Daily Mashriq


ووٹر،امیدوار اور منشور

ووٹر،امیدوار اور منشور

روز بروز مختلف انتخابی حلقوں سے خبریں آتی ہیں کہ لوگوں نے امیدوار کو گھیر لیا کہ پچھلے پانچ سال کے دوران حلقے میں کیوں نہ آئے اور اب ووٹ مانگنے کیوں آ گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو امیدواروں سے سماجی تعلقات بطریق احسن نہ نبھانے کا شکوہ ہے کہ ان کے نمائندے ان کی خوشی غمی میں کیوں شریک نہیں ہوئے۔ ان کی خستہ حال گلیوں اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کا مداوا کیوں نہ کیا۔ حالانکہ امیدواروں سے اگر وہ دوبارہ ووٹ لینے آتے ہیں تو یہ سوال ہونے چاہئیں کہ انہوں نے اسمبلیوں کے کتنے اجلاسوں میں شرکت کی ۔ کتنے منٹ کی تقریریں کیں اور حکومتوں کی پالیسیاں بنانے ‘ عوام کے قومی مسائل کے حل کے لیے کیا کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر امیدوار کی پارٹی ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے ازالے کے لیے کیا پروگرام رکھتی ہے۔ ملکی قرضوں کا جو بوجھ ہے اسے اتارنے کے لیے کیا منصوبہ رکھتی ہے۔ ملک کے ایک کروڑ بچے ایسے ہیں جنہیں سکول میسر نہیں ان کے لیے سیاسی پارٹیاں کیا اور کب تک کرنا چاہتی ہیں۔ ملک میں نئے ڈیم بنانے کی اشد ضرورت ہے ان کے لیے کیا منصوبے ہیں اور ان کے لیے فنڈزکہاں سے آئیں گے۔پاکستان کا جو اربوں روپیہ ملک سے باہر ہے اسے ملک کے اندر کاروبار میں لگانے کے لیے کیا حکمت عملی ہو گی ۔ ملک میں صنعتوں کا فروغ جو رُک گیا ہے مثال کے طور پر ٹیکسٹائل کی صنعت بیرون ملک منتقل ہو چکی ہے اس کے احیاء کے لیے کیا طریق کار اپنایا جائے گا۔ ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر سال چالیس لاکھ نوجوانوں کے لیے روزگار کی ضرورت ہوتی ہے جو امیدوار ووٹ لینے آتے ہیں ان سے پوچھنا چاہیے کہ روزگار کے نئے مواقع کیسے پیدا کیے جائیں گے ۔ پاکستان سٹیل ملز اور پی آئی اے مسلسل گھاٹے میں کیوں جا رہی ہیں ‘ ان کو ان کی ماضی کی اعلیٰ کارکردگی کی طرف لانے کے لیے کیا منصوبے ہیں؟ ملک میں کتنے نئے خاندان وجود میں آتے ہیں جن کے لیے نئے گھروں کی ضرورت ہوتی ہے ‘ اس حوالے سے سیاسی پارٹیوں کے منشور کیا کہتے ہیں۔حکمرانوں کا منصب یہ نہیں کہ وہ کسی مظلوم کے سر پر ہاتھ رکھ دیں یا کسی آفت زدہ علاقے کے متاثرین سے وعدے وعید پر مبنی خطاب کریں ۔ حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ ظالم کو قانون کی گرفت میں لانے کا بندوبست کریں۔ آفت زدہ علاقوں کی بحالی پر مامور اہل کاروں کی اعلیٰ کارکردگی یقینی بنائیں ۔ سیاسی پارٹیوں نے عین انتخابات کے نزدیک منشور جاری کیے ہیں جب انتخابی تقریروں کے موسم میں ان پر غور کرنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ بہر حال یہ منشور سیاسی پارٹیوں کے وعدے ہیں جن پر ان کی کارکردگی کو تولا جا ئے گا۔ منتخب ہونے کے بعد نمائندے شاید اب بھی کئی کئی ماہ علاقے کا دورہ نہ کریں لیکن ان کی پارٹیوں کے کارکن تو علاقوں ہی میں رہیں گے ان سے ان کی پارٹی کے منشور پر عملدرآمد کا حساب لینا چاہیے۔

متعلقہ خبریں