ہمارے کام تو آئی وفا کسی کی نہیں

ہمارے کام تو آئی وفا کسی کی نہیں

گزشتہ کالم سے تعلق نہ رکھتے ہوئے بھی آج کی تحریر کو اس سے کسی نہ کسی حد تک جڑا ہوا ضرور محسوس کریں گے ۔ تاہم اگر آپ آج کی تحریر کو گزشتہ کالم کا تسلسل سمجھنے پر مجبور ہو بھی جائیں تو کیا فرق پڑسکتا ہے ،چلئے یونہی سہی کیونکہ میں نے گزشتہ کالم میں گزارش کی تھی کہ ''وفاقی وزیر اطلاعات کے ان اقدامات کا انتظار کرنا چاہیئے جن کا اعلان سامنے آیا ہے '' اور کالم کے آخری سطور میں لکھا تھا کہ '' اس لئے دیکھتے ہیں کہ پی ٹی وی کے ان ذمہ داروں کے خلاف کیا اقدام کیا جاتا ہے جو اس توہین (پختونوں کے خلاف ایک شاعر کی ہرزہ سرائی ) کے براہ راست ذمہ دار ہیں '' اور جن خدشات کا بین السطور میں نے اظہار کیا تھا اس کی نشاندہی ہوگئی ہے ، جب گزشتہ روز فیس بک پر کسی صاحب نے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں پی ٹی وی اسلام آبا د کے جنرل منیجر کی جانب سے محولہ مزاحیہ (؟) مشاعرے کے پروڈیوسر کو ایک وضاحتی خط لکھ کر دے دیا گیا ہے (حالانکہ وزیر اطلاعات نے واضح کیا تھا کہ متعلقہ افراد کوچارج شیٹ کر دیا گیا ہے )۔ ۔۔لیجئے صاحب اتنی آسانی سے اس توہین آمیز رویئے سے جان چھڑانے کی کوشش کی جارہی ہے اور لگتا یہی ہے کہ متعلقہ پروڈیوسر کے خلاف رسمی سی کارروائی کرتے ہوئے بالآخر اسے '' سرزنش '' کر کے بات کو ٹال دیا جائے گا ۔ حالا نکہ یہ اتنی سادہ سی بات نہیں ہے ۔ ملک کی ایک نسل کی ، جس نے نہ صرف آزادی کی جنگ میں اہم کردار اد ا کیا ، قیام پاکستان کے بعد کشمیر کی آزادی کیلئے بھارتی افواج کا مقابلہ کر کے موجودہ آزاد کشمیر کو بھارتی چنگل سے چھڑا نے میں جانوں کا نذرانہ دیا ۔ اور پھر گزشتہ 35سال کے دوران دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہزاروں افراد کو قربان کر کے ملکی خود مختاری کی حفاظت کی یہاں تک کہ دہشت گردوں نے ہمارے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا ، مگر ان تمام قربانیوں کو بھول کر اٹک پار کا ایک بر خود غلط شاعر پوری پختون نسل کی توہین کرتا ہے ، اور وہ بھی سرکاری ٹی وی پر ۔ جبکہ پی ٹی وی پر کوئی بھی پروگرام نشر ہونے سے پہلے سنسر کے کئی مراحل طے کرتا ہے ،مگر لگتا ایسے ہے کہ نہ تو مسودے پر کسی نے اعتراض کیا ، نہ ہی ریکارڈنگ کے وقت کسی کو یہ ہوش آیا کہ پروگرام نشر ہونے کے بعد اس کے کیانتائج نکل سکتے ہیں اورنہ ہی جانچ پرکھ کر نے والے یاوالوں نے اس پروگرام کے مضمرات پر غور کیا ، بلکہ ان سب نے پختونوں کی توہین پر مبنی شاعری سے خود بھی بھر پورحظ اٹھا یا ، اس لئے صرف پروڈیوسر سے وضاحتی خط کے ذریعے معمول کی کارروائی سے یہی مقصود ہے کہ بس خانہ پری کیلئے صرف ایک شخص سے پوچھ گچھ کی کارروائی کے ذریعے اس معاملے کو آگے چل کر دبا دیا جائے اور معاملے کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر کے سب کچھ بھول بھال دیا جائے یا زیادہ سے زیادہ متعلقہ پروڈیوسر کو ایک وارننگ جاری کر کے معاملہ ختم کر دیا جائے ۔ حالانکہ اس کی ذمہ داری صرف پروڈیوسر پر نہیں بلکہ سکرپٹ ایڈیٹر ، پروگرام منیجر ، پریویوکمیٹی کے ارکان اور پھر آگے جا کر جنرل منیجر پر عاید ہوتی ہے ، مگر اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے دماغ اس بات پر مصر نظر آتے ہیں کہ جن کی توہین کی گئی ہے وہ چند روز شور مچا کر بالآخر خاموش ہوجائیں گے ، اس لئے گزشتہ کالم میں ، یہی عرض کر چکا ہوں کہ جو لوگ ایک شخص (شاعر) کی بد تمیزی اور بد اخلاقی کے جواب میں اس کی نسل کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کر کے غصے میں اندھے ہورہے ہیں ، انہیں اپنے رویئے پر نظر ثانی کر کے ایسی کوئی حرکت نہیں کرنی چاہیئے کہ اس شاعر اور جواب میں اپنے جذبات کے اندھے پن کا اظہار کرنے والوں میں کوئی فرق دکھائی نہ دے ، کیونکہ جو لوگ اس پروگرام کو نشر کر نے کے ذمہ دار ہیں وہ یہی تو چاہتے ہیں کہ پختون اپنی عادت کے مطابق مشتعل ہو کر اپنے جذبات کا اظہار تو کرتے رہیں مگر اس واقعہ کے ذمہ داروں کی جانب سے ان کی توجہ بالآخر ان کے جذبات کے سمندر میں بہہ کر ہٹ جائے اور وہ اپنے ان لوگوں کو جو پختونوں کی توہین میں شعوری طور پر (جی ہاں شعوری طور پر) ملوث ہیں ان کو بچا لیا جائے ،
بہت بھروسہ تھا ہم کو عدیل اپنو ں کا
ہمارے کام تو آئی وفاکسی کی نہیں
جی ہاں ، ہمیں اپنے ان لیڈروں پر جو دن رات پختونوں کے حقوق کے بلند وبانگ نعرے لگا کر انہیں اپنے پیچھے لگائے رکھتے ہیں ، ان سے ووٹ لیکر ان پر حکمرانی کرتے ہیں ، اس واقعے کے بعد کیسے بھروسہ رہ سکتا ہے ،میں واحد کالم نگار ہوں جس نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام مذاق رات میں عجیب و غریب ہئیت کذائی پر مبنی پختون کا کردار پیش کرنے پر شدید اعتراضات اٹھائے ، بہت عرصے تک وہ کردار پروگرام سے نکال دیا گیا تھا مگر گزشتہ رات (بدھ 5جولائی ) جب ایک پشتون گلوکارہ گل پانٹر ہ اس پروگرام کا حصہ تھی ، ایک بار پھر اس کردار کو شامل کر کے پختونوں کی ثقافت کا مذاق اڑایا گیا ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عام پختون اس قسم کا لباس پہنتے اور ایسی زبان میں اردو بولتے ہیں جیسا کہ اس کردار کے ساتھ نتھی کیا جارہا ہے ؟ پیمرا کہا ں ہے ؟ وہ اس قسم کی حرکتوں کا نوٹس لیکر ان چینلز کو پختونوں کی توہین کو بند کرانے کے اقدام کیوں نہیں اٹھاتی ؟اس لئے میں پختون برادری سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ جذبات کی رو میں بہہ کر کسی کی توہین نہ کریں بلکہ اپنی توہین کے اسباب ختم کرنے پر توجہ دیتے ہوئے ان لوگوں کے خلاف یک آواز ہو کر اپنی قوت کا مظاہرہ کریں جو اپنی حرکتوں سے ملک میں نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں ۔

اداریہ