دینی سکالروں کی دنیا داری

دینی سکالروں کی دنیا داری

پاکستان کی سیاسی اخلاقیات کی جو تنزلی 1977ء میں بھٹو مخالف قومی اتحاد کی تحریک سے شروع ہوئی تھی وہ آج 40سال بعد بھی جاری و ساری ہے۔ میرے ہمزاد فقیر راحموں اس کا ذمہ دار ان مجاہدین اسلام کو ٹھہراتے ہیں جنہوں نے اپنی ''شرعی'' صحافت کو جواز دینے کے لئے بھٹو صاحب کی مرحوم والدہ کی کردار کشی کی۔ لیکن ہم سب سیاسی اخلاقیات کی تنزلی اور بڑھتے ہوئے فکری بانجھ پن کاتجزیہ کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کی بنیادی ذمہ داری سیاست کو کاروبار بنانے والوں کے ساتھ سیاسی مخالفین کو دبائو میں لانے کے لئے مذہب کو ہتھیار بنانے والوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ہر دو طرح کے لوگوں نے پچھلے چالیس برسوں کے دوران ہا ہا کاری مچا رکھی ہے اس کے نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ اس معاشرے کو ایسے ہی اہل دانش اور فہمیدہ لوگوں نے بھی بگاڑنے میں کسر نہیں چھوڑی جو چاہتے تو اپنے قلم سے درست سمت رہنمائی کرسکتے تھے۔ جناب خورشید ندیم اور طفیل ہاشمی ان صاحبان علم میں ہیں جن سے ہم ایسے طالب علم بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ مگر کیا ان دونوں صاحبان علم نے کبھی لمحہ بھر کے لئے یہ نہیں سوچا کہ وہ محض عمران سے اختلاف اور پیپلز پارٹی سے پرانی نفرت کے چسکے میں بد عنوانیوں کے معاملات میں تحقیقات کا سامنا کرتے حکمران خاندان کے حق میں جو تاویلات پیش کر رہے ہیں اس سے ان کی علمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔بہت عجیب صورتحال ہے سارے کمرشل لبرل اور مذہبی تاجروں کی اکثریت فی الوقت جاتی امرا کے دستر خوان پر شکم سیری میں مصروف ہے۔ شریف خاندان کی 1930ء کے زمانے کی دولت مندی کے ایسے ایسے قصے ڈھونڈ کے لا رہے ہیں یار لوگ جوخود شریف خاندان کے علم میں بھی نہیں۔ ہم سے طالب علم جو تاریخ پر سوال اٹھاتے ہوئے ہمیشہ یہ عرض کرتے ہیں کہ کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے حکمران خاندانوں کی تاریخ کو اس مذہب کی تاریخ کے طور پر پیش کرنا اور پھر مذہب پر اعتراض سے تسکین پانا درست نہیں۔
ہمارے یہ سنجیدہ صاحبان علم آخر شریفین کی محبت کے اسیر کیوں ہیں؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ فہمی اعتبار سے وہ آج بھی تیسرے مارشل لاء کے بانی جنرل ضیاء الحق کی محبت میں گرفتار ہیں۔ یہی وہ وجہ ہے کہ انہیں جنرل موصوف کی پریشانی عزیز ہے۔ فیس بکی مجاہدین کی طرح بے تکے الزامات ہمیں مرغوب نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ ''بچہ جمہورا'' ٹائپ جس قسم کی قصیدہ خوانی میں جتی ہوئی ہے' اس سے گھن آتی ہے۔ان سطور میں جناب عمران خان کے کارکنوں کی زبان دانی پر اعتراض کرتا رہا ہوں اور مسلم لیگ(ن) پر بھی۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ایک جماعت خاندانی اقتدار کو دوام دینے میں مصروف ہے اس کے ملازمین اور بستہ برداروں کی فہم سمجھ میں آتی ہے لیکن اگر عمران خان کے کارکن یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا طریقہ درست ہے تو ان کی مرضی۔ پر یہ حقیقت انہیں بھی مد نظر رکھنا ہوگی کہ اخلاقی اقدار کی پاسداری اور جمہوریت ہی اس ملک کا مستقبل ہے۔ معاف کیجئے گا جو لوگ موجودہ حکمران طبقات کو جمہوریت کی علامت سمجھتے ہیں ان سے اتفاق ممکن نہیں۔ شریف فیملی کو جمہوریت اس وقت یاد آتی ہے جب اسے مسائل کا سامنا ہو۔ مثلاً حال ہی میں وزیر اعظم نے کہا ہے '' ذرا جے آئی ٹی کا مسئلہ حل ہو جائے دھرنے والوں سے نمٹ لیں گے''۔ دھمکی ہے اس بیان میں اور یہ بھی کہ لیگیوں کو اعصاب اور زبان پر کنٹرول نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ سازش یا سازشیں کون کر رہا ہے؟ فوج' عدالت کوئی بیرونی قوت۔ تو کیا جو مالی بے قاعدگیاں ہوئیں ان سے صرف نظر کرلیاجائے؟ جمہوریت پر غیر متزلزل یقین رکھنے کے باوجود طبقاتی نظام کے زہر کو جمہوریت کے طور پر محض اس لئے قبول کرلیا جائے کہ نون لیگ اپنے خلاف ہوئے معاملات کو جمہوریت کے خلاف سازش سمجھتی ہے۔ جناب نواز شریف کو سمجھنا ہوگا کہ جو کچھ انہوں نے کہا وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز شخص کو روا نہیں۔ دھمکی دیتے وقت وہ یہ بھول گئے کہ احتساب 22کروڑ لوگ چاہتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ پچھلے 70برسوں کے دوران ایک دو حکمرانوں کے سوا سبھی نے سماجی روایات اور اخلاقی اقدار کو روندنے میں فخرمحسوس کیا ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے جو کمرشل لبرل اور مذہبی تاجران انہیں جمہوریت کا نشان ترقی کی ضمانت اور دیانت و شرافت کی علامت بنا کر پیش کر رہے ہیں ان کا مسئلہ بچہ جمہورا سا ہے ۔ بچہ جمہورا کئی برس تک صحافت کے ساتھ ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز رہے ۔ ان دنوں اس اعلیٰ عہدے پر ایک اور درباری فائز ہے ۔ لمحہ بھر کے لئے اگر وہ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیںکہ کیا مالیاتی بد عنوانیوں کے الزام کی زد میں آئے خاندان کو فرشتہ ثابت کرکے وہ صحافت کی کوئی خدمت کر رہے ہیں تو جواب یقینا یہ ہوگا کہ صحافت کے ساتھ اعلیٰ سرکاری منصب کے جھولے کس اصول کے تحت درست تھے ۔ جانے دیجئے دنیا داروں سے کیا شکوہ ۔ یہاں فہم دین کے حوالے سے خاص شناخت رکھنے والے دیندار جس روش پر گامزن ہیں ان پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے ۔ فقیر راحموں کہتے ہیں ہٹلر کے پاس ایک گوئبلز تھا نواز شریف کو سہولت یہ ہے کہ انہیں گوئبلز کی ایک پوری جماعت دستیاب ہے اور وہ رات کو دن ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔ صدا فسوس کہ دینی سکالرز کی شہرت رکھنے والے محترم حضرات بھی کمرشل لبرل کی سی خواہشوں کے اسیر ہوگئے ہیں ۔

اداریہ