Daily Mashriq


اول تا آخر سب کا احتساب

اول تا آخر سب کا احتساب

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں 10سال قید کی سزا سنائی جبکہ مریم نواز کو7سا ل قید اور مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سنائی جبکہ اس کے علاوہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو 8 ملین پاؤنڈ اور مریم نواز کو 2 ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔ مزید برآں کیپٹن(ر) صفدر اور مریم نواز انتخابات کیلئے نااہل قرار دیئے گئے اور لندن میں پراپرٹیز ضبط کرنے کے حکم بھی صادر کئے گئے۔ عدالت کے مطابق نواز شریف کے اثاثہ جات ان کے اصل اثاثوں سے زیادہ ہے۔ مریم نواز کو ایک سال اضافی قید ایون فیلڈ کے کاعذات میں اپنی طرف سے تبدیلی کی وجہ سے بھی دی گئی۔ شریف خاندان کے چار افراد نواز شریف، مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز کا اس کیس میں نام ہے اور یہ چاروں ابھی برطانیہ میں ہیں۔ نواز شریف، مریم نواز اور ان کے شوہر ریٹائرڈ کیپٹن صفدر پر الزام تھا کہ انہوں نے یہ فلیٹس غیرقانونی پیسوں سے خریدے ہیں جبکہ اس کے برعکس نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد مسلسل دعویٰ کر رہے تھے کہ انہوں نے یہ قانونی طریقے سے خریدے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو یہ ایک اچھا فیصلہ ہے مگر جہاں تک پانامہ سکینڈل میں 435 دیگر پاکستانیوں کانام ہے ان پر بھی سپریم کورٹ میں مقدمہ چلاکر ان سے لوٹی ہوئی رقم واپس لینی چاہئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نواز شریف کے علاوہ 435 افراد کیخلاف جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق کا کیس پہلے سے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ اگر پانامہ سکینڈل میں مزید 435 افراد کیخلاف مقدمہ نہیں چلایا گیا تو اس سے نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) حق بجانب ہوگی کہ صرف نواز شریف اور ان کے خاندان کو نشانہ بنایا گیاہے۔ اگر ہم مزید غور کریں تو وطن عزیز کے وسائل کو نواز شریف اور اس کے علاوہ باقی سیاسی پارٹیوں کے کرپٹ حکمرانوں، قائدین، ماضی کی ملٹری اور سول بیوروکریسی نے بیدردی سے لوٹا ہے اور جن جن نے لوٹ کھسوٹ کی ہے ان کیخلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہئے۔ ملک کا یہ حال اس ملک کے سیاستدانوں اور مشرف جیسے جرنیلوں نے کیا ہے۔ بدقسمتی سے اس ملک میں کروڑوں کی نہیں بلکہ کھربوں کی کرپشن ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس وقت ناگفتہ بہ حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر ہم مزید غور کریں تو پاکستان کو اس وقت چین، جنوبی کوریا، جاپان، ملائیشیا اور دیگر ترقی یافتہ اقوام کی صف میں ہونا چاہئے مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ پاکستان اس وقت 200 ممالک کی فہرست میں سماجی اور اقتصادیاعشاریوں کے لحاظ سے 140نمبر پر ہے اور جنوبی ایشیا کے غریب ممالک میں بھی اقتصادی اور سماجی حیثیت سے سب سے نیچے ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی رینکنگ ان ممالک میں ہے جو غریب ممالک ہیں۔ ان میں ہٹی، نائجیریا وغیرہ شامل ہیں۔ وطن عزیز میں اس وقت غربت، افلاس، بیروزگاری، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ بچوں کی تعلیم پر والدین لاکھوں خرچ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجودبچے پھر بھی روزگار کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اندرون سندھ، پنجاب، قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا میں کچھ علاقوں کی کسمپرسی اور غربت ہمارے سامنے ہے۔ اگر ہم ان علاقوں کے سماجی اقتصادی اعشاریئے دیکھیں تو یہ ناگُفتہ بہ ہیں۔ وہ لیڈر اور قائدین جن کو ہماری وجہ سے نیند نہیں آتی ان کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے۔ اس ملک کے عوام کا بیڑا غرق کرنیوالے تقریباً ہمارے یہ 6 اور 7ہزار کے قریب سیاستدان، اشرافیہ اور ملٹری بیوروکریسی ہے۔ موجودہ عسکری قیادت سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اس ملک کو صحیح ٹریک پر لانے کیلئے کوششیں کرینگے۔ باقی تو اس ملک کے سارے ادارے فیل ہو چکے ہیں۔ مسلح افواج کی تا ریخ میں دو جنرل یعنی راحیل شریف اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف قمر باجوہ ایسے ہیں جنہوں نے نہ صرف دہشتگردی کا قلع قمع کر دیا بلکہ ان دونوں کی ساکھ سابق جنرل سے کافی حد تک اچھی ہے۔

مسلح افواج کی مدد سے پانامہ لیکس اور دوسرے کرپٹ عناصر کیخلاف ایکشن نہیں کیا گیا تو اس سے عوام کا اعتماد اپنے اداروں پر ختم ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے جمع کئے گئے ٹیکس اور وسائل کو بھی لوٹ رہے ہیں اور باہر سے پاکستان کے عوام کے نام پر جو قرضے لیتے ہیں ان کو بھی لوٹ لوٹ کر سوئس بینکوں میں جمع کر رہے ہیں۔ میں پاکستان کے عوام سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ ان سیاستدانوں کے غلام نہ بنیں بلکہ ان سے پوچھیں کہ ہمارے خون پسینے کی کمائی سے جمع کئے گئے ٹیکسوں کو کیوں چوروں کی طرح لوٹتے ہیں۔ ہمیں اب غلامانہ روش چھوڑنی پڑے گی اور ان سیاستدانوں اور کرپٹ عسکری افسرشاہی سے خود حساب لینا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں