Daily Mashriq


روشن دل ویراں ہے محبت سے وطن کی

روشن دل ویراں ہے محبت سے وطن کی

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کیلئے قائم کئے گئے فنڈزکے حوالے سے ریمارکس دیئے ہیں کہ ڈیموں کی تعمیر کیلئے جمع فنڈز پر پہر ا دیا جائے گا ، اور اسے کسی کو بھی کھانے کا موقع نہیں دیں گے ، دونوں ڈیموں کی تعمیر کے فنڈز کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ویب سائیٹ اپ ڈیٹ ہونے سے پتہ چلتا رہے گا کہ فنڈز میں کتنے پیسے جمع ہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں سٹیٹ بنک کو بھی اپنی ویب سائیٹ پر اسی طرح اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کردی ہے ۔ ہم یہ نہیں ہونے دیں گے کہ کمیشن کے لوگ ان فنڈز سے گاڑیاں یا گھر خرید لیں ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خود چیف جسٹس نے ڈیمز کی تعمیر کیلئے دس لاکھ روپے عطیہ کئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے بھاشا اور مہمند ڈیم کیلئے فنڈز کی فراہمی اور ان فنڈز کی حفاظت کیلئے جو طریقہ کا راختیار کیا ہے اسے فول پروف قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیئے ، دراصل سارا معاملہ نیتوں کا ہے اگر کسی بھی معاملے میں خلوص نیت شامل ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے نتائج اچھے نہ نکلیں ، اس ضمن میں دو واقعات کی جانب توجہ دلانا ضروری ہے اور انہی کی روشنی میں چند تجاویز بھی نہ صرف جناب چیف جسٹس بلکہ وفاقی حکومت کے گوش گزار کرنا بھی لازمی گردانتے ہوئے پیش کرنے کی جسارت کروں گا ۔

ستمبر 1965ء میں پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کے مسئلے پر جنگ چھڑ گئی تھی ، اس سے پہلے رن آف کچھ میں بھی دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ہلکی پھلکی ’’موسیقی ‘‘ نے دونوں جانب کے تعلقات کو کشیدہ کر رکھا تھا ، جو بالآخر جنگ ستمبر کی شکل اختیار کر گیا تھا ۔ اس وقت روس نے توبھارت کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے بھارت کو اسلحے اور جنگی سازوسامان کی ترسیل جاری رکھی جبکہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ سیٹو اور سینٹو معاہدوں کے باوجود پاکستان کی جنگی ضروریات پر پابندی لگادی ، یہاں تک کہ توپوں ، ٹینکوں اور طیاروں کے کل پرزوں کی ترسیل بھی روک دی اور بہانہ بنایا کہ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے اس شرط پر کئے گئے ہیں کہ پاکستان کو اگر کسی کمیونسٹ ملک سے خطرہ لاحق ہوا تو امریکہ اس کا دفاع کر ے گا۔ حالانکہ جب سوویت روس بھارت کی بھر پور امدادجاری رکھے ہوئے تھا تو کیا یہ بالواسطہ کمیونسٹ طاقت کی جانب سے پاکستان کی سا لمیت کیلئے چیلنج نہیں تھا ؟ اس وقت پاکستان کو دوسری جنگ عظیم کے زمانے کے جو ٹینک امریکہ کی جانب سے مہیا کئے گئے تھے ان کا گولہ بارود تو بند ہوچکا تھا اور ان کے ناکارہ ہونے کی صورت میں کوئی متبادل بھی نہیں تھا ، جبکہ چونڈہ کے محاذ پر بھارت نے شرمن ٹینکوں سے یلغار کر دیا تھا جسے ہماری بہادر افواج نے اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر اور شہادت کا جام نوش کر کے روک لیا تھا جو جنگی تاریخ کا ایک نا قابل فراموش واقع ہے ۔ اس کے بعد پاکستان میں دفاعی فنڈز اکٹھا کرنے کیلئے ایک پیسہ ، ایک ٹینک کا جادوئی نعرہ لگایا گیا ، یعنی اگر پاکستان کی ساری آبادی روزانہ ایک پیسہ فی کس دفاعی فنڈز میں جمع کرائے تو ہر روز ایک نیا ٹینک خریدا جا سکتا ہے ، یہ نعرہ اس وقت ایک جنگی استعارہ بن گیا تھا اور لوگوں نے دل کھول کر دفاعی فنڈز میں عطیات جمع کرائے ۔ دوسرا واقعہ مشرقی پاکستان ( موجودہ بنگلہ دیش) میں ہر سال آنے والے طوفان سے حفاظتی تدابیر کے حوالے سے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کئے جانے والا ایک روپے گیلن ( تب لٹر نہیں گیلن کے حساب سے پٹرول ، ڈیزل فروخت کئے جاتے تھے ) سیلاب فنڈ تھا جو بنگلہ دیش کے قیام اور پاکستان سے اس کی علیحدگی کے کئی سال بعد تک وصول کیا جاتا رہا ۔ علاوہ ازیں ملک پر پڑنے والے کسی بھی افتاد کے موقع پر سرکاری ملازمین سے ان کی تنخواہوں سے تدریجی طور پر ایک دن سے لیکر تین دن کے برابر تنخواہوں کی کٹوتی بھی ماضی میں ایک عام سلسلہ رہا ہے اور سب سے اہم بات بجلی بلوں پر ٹی وی لائسنس کے نام پر اس وقت بھی رقوم وصول کر کے ٹی وی کارپوریشن کو ان کی ادائیگی جبکہ ریڈ یو لائسنس کی رقم ڈاک خانوں کے ذریعے بہ زور وصول کی جاتی رہی ہے ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے میری گزارش یہ ہے کہ اگر مرکزی حکومت نہ صرف خود بلکہ صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایات جاری کرے کہ وہ سرکاری ملازمین (کم از کم سکیل گیارہ سے 18تک ایک دن اور 19سے 22سکیل والوں سے دو دن کی تنخواہ کاٹ کر ڈیمز فنڈمیں جمع کرائے جبکہ عوام کو بجلی بلوں میں ہر ماہ صرف ایک روپیہ اضافی وصول کرنے کے احکامات صادر کرے جو اگلے کم از کم پانچ سال تک واجب الادا ہوں تو ہر بل پر صرف ایک روپیہ سے عوام کو فرق بھی نہیں پڑے گامگر اس طرح ہر مہینے ایک معقول رقم اس فنڈمیںشامل ہوتی رہے گی ، اس سے پہلے نیلم جہلم منصوبے کیلئے بھی رقم وصول کی جارہی ہے ۔ اسی طرح بیرون ملک روز گار یا کسی بھی مقصد کیلئے مقیم پاکستانیوں کو ان ڈیمز کیلئے فنڈز میں حصہ ڈالنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے ، پاکستانی نہایت وسیع النظر اور فراخدل لوگ ہیں ، وہ پرائیویٹ اور این جی اوز کی جانب سے مختلف منصوبوں میں دل کھول کر عطیات دیتے رہتے ہیں تو یہ توپھر ملک وقوم کی فلاح وبہبود کے منصوبے ہیں۔ امید ہے وہ ضرور اپنی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عطیات دیں گے بس بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں کو اس ضمن میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے سرگرم ہونا پڑے گا ۔ اگرچہ چیف جسٹس نے فنڈز کی فول پروف مانیٹرنگ کی یقین دہانی کرادی ہے تاہم دودھ کا جلا چھا چھ کو بھی پھونک پھونک کر پینے کی کوشش کرتا ہے اس لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس فنڈز کا حشر بھی قرض اتارو ملک سنوارو والا نہ ہو جائے ۔ بقول چکبست لکھنوی

روشن دل ویراں ہے محبت سے وطن کی

یا جلوہ مہتاب ہے اجڑے ہوئے گھر میں

متعلقہ خبریں