی نیٹ ورک کے عناصر افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں۔ افغانستان کی زمینی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اس الزام کی قلعی کھل جاتی ہے۔ افغانستان کے چالیس فیصد علاقے پر افغان طالبان کا کنٹرول ہے ۔ یہ کنٹرول عارضی صورت حال نہیں ہے بلکہ ایک عرصہ سے افغان طالبان افغانستان کے چالیس فیصد حصے میں اپنی عدالتیں لگاتے ہیں اور اپنے طور طریقوں کے مطابق انتظام کرتے ہیں۔ افغانستان کی حکومت یہ تسلیم کر چکی ہے کہ پاکستان سے ملحقہ علاقے پر اس کا کنٹرول نہیں ہے ، اس لیے وہ تحریک طالبان پاکستان کے اپنے علاقے میں مقیم عناصر کو بے دخل کرنے یا ان کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں کرنے سے روکنے سے قاصر ہے۔ اب کچھ عرصہ سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ افغانستان میں داعش بھی سرایت کر چکی ہے اور بعض مبصرین کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کے پندرہ یا بیس فیصد علاقے پر داعش کاکنٹرول ہے۔ گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی پر سالہا سال تک اقوام متحدہ کی پابندیاں رہیں۔ حکمت یار امریکہ اور افغانستان کے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل رہے۔ اب ان کی اشرف غنی حکومت سے صلح ہو گئی ہے لیکن اس صلح سے قبل کے برسوں کے دوران حزب اسلامی کے عناصر اور قائدین افغانستان ہی میں رہے ان کے خلاف افغان حکومت نے کیا کارروائی کی اور حکمت یار اور ان کے ساتھیوں کو کیوں گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس کا جواب یہی ہے کہ افغانستان کے اس علاقے میں جہاں اشرف غنی کی حکومت کی عملداری کا دعویٰ کیا جاتا ہے افغان حکومت کی مؤثر رٹ نہیں ہے۔ اگر افغان حکمرانوں اور ان کے امریکی سرپرستوں کا یہ دعویٰ صحیح ہے کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور وہاں سے جا کر حقانی نیٹ ورک کے عناصر افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں تو جب وہ افغان علاقے میں داخل ہوتے ہیں اور کابل اور دیگر اہداف تک سفر کرتے ہیں اس دوران ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیںکی جاتی۔ جواب ایک ہی ہے کہ یا تو افغان حکومت کی رٹ مؤثر نہیں ہے یا افغان حکومت یہ الزام پاکستان پر برقرار رکھنا چاہتی ہے اور ''حملہ آوروں'' کے خلاف خود کارروائی نہیں کرتی۔ افغانستان میں عدم استحکام ایک طرف شدت پسند تنظیموں کے مقاصد کے لیے موزوں ہے دوسری طرف حکمران شمالی اتحاد کے ان وارلارڈز کے لیے بھی موزوں ہے جو منشیات اور معدنیات کی سمگلنگ کی سرپرستی کرتے ہیں۔ اور وہ پاکستان سے ڈو مور کے مطالبے کے پیچھے چھپے رہتے ہیں۔یہ سب باتیں نئی نہیں ہیں ، ایک سے زیادہ بار ان کا تذکرہ ہو چکا ہے اور ہوتا رہے گا۔ لیکن پاکستان میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے حقیقت بیان کر دی کہ ''پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کا کوئی وجود نہیں ہے اگر کوئی ایسے عناصر تھے تو آپریشن ضرب عضب میں ان کا خاتمہ ہو چکا ہے'' اب اس پر یقین کر لیا جائے گا اور افغان حکومت ان حقائق کی روشنی میں اپنے زیر نگیں علاقے میں اپنی رٹ مؤثر بنا لے گی۔ لیکن حالات کے بنظرِ غائر مطالعہ سے یہ سنگین حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ڈو مور کے مطالبے کے ذریعے افغانستان کے عدم استحکام کی اصلی وجوہ کو نظرانداز کیا جارہاہے ۔ بھارت کے افغان علاقے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی پردہ پوشی کی جارہی ہے اور افغانستان میں فوج کشی میں اضافہ کیا جارہا ہے اور افغانستان کے عدم استحکام کو بالادستی کے مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کے امکانات سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں تھوڑی سی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد بھی ان مضمرات سے واقف ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محض امریکہ یا افغانستان کو یہ یقین دہانی کرانے پر اکتفا کرنے کی بجائے کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کی ضرورت ہے۔ اس صورت حال سے بین الاقوامی رائے عامہ کو آگاہ کیا جائے۔ تاکہ بالادستوں کے افغانستان کو جنگ زدہ رکھنے کے ارادوں کے سامنے عالمی رائے عامہ حائل ہو۔ اور خطہ میں وہ سنگین صورت حال برپا نہ ہو جس کے بادل منڈلاتے نظر آ رہے ہیں۔

اداریہ