Daily Mashriq


میاں نواز شریف کی واپسی

میاں نواز شریف کی واپسی

اس امید پر کہ لندن میں زیرِ علاج بیگم کلثوم نواز کو دو تین دن میں ہوش آجائے گا قائد مسلم لیگ ن نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے 13جولائی کو پاکستان آنے کا اعلان کر دیا ہے۔ میاں صاحب اور مریم نواز نے دل پر جس بوجھ کے ساتھ یہ فیصلہ کیا ہے اسے ان کے سوا اور کون محسوس کر سکتا ہے لیکن میاں صاحب کی صدر مشرف کے دور میں گرفتاری کے بعد جس طرح بیگم صاحبہ نے پارٹی کو فعال رکھنے میں کردار ادا کیا تھا اس کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہوش مند ہو جانے کے بعد بیگم صاحبہ بھی شوہر اور بیٹی کے اس فیصلہ سے اتفاق کریں گی کیونکہ شریف خاندان کا سب سے بڑا اثاثہ مسلم لیگ ن ہے جو اِن کی عزت ‘ شہرت کی ضمانت ہے۔ احتساب عدالت کے فیصلے میں نواز شریف اور مریم نواز کو قید اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد مختلف تجزیہ کار کہہ رہے تھے کہ اس سے مسلم لیگ ن کا گراف نیچے آیا ہے اور میاں صاحب کو مشورہ دیا جاتا رہا ہے کہ انہیں پارٹی کو سیاسی پسپائی سے بچانے کے لیے جلد واپس آ جانا چاہیے۔ اس دوران ان کے بھائی مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے پارٹی کو مقبول عوام رکھنے کے لیے فعال تر ہونے کا اعلان کیا، احتساب عدالت کے فیصلے کو انصاف کا خون قرار دیا اور اسے مسترد کرنے کا اعلان کیا جو ان کی مفاہمت کی سیاست سے آگے کی بات ہے۔ اس سے پہلے نواز شریف مزاحمت کا سیاسی بیانیہ لے کر آگے بڑھتے رہے ہیں اور میاں شہباز شریف مفاہمت اور صلح کل کے بیانیہ کے ساتھ پارٹی کی کارکردگی پر عوام کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف کی مفاہمت کی پالیسی میاں نواز شریف کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ۔ صاف نظر آتا ہے کہ ایک طرف میاں نواز شریف مزاحمت اور دلیری کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور دوسری طرف شہباز شریف پارٹی کی کارکردگی پر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن بیگم کلثوم نواز کی علالت میں شدت کے باعث میاں نواز شریف کو لندن میں قیام کو طویل کرنا پڑا۔ تاہم انہوں نے مزاحمت کا سٹانس برقرار رکھا اور کہا کہ وہ عدالت کے کمرے میں کھڑے ہو کر مقدمے کا فیصلہ سننے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ فیصلہ کیا ہو سکتا تھا اس کے بارے میں میاں نواز شریف سے بہتر کسی کو اندازہ نہیں ہو سکتا ۔ تاہم میاں نواز شریف اور ان کے ساتھ مریم نواز کے ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے پارٹی انتخابی سیاست میں پسپا ہوتی ہوئی نظر آئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی کی انتخابی سیاست میں نئی جان ڈالنے کے لیے وطن واپس آنے کے بعد وہ مزاحمتی سیاست کو کس قدر آگے بڑھانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ کیا وہ شہباز شریف کی مفاہمتی سیاست کو گہنا دیں گے اور مزاحمتی سیاست کے ذریعے پارٹی کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے؟ یا دونوں کا امتزاج برقرار رکھیں گے؟حمزہ شہباز شریف نے جو چند دن سے ٹی وی کیمروں کی زد سے باہر محسوس کیے جا رہے تھے ، اعلان کیا ہے کہ 13جولائی کو نواز شریف اور مریم نواز کا لاہور ایئر پورٹ پر شاندار استقبال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ والد شہباز شریف بھی ان کے ساتھ ایئر پورٹ پر موجود ہوں گے اور تمام پارٹی ٹکٹ ہولڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ پہنچیں۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے شہباز شریف نے مفاہمتی سیاست کا مستقبل نواز شریف کے سپرد کرنے کی طرف پیش رفت کی ہے۔ یوں بھی انتخابات میں پارٹی کاجو بھی مستقبل ہوا اس کا کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ شہباز شریف اپنے اوپر نہیں لینا چاہیں گے۔ دوسری طرف نواز شریف ‘ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ان کی اپیلیں بھی آج دائر کر دی جائیں گی تاہم بعض قانون دانوں کا خیال ہے کہ نیب کے قانون کے مطابق پہلے ملزموں کو اپنے آپ کو عدالت کے حوالے کرنا پڑے گایعنی عدالت میں پیشی کے بغیر اپیلوں کی سماعت نہیں ہو سکے گی جب کہ وارنٹ گرفتاری تیار کیے جا چکے ہیں۔ حمزہ شہباز نے کارکنوں کو لاہور ایئرپورٹ آنے کی ہدایت کی ہے۔ ظاہر ہے یہ بھی میاں نواز شریف کے مشورے ہی سے ہوئی ہو گی کہ وہ اسلام آباد کی بجائے لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے ۔ سیکورٹی انتظامات بھی سخت ہوں گے۔ اگر نواز شریف اور مریم نواز کو طیارے ہی میں گرفتار کیا جاتا ہے اور طیارے کے باہر جوشیلے کارکنوں کا بھاری اجتماع اس گرفتاری پر احتجاج کرتا ہے تو صورت حال خراب ہو سکتی ہے، خون خرابے تک بھی جا سکتی ہے۔ یہ نواز شریف کا سخت امتحان ہو گا کہ وہ استقبال کرنے والوں کے جوش و خروش کے تابع مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا مزاحمت کا بیانیہ اور مفاہمت کی سیاست کو ساتھ ساتھ چلانے کی حکمت عملی پر قائم رہتے ہیں۔ ان کے پاس یہ بھی آپشن ہو گا کہ وہ انتخابات کے بائی کاٹ کا اعلان کر دیں جو ابھی تک انہوں نے نہیں کیا اور یہ بھی کہ کارکنوں کے اس جوش وخروش کا رخ ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں تک لانے کی طرف موڑ دیں۔ انتخابات کے قریب آتے آتے سیاست میں بڑی گہما گہمی بلکہ گرم بازاری پیدا ہو چکی ہے۔ لیڈر بڑی تیز لائن دے رہے ہیں اور کارکن جوشیلے نعرے لگا رہے ہیں لیکن ووٹر پرامن ماحول ہی میں ووٹ ڈالنے کو ترجیح دیں گے۔ ن لیگ کے پاس جوشیلے کارکن ہیں لیکن ووٹروں میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آتا۔ شہباز شریف جب گزشتہ روز نارووال میں نیب کے فیصلے خلاف تقریر کر رہے تھے انہوں نے حبیب جالب کی ا س مشہور زمانہ نظم کے اشعار بھی ترنم کے ساتھ پڑھے ’’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا‘‘ یہاں تک مجمع کا ردِعمل گو مگو کالگتا تھا لیکن جب انہوں نے اس میں اضافہ کیا اور کہا نواز شریف کے فیصلے کو میں نہیں جانتا‘ میں نہیں مانتا تو مجمع کا ردِعمل شہباز شریف کی توقع کے مطابق تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام ایک حد سے آگے نہیں جانا چاہتے ۔ شہباز شریف جب ن لیگ کی کارکردگی بیان کرتے ہیں تو لوگ سنتے ہیں۔ یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ووٹروں کی ایک تعداد ن لیگ کی کارکردگی کی قائل ہے لیکن ووٹروں کی اس تعداد کو پولنگ سٹیشنوں تک لانے کی ضرورت ہے جو ہنگامہ آرائی کے متوقع ماحول سے اجتناب کرتے ہیں ۔ ایسے ووٹروں کو متحرک کرنے کے لیے گھر گھر جا کر قائل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر سیاسی بلدیاتی انتخابات کرائے تو پیپلز پارٹی کے حامی امیدواروں نے اپنے لیے ’’عوام دوست‘‘ کا لقب چن لیا تھا اور پیپلز پارٹی کے حامیوں نے گھر گھر جا کر انفرادی طور پر ان کے لیے مہم چلائی تھی ۔ ’’عوام دوست‘‘ امیدواروں کی ایک بڑی تعداد منتخب ہو گئی تھی۔ لیکن میاں نواز شریف کے لاہور ایئر پورٹ کے انتخاب اور حمزہ شہباز کی کارکنوں کو فقید المثال استقبال کی کال سے لگتا ہے کہ میاں نواز شریف نے برنک مین شپ کی پالیسی اپنا لی ہے ۔ وہ نگران انتظامیہ کو ایک بڑا چیلنج پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ لاہور ایئرپورٹ پر میاں نواز شریف کے استقبال سے ملک کی آئندہ سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کے امکانات ہیں۔

متعلقہ خبریں