Daily Mashriq

مسلم قومیت

مسلم قومیت

آج مناسب تعلیم و تربیت اور عصری علوم سے آگاہی ہماری بنیادی ضرورت ہے دنیا کی پڑھی لکھی قوموں کی صف میں سر اٹھا کر کھڑے ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے تعلیم نظام تعلیم کو بہتر سے بہتر بنائیں اپنے تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں اپنے حالات اپنی ضرورتوں اور وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا تعلیمی نصاب ترتیب دیں نصاب بناتے وقت دین، سائنس و ٹیکنالوجی اخلاقیات ادب اور اپنی تہذیب و ثقافت کو مدنظر رکھیں تعلیمی نصاب میں مسلم قومیت کے تصور کو اجاگر کیا جائے اور پاکستان سے محبت اور پاکستانیت کوفروغ دینے کی کوشش کی جائے کیونکہ جب تک ہمارے اندر ایک مضبوط اور متحدقوم کا تصور پیدا نہیں ہوگا ہمارے لیے دنیا کی دوڑ میں آگے بڑھنا ناممکن ہے ہماری بقا پاکستان سے محبت اور مسلم قومیت کے تصور سے وابستہ ہے ہم سب سے پہلے مسلمان اور پاکستانی اور پھر کچھ اورہیں ۔اور یہی وہ صحیح تصور ہے جو دور رسالتۖ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں مسلمانوں کے اتحادو اتفاق اورمضبوطی کا سبب تھا لوگوں نے رنگ و نسل کی تفریق کو مٹادیا تھا ہر قبیلہ مسلمان کہلوانے پر فخر محسوس کرتا تھا ۔قرآن پاک میں بھی اللہ پاک فرماتا ہے قبائل تو صرف تعارف کے لیے ہیں۔ دوسروں کی تقلید کی روش اس حوالے سے بھی ہمارے لیے زہر قاتل کا درجہ رکھتی ہے کہ اس میں انسان اپنی سوچ فکر و تدبر اور مشاہدے کو فراموش کر دیتا ہے اور باہر سے آئی ہوئی چیزوں کو بلا سوچے سمجھے قبول کرنے لگتا ہے فطرت کی تسخیر تو اسی وقت ممکن ہے جب تدبرو تفکر سے کام لیا جائے اور اس تدبر ہی کی مدد سے انسانی ذہن حقیقت اشیاء کا ادراک کرسکتا ہے۔ قرآن پاک میں فطرت کے مشاہدے پر بار بار زور دیا گیا ہے اور یہی حقیقی علم ہے ہم نے فطرت کا کتنا مشاہدہ کیا ہے ؟ ہم نے قرآن پاک کی تعلیمات کو فراموش کردیا ہے جو کچھ ہم نے کرنا تھا وہ غیروں نے کرڈالا اس چند روزہ حیات فانی میں ہم نے کائنات کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کرنا تھا خالق کائنات کے سامنے سرخرو ہونا تھا لیکن ہم مسائل میں الجھ کر رہ گئے مقاصد حیات سے غافل ہوگئے کیا ہم اپنے موجودہ تعلیمی نظام کی غرض و غایت سے مطمئن ہیں؟ کیا یہ نظام ایسے نوجوان پیدا کررہا ہے جو اشیاء کی حقیقت کا علم رکھتے ہوں؟جن کے سامنے مقاصد حیات واضح ہوں ؟جو مسلم قومیت کے تصور کے حامی ہوں ؟پاکستان کی محبت جن کی نس نس میں رچی بسی ہوئی ہو؟ جن کی پہلی ترجیح اسلام کی بالادستی اور پاکستان کی تعمیر و ترقی ہو؟ یا پھر ہم گلی گلی چھوٹے چھوٹے انگلش میڈیم سکول چھوٹے بڑے گھروں میں کھول کر بیٹھ گئے ہیں جن میں غیر تربیت یافتہ استاد اور استانیاں انتہائی کم تنخواہ پر ملازمت کرتے ہیں ان سکولوں کا معیار انتہائی ناقص ہے حکومت سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس لیے خاموش رہتی ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے اس جم غفیر میں سرکاری سکولوں میں سب بچوں کو کھپانا ناممکن ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے سکولوں کے علاوہ وہ ادارے یا سکول و کالج ہیں جو بڑی بھاری فیسوں کے عوض تعلیم دیتے ہیں ایسے اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ باہر جاکر تعلیم حاصل کرتے ہیں ان اداروں کا وجود اس حوالے سے خوش آئند ہے کہ ہمارے ہاں ایسے نوجوان پیدا ہورہے ہیں جو عصری علوم پر مکمل گرفت رکھتے ہیں لیکن ان اداروں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی تہذیب و ثقافت سے ناآشنا رہتے ہیں ۔یہ طلبہ پاکستانی طرز زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں اسی لیے جب یہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں یا اقتدار میں آتے ہیں تو انہیں پاکستانی عوام کے مسائل کا ادراک نہیں ہوتا انہیں عوامی نفسیات سمجھنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں ایسے حالات میں ایسے اداروں کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو پاکستانی تہذیب وثقافت سے باخبر رکھنے کا اہم فریضہ سر انجام دیں۔ مسلم قومیت کا تصور ان پر واضح کریں اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دیں۔انسان دنیا میں جتنی بھی ترقی کرلے جہاں بھی چلا جائے ایک دن اپنے گھر ضرور واپس آتا ہے اپنی زمین میں انسان کی جڑیں ہوتی ہیں اور انسان کی سچی عزت اپنے ہی گھر میں ہوتی ہے اپنے گھر اپنے وطن اپنے پاکستان کی مضبوطی ہمارے نوجوان کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے ایک ایسی نسل کو پروان چڑھانا ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے جس کا دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہو جو صوبائی تعصب سے پاک ہو جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کا گہرا ادراک رکھتی ہو جو اپنی زبان اپنی تہذیب و ثقافت اپنی اقدار کو اسلامی تعلیمات پر قربان کرنے والی ہو جس کا رول ماڈل نبی پاکۖ کی ذات اقدس ہوجو کسی بھی مسلمان سے نسل کی بنا پر نفرت نہ کرے یعنی نسلی منافرت سے پاک ہو اگر ہم ایسی نسل پروان چڑھانے میں کامیاب ہوسکے تو یقین کیجیے پاکستان کی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات بھی نہیں ہوگی۔

اداریہ