Daily Mashriq

بھارت اسرائیل تعلقات ماضی اور مستقبل

بھارت اسرائیل تعلقات ماضی اور مستقبل

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا تین روزہ دورہ کیا ۔اس دورے سے جہاں اسلحے کی خریداری ،توانائی اور خلاء سمیت بہت سے شعبوں میں تعاون کے معاہدات کے ذریعے دونوں ملکوں نے مستقبل میں تعلقات کو نئی بلندیوں اور گہرائیوںکی سمت لے جانے کی بنیاد ڈالی وہیں ماضی کی راکھ سے کچھ ایسی چنگاریاں بھی برآمد ہوئیں جو دونوں ملکوں کے گہرے تعلقات اور مشترکہ مقاصد کی کہانی سنارہی ہیں ۔جو بتا رہی ہیں کہ تعلقات کی آگ بہت خاموشی اور دھیمے شعلوں میں دونوں طرف اندر ہی اندر بھڑکتی رہی ہے اور صرف عرب ملکوں کو خوش کرنے اور شیشے میں اُتارنے کے لئے بھارت اس معاملے کو خفیہ رکھنے کی حکمت عملی اپنائے رہا ۔بھارت نے اس پالیسی سے عرب شیوخ اور سوشلسٹ عرب لیڈروں کو اپنے پیچھے لگائے رکھا اور یہ عرب لیڈر پاکستان کو امریکہ کا حامی اور فلسطین کاز کا مخالف سمجھ کر بھارت پر صدقے واری ہوتے رہے۔''السید نہرو''کہتے ہوئے ان کی زبانیں نہیں تھکتی تھیں۔ماضی کی راکھ سے برآمد ہونے والی انہی چنگاریوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ''یہود وہنود ''گٹھ جوڑ کی جو بات ہوتی رہی بے وزن نہیں تھی حالانکہ اسی ملک میں ایک لبرل طبقہ اس اصطلاح کا مذاق اُڑاتا رہا مگر دہلی سے اس اصطلاح کی حقانیت اور صداقت کی گواہی میں ایک واقف حال کی آواز سامنے آئی ہے۔مودی کے دورے کو اس انداز سے ترتیب دیا گیا تھا کہ یہ محض ایک تجارتی اور سفارتی دورہ نہ رہے بلکہ اس پر مشترکہ دشمن اور مشترکہ ثقافت کا ایک رنگ بھی غالب رہے ۔اس کا اظہار اسرائیل کے ایک اخبار نے یہ کہہ کر کیا کہ اسرائیل اور بھارت دونوں مشکل جغرافیائی محل وقوع کے حامل ہیں۔سیدھے لفظوں میں کہا گیا کہ دونوں کے دائیں بائیں مسلمان ممالک اور آبادیاں اور دونوں کے ساتھ مسلمان ملکوں کی کھٹ پھٹ چل رہی ہے۔عمومی طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات سردجنگ کے خاتمے کے بعد شروع ہوئے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے عہد میں دوستی اور تعلق میں تیزی آگئی ۔ 1990میں جب کشمیر میں مسلح جدوجہد ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہی تھی حریت پسندوں کے ایک گروپ نے جھیل ڈل پر تیرتے ایک ایسے شکاری گروہ پر حملہ کیا تھا جس میں اسرائیلی سیاحوں کے بھیس میں موساد کے لوگ تھے ۔ان کمانڈوز نے بہت مہارت کے ساتھ حریت پسندوں کا مقابلہ کیا تھا ۔نریندر مودی کے دورہ ٔ اسرائیل کے موقع پر بھارت کے سابق کیبنٹ سیکرٹری دیالابالا چندرن کا ایک اہم معلوماتی مضمون انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا ہے ۔مسٹر چندرن نے بظاہر بی جے پی کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کی معمار صرف وہی نہیں بلکہ ان تعلقات کی جڑیں ماضی میں پیوست ہیںاور ان تعلقات کی ابتدا فی الحقیقت کانگریس کے دور میں ہوئی ہے ۔
مسٹر چندرن لکھتے ہیں کہ بھارت نے 1950ء میں ہی اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا مگر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات قونصلر سطح تک محدود رہے۔کانگریسی وزیر اعظم نرسہمارائو کے دور میں 1992ئمیں دونوں ملکوں میں سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔بی جے پی دونوں ملکوں میں سیکورٹی تعلقات کے لئے بے تاب رہی۔مسٹر چندرن لکھتے ہیں کہ اسرائیل اور بھارت کے خفیہ تعلقات اندراگاندھی کے دور میں قائم ہوئے۔راجیو گاندھی نے ان تعلقات کو مضبوط کیا ۔ یہ وہ دور تھا جب موساد کے چیف دہلی پہنچ کر براہ راست اندرا گاندھی سے ملتا تھا ۔مسٹر چندرن کے مطابق 1982ء سے 1989تک موساد کے چیف رہنے والے لوہوم ایڈمولی جب دہلی آئے تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ ستر کی دہائی میں بھی یہ عہدہ سنبھالنے سے بہت پہلے بھارت آتے رہے ہیں اور وزیر اعظم اندراگاندھی سے ملتے رہے ہیں ۔اسی طرح موساد کا چیف دہلی آکر وزیر اعظم وی پی سنگھ تک با آسانی پہنچ سکتا تھا ۔گوکہ چندرن نے اندراگاندھی کے ساتھ ملاقاتوں کے مقصد کی تفصیل نہیں بتائی مگر بین السطور وہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں دونوں ملکوں کے تعاون کی بات کررہے ہیںیا پھر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف کسی مشترکہ منصوبہ بندی کا ذکر کرنا چاہتے ہیں ۔چندرن کے مطابق 2000میں ایل کے ایڈوانی نے وزیر داخلہ کی حیثیت سے اسرائیل کا دورہ کیا ۔اس دورے کا انعقاد کرانے میں اس وقت کے روسی وزیر داخلہ ولادی میرپوٹن کا کردار بھی تھا کیونکہ تینوں ملکوں کو ایک جیسے چیلنج کا سامنا تھا ۔مسٹر چندرن نے اس مشترکہ چیلنج کا نام تو نہیں لیا مگر صاف دکھائی دیتا ہے کہ روس کو چیچنیا ،بھارت کو کشمیر اور اسرائیل کو فلسطین کی مشکل درپیش تھی اور تینوں ان الگ تحریکوں کو ایک مائنڈ سیٹ قرار دے کر ان سے مشترکہ حکمت عملی کے تحت نمٹنا چاہتے تھے ۔بھارت کے ایک بیوروکریٹ کی طرف سے اسرائیل اور بھارت کے تعلقات کی داستان چشم کشا ہے۔دونوں ممالک کس طرح مختلف مواقع پر پاکستان کے خلاف درپردہ تعاون کرتے رہے ہیں۔کشمیر میں آج بھی بھارت جو کچھ کر رہا ہے اسرائیل ماڈل ہے۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اسرائیل کے اسلحے اور ذہن سے بھی پوری مدد حاصل کی جارہی ہے ۔گولان کی پہاڑیوں پر چوکسی اور نگرانی کے نظام سے غزہ کی وادیوں میں لگی باڑھ تک بھارت نے کشمیر میں ہر قدم اسرائیل کی تقلید اور راہنمائی میں اُٹھایا ہے ۔اب دونوں میں ایک قدر مشترک بھارت کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنر شپ ہے ۔دنیا کے صرف دوملکو ں بھارت اور اسرائیل کو امریکہ کے اس قدر مقربین کا رتبہ حاصل ہے ۔یہ مشترکہ سرپرستی دونوں کے درمیان تعلقات کو گہرا کرنے کا ایک اہم سبب ہے۔

اداریہ